کولڈ سٹوریج میں اموات

کولڈ سٹوریج میں اموات

کراچی ائیرپورٹ پر دہشتگردوں کے حملے اور ان کے مقاصد کو ناکام بنانے پر جہاں پاک فوج، رینجرز اور اے ایس ایف کے جوانوں کو خراج عقیدت و تحسین پیش کیا جا رہا ہے وہاں یہ خبر دکھ سے سنی اور پڑھی گئی کہ ایک کارگوکمپنی کے ان سات ملازمین کی بروقت مدد کر کے ان کو بچایا نہیں جاسکا جو ایک کولڈ سٹوریج میں پناہ کے لئے گئے تو پھنس کر رہ گئے، بتایا گیا ہے کہ یہ ساتوں ملازمین جاں بحق ہو گئے اور ان کی میتیوں کی شناخت کا بھی مسئلہ پیدا ہوا۔

اطلاعات کے مطابق دہشتگردوں نے حملہ کیا اورابتدائی مرحلے پر ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس نے ان کو روکا، اس لڑائی میں کچھ افراتفری بھی ہوئی اور کارگو شعبہ کی طرف موجود ملازمین نے اپنی جانیں بچانے کی کوشش کی ایک کارگوکمپنی کے ملازمین نے قریبی کولڈ سٹوریج میں پناہ لی۔ اس کولڈ سٹوریج کو آگ نے پکڑا اور پھر وہ راستہ جو آمدورفت کے لئے تھا دیوار گرنے سے بند ہو گیا۔

یہ ملازم اندر پھنسے ہوئے تھے اور ان کی مدد کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا تھا حکام کی تمام تر توجہ دوسری طرف تھی، اندر پھنسے ملازمین نے موبائل فون کے ذریعے اپنے گھر والوں کو اطلاع دی اور مدد کے لئے کہا جس پر یہ سب لوگ سٹور کے باہر جمع ہو کر چیخ پکار کرتے رہے کہ ان کے پیاروں کو بچایا جائے لیکن انتظامیہ نے توجہ نہ دی اور نہ ہی ملبہ ہٹانے کے لئے کوئی مشینری پہنچی، حتیٰ کہ بحریہ ٹاﺅن کے چیئرمین ملک ریاض حسین نے ٹی وی پروگرام دیکھ کر وہاں موجود رپورٹر وں/اینکر سے خود رابطہ کر کے مشینری کی نوعیت معلوم کی اور بحریہ ٹاﺅن سے مشینری بھیجی۔ اس تمام تر کوشش کے باوجود اندر پھنسے ملازمین میں سے کسی کو بھی نہ بچایا جا سکا اور وہ سب جاں بحق ہو گئے جب راستہ بنایا گیا تو جھلسی ہوئی نعشوں سے واسطہ پڑا، جن کو شناخت کرنے میں مشکل ہوئی اور ڈی این اے ٹیسٹ کا راستہ اختیار کیا گیا۔ بعدازاں بتایا گیا کہ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ہو گئی ہے۔

یوں تو ائیرپورٹ پر حملہ اور ملازمین کے شہید ہونے کا واقعہ ہی بڑا المناک ہے لیکن ان سات افراد کا کولڈ سٹوریج میں پھنس کر رہ جانا، انتظامیہ کی طرف سے بے توجہی کا افسوسناک واقعہ ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ منتظمین حضرات نے دیر سے فیصلہ کیا اور کسی کو بچایا نہ جا سکا اس عرصہ میں انتظامیہ نے تو کسی بھاری مشینری کا انتظام نہ کیا لیکن بحریہ ٹاﺅن سے ملبہ ہٹانے والی مشینیں بھیج دی گئیں، جن کی مدد سے نعشیں ملیں۔ائیرپورٹ پر حملے کا واقعہ ہی افسوسناک اور دہشتگردی کی بدترین مثال ہے۔ تاہم صورتحال کو سنبھالنے میں کردار ادا کرنے والی فورسز کو پورے ملک کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اس میں ایسا حادثہ ہونا اور بھی افسوسناک ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملے کے دوران انتظامی کوتاہی ضرور ہوئی ہے ائیرپورٹ یوں بھی حساس مقام ہے یہاں پہلے سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ہوتی ہیں جو کسی ایمرجنسی کی صورت میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، لیکن یہاں غفلت ہوئی جو اتنے بڑے واقعہ کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اب تو یہی ہونا چاہئے کہ اس صورتحال کی مکمل تحقیقات ہو اور جو جاں بحق ہوئے ہیں ان کے پسماندگان کو معاوضہ ادا کیا جانا چاہئے اور اس میں تاخیر مناسب نہیں۔

مزید : اداریہ