سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے مقدمے میںمصالحت قبول کرنے کی درخواست پر محکمہ پراسکیو شن کی معا و نت طلب کر لی

سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے مقدمے میںمصالحت قبول کرنے کی درخواست پر محکمہ ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ پاکستان نے دہشت گردی کے مقدمے میں مصالحت قبول کرنے کی درخواست پر محکمہ پراسکیوشن کو معاونت کیلئے طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دہشت گردی ریاست کے خلاف جرم ہوتی ہے اس میں مصالحت کیسے قبول کی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ملز م کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسکے موکل آصف صدیق نے 2002میںمحمد سرور سمیت 4 افراد کو قتل کر دیاتھا۔ پولیس نے قتل اور دہشت گردی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو موت کی سزاسنائی۔ وکیل نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ مجرم کی اپیل خارج کر چکی ہے مگر سزائے موت کے بعد مقتول محمد سرور کے ورثاءاور مجرم آصف صدیق کے درمیان مصالحت ہو گئی ہے۔لہذآصف صدیق کی مصالحت اور سزائے موت کے خلاف اپیل منظور کر کے رہا کیا جائے۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ دہشت گردی ریاست کے خلاف جرم ہوتا ہے اس میں مصالحت کیسے قبول کی جاسکتی ہے۔بنچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات میں مصالحت غیرقانونی ہے۔عدالت نے مجرم آصف صدیق کے وکلاءاور محکمہ پراسکیوشن کو ہدایت کی کہ دہشت گردی کے مقدمات میں مصالحت کے نکتے پر عدالت کی معاونت کی جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کر دی۔

طلبی

مزید : صفحہ آخر