سٹیٹ بینک نے مائیکرو فنانس بینکوں کے ضوابط میں ترمیم کر دی

سٹیٹ بینک نے مائیکرو فنانس بینکوں کے ضوابط میں ترمیم کر دی

  

کراچی(اے پی پی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مائیکرو فنانس بینکوں کے ضوابط میں ترمیم کر دی۔ منگل کو مرکزی بینک سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مائیکرو فنانس بینکوں کے لئے ترمیم شدہ محتاطیہ ضوابط جاری کئے ہیں، ان ترامیم کا مقصد مائیکرو فنانس بینکوں کے نظم و نسق کے ڈھانچے، تحفظ صارف کے طور طریقوں اور اینٹی منی لانڈرنگ پالیسیوں کو بہتر بنانا ہے۔ فی الوقت ملک میں دس مائیکرو فنانس بینک، غریب اور کم آمدنی والے افراد کو بنیادی مالی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ یہ مائیکرو فنانس بینک بھرپور سرمایہ رکھتے ہیں اور متنوع و مضبوط اسپانسرز کی ملکیت میں ہیں۔ نظر ثانی شدہ ضوابط سے ان مائیکرو فنانس بینکوں کو کاروبار میں حالیہ نمو، تکنیکی اختراعات اور مارکیٹ انفراسٹرکچر میں بہتری کے بعد اپنی کارروائیوں کو بہتر طور پر انجام دینے میں مدد ملے گی۔ ترمیم شدہ ضوابط میں دیگر شعبوں کے علاوہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے کردار و فرائض کا تعین کیا گیا ہے، دو خود مختار ڈائریکٹروں کا تقرر لازمی قرار دیا گیا ہے اور مائیکرو فنانس بینکوں کے اہم ایگزیکٹوز کی تقرری میں فٹ اینڈ پراپر ٹیسٹ کو ضروری ٹھہرایا گیا ہے۔ مائیکرو فنانس بینکوں کے لئے یہ بھی لازمی ہو گا کہ بنیادی مالی خواندگی کے پروگراموں، بہتر شفافیت اور ڈسکلوژر، قرض وصولی کے منصفانہ طریقوں اور شکایت دور کرنے کے م¶ثر مکینزم کے ذریعے اپنی تحفظ ِصارف پالیسیوں کو بہتر بنائیں۔

اسی طرح مائیکرو فنانس بینک جامع اے ایم ایل فریم ورک نافذ کریں گے جس میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کے مقرر کردہ معیاروں کے مطابق صارف کی شناخت اور توثیق کی شرائط، موجودہ اور بہتر ضروری مستعدی، ریکارڈ رکھنا اور نقد و مشکوک لین دین کی رپورٹنگ جیسے شعبے شامل ہیں۔ مزید یہ کہ انتظام خطرہ اور آپریشنز کے شعبوں سے متعلق ہدایات میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق ترمیم شدہ ضوابطی فریم ورک مائیکرو فنانس کے شعبے میں اسٹیٹ بینک کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو وہ طویل مدتی، پائیدار اور نمو کو تحریک دینے والے کاروباری ماڈلز کو فروغ دینے کے لئے کر رہا ہے، اس سے مائیکرو فنانس شعبے کو ملک کے مجموعی بینکاری نظام میں مزید آگے لانے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید :

کامرس -