اہلسنّت محاذ کا اہم اجلاس زیر صدارت پیر سید شاہد حسین گردیزی ہوا

اہلسنّت محاذ کا اہم اجلاس زیر صدارت پیر سید شاہد حسین گردیزی ہوا

لاہور(جنرل ر پورٹر)موجودہ ملکی صورتحال پر حقوق اہلسنّت محاذ کا اہم اجلاس جامعہ حزب الاحناف 11 داتا دربار لاہور میں زیر صدارت محاذ کے مرکزی امیر پیر سید شاہد حسین گردیزی کی زیر صدارت ہوا جس میں صاحبزادہ سید مختار اشرف رضوی، علامہ محمد دلنواز نقشبندی، مولانا رب نواز نوری، مولانا شفقت علی خان، مولانا دین محمد، پروفیسر احمد حسین ، پیر مبارک علی، مولانا پیر محمد حسین رضوی، علامہ خلیل احمد، مولانا نور حسین صدیقی، علامہ محبوب احمد نقشبندی، مولانا ملازم حسین قادری، حاجی محمد حسین نوری، مولانا سیف الرحمن نورانی، محمد محمد ندیم رضوی، مولانا مفتی دل محمد نقشبندی و دیگر عہدیداران نے شرکت کی محاذ کے مرکزی امیر پیر سید شاہد حسین گردیزی نے محاذ کے عہدیداروں کی مشاورت سے اعلامیہ جاری کیا اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملک کی سکیورٹی کی صورتحال انتہائی ناقص ہے جس کی وجہ سے کراچی ایئرپورٹ پر دہشتگردی کا اتنابڑا واقعہ پیش آیا ۔ کراچی ایئر پورٹ پر دہشتگردوں سے اے ایف سی اور دیگر اداروں کے جوانوں نے جس جرا¿ت و بہادری سے اپنی جانوں کے نظرانے پیش کر کے جامِ شہادت نوش کیا اور دہشتگردوں کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملایا پوری قوم کو ان بہادر جوانوں پر فخر ہے۔ ہم ان جوانوں کی جرا¿ت و بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں ۔

ملک میں جہاں بھی دہشتگردی ہوتی ہے تو وہ طالبان کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ وہ کونسے مسلمان طالبان ہیں جو قرآن بھی پڑھتے ہوں۔ نماز بھی پڑھتے ہوں اور مسلمانوں کا قتل عام بھی بڑی دیدہ دلیری سے کرتے ہوں۔ قتل و غارت و گری غیر مسلموں کا کام ہے مسلمانوں کا نہیں۔ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرنا حکمرانوں کا فرض ہے۔ ملک میں جتنے بے گناہ انسانوں کا قتل عام ہو رہا ہے اس کے ذمہ دار حکمران ہیں۔ روزِ محشر حکمرانوں کو ان بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کا حساب دینا ہو گا۔ علامیہ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایک منظم سازش کے تحت ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکمران ملک کو دہشتگروں کے ر حم و کرم پر نہ چھوڑیں جب بھی کوئی دہشتگردی کا بڑا واقعہ ہوتا ہے تو چند دن کے لیے سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی جاتی ہے ۔ ملک میں سکیورٹی کی تمام تر بہتری کی ذمہ دار وزیر داخلہ ہے۔ لہذا وزیر داخلہ اپنی نہ اہلی پر فوراً استعفیٰ دے۔ خدارا حکمران سکیورٹی خامیوں کو دور کریں اس وقت پاکستان کی ساری پولیس VIP ڈیوٹی پر معمور ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام مذہبی سیاسی لوگوں سے سرکاری سکیورٹی واپس لے کر ساری سکیورٹی ملکی اداروں کے تحفظ اور عوام کے جانوں کی حفاظت پر معمور کیا جائے اور ان لوگوں کو کہا جائے کہ یہ لوگ اپنی سکیورٹی کا انتظام خود کریں۔ یہ وقت ایک دوسرے پہ تنقید کرنے کا یا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نہیں ۔ یہ وقت پاکستان کی بقاءو سلامتی کے لیے اکٹھے ہونے کا ہے۔ پاکستان کی تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کو خدا رسول کا واسطہ دیتے ہوئے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے تمام تر اختلافات کو بھلا کر ملک کی بقاءو سلامتی کے لیے اکٹھے ہو جائیں۔ ملک ہے تو ہم ہیں اگر خدانخواستہ ملک نہیں تو ہم نہیں۔ اس نازک اور مشکل وقت میں جو پاکستان کی سلامتی کے لیے اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر اکٹھے نہیں ہو گا وہ محب وطن نہیں بلکہ وہ پاکستان کا غدار اور امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کا ایجنٹ کہلائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کی بقاءو سلامتی کے لیے 13 جون بروز جمعہ کو حقوق اہلسنت محاذ کے زیر اہتمام ملک بھر میں یوم دعا منایا جائے گا۔ جمعہ کے اجتماعات میں علماءاستحکام پاکستان کے موضوع پر خطابات کریں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4