پولٹری کے خام مال پر درآ مدی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز مسترد

پولٹری کے خام مال پر درآ مدی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز مسترد ...

  

                                            لاہور(کامرس رپورٹر) حالیہ بجٹ میں پولٹری کے خام مال پر درآمدی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی تجویز کو پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے یکسر مسترد کرتے ہوئے ان ٹیکسوں کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، ایسوسی ایشن کے چیئرمین (نارتھ زون) رضا محمود خورسند نے کہا ہے کہ مو جودہ بجٹ میں پولٹری انڈسٹری پر مزیدنئے ٹیکس لاگو کر دیئے گئے ہیں، خام مال کی درآمد پر 5فیصد ڈیوٹی ،سویا بین میل کی درآمد پر 5فیصدڈیوٹی اور5فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا گیا ہے جس سے پولٹری فےڈ کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ اور سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کے باعث پولٹری سیکٹر میں پیداواری لاگت پہلے ہی دیگر ممالک سے زیادہ ہے،جبکہ ترقی یافتہ ممالک صنعتوں کو ان مسائل کا سامنا نہیں ، علاوہ ازیں بیرونی دنیا میں خوراک پر کسی قسم کے ٹیکس نہیں لگائے جاتے۔لیکن پاکستان میںپولٹری انڈسٹری،زراعت ہی کا ایک پہلو ہونے کے باوجود انکم ٹیکس دیتی ہے جبکہ زرعی شعبے پر کسی قسم کا انکم ٹیکس لاگو نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولٹری انڈسٹری لو گوں کو خوراک مہیا کرتی ہے اور اس وقت سب سے سستی خوراک کا ذریعہ ہے جو کہ عام آدمی کو حاصل ہو رہی ہے،پولٹری کے خام مال پر ٹیکس اور ڈیوٹی بڑھانے سے نہ صرف پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا بلکہ انڈوں اور مرغی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا۔اگر حکومت چاہتی ہے کہ عوا م کو سستی خوراک ملے تو پولٹری مصنوعات پر عائد کیا گیا سیلزٹیکس اور ڈیوٹی ختم کی جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پولٹری سیکٹر کا شمار دنیا کی اہم صنعتوں میں ہوتا ہے۔اس وقت پاکستان میں بھی پندرہ لاکھ سے زائد لوگ اس شعبہ سے وابستہ ہیں اور سرمایہ کا ری پانچ سو ار ب روپے سے زائد ہو چکی ہے اسی تناسب سے حکومت کو بھی محاصل ملتے ہیں۔لیکن معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے اور عوام کو سستی پروٹین فراہم کرنے کے باوجود اس شعبہ کے ساتھ وہ سلوک نہیں برتا جا رہا جس کا یہ حقدار ہے۔

انہوں نے وزیراعظم میاںمحمد نواز شریف، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈاراور چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ سے مطالبہ کیا کہ پولٹری کے خام مال اور سویابین میل کی درآمد پر تجوےز کردہ 5فیصدڈےوٹی سیلز ٹیکس کے نفاذکے فےصلے کو واپس لیں۔موجودہ تجوےز کردہ (مجوزہ)ڈےوٹےاں اور سیلز ٹیکس میں سرمایہ کا ری مےں اضافہ کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی بڑھےں گے۔

مزید :

کامرس -