مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو کام سے روکا جا رہا ہے

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو کام سے روکا جا رہا ہے

                                                              سرینگر (اے پی پی) امریکہ محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو مقبوضہ کشمیرمیں اپنے فرائض کی ادائےگی سے روکا جارہا ہے اور انہیں مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجی ہراساں کرر ہے ہیں۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق وادی کشمیر سے شائع ہونے والے ایک روزنامے نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے بھارت کے بارے میں اپنی انسانی حقوق کی رپورٹ میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کے ادارے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو دستاویزی شکل دے چکے ہوتے اگر بھارتی فوجی اور پولیس اہلکاروںنے انہیں ہراساں کیا اور انہیں ایسا کرنے سے روکا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں بعض بین الاقوامی این جی اوز کو اپنے نمائندوں کیلئے ویزوں کے حصول میں مشکلا ت کاسامنا کرنا پڑ ا اور ان کے نمائندوں کو بعض اوقات فوجیوں کی طرف سے ہراساں کیا گیااور پابندیاں عائد کی گئی ۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجی کشمیریوں کو دوران حراست گمشدگی ، قتل عام ، عصمت دری ، جنسی تشدد، اجتماعی گمنام قبروں اور اظہار رائے کی آزادی سلب کرنے جیسے مظالم کا نشانہ بنا رہے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بہت سے مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں کو مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری پامالیوں کی رپورٹیں تیار کرتے وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے مقامی کمیشن کے پاس بھارتی فوجیوں کی طرف کی گئی انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کا کوئی اختیار نہیںہے۔جموںوکشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے کنوینئر خرم پرویز نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا ہے کہ کشمیر میں مختلف بھارتی ایجنسیاں انسانی حقوق کے کارکنوںاور تنظیموںکو ہراساں ،ان پر حملوں اورنمائندوںکے قتل میںملوث ہیں۔ انہوںنے کہا مقبوضہ علاقے میںمقامی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کی خواہشمند انسانی حقوق کی تنظیموں کو ویزے نہیں دیئے جاتے ۔

مزید : عالمی منظر