لاہور کے 9ٹاﺅنزوں کی رجسٹری برانچوں میں ماہانہ کروڑ وں روپے کی کرپشن اور خورد برد کا انکشاف

لاہور کے 9ٹاﺅنزوں کی رجسٹری برانچوں میں ماہانہ کروڑ وں روپے کی کرپشن اور ...

                                                لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل ) لاہور کے 9ٹاﺅنز کی رجسٹری برانچوں میں ماہانہ کروڑوں روپے کی کرپشن اور خورد برد کا انکشاف ہواہے ۔رہائشی مکان کی فروخت کے لیے لازم ہے کہ خریدارمکان کی کل مالیت کا 2فیصدسٹیمپ ڈیوٹی ادا کرے۔ایک فیصد رجسٹریشن ، ایک فیصد کارپوریشن اور 10مرلے یا اس سے زائد رقبے پر دو فیصد سی وی ٹی ادا کرے لیکن لاہور کے 9ٹاﺅنز کے رجسٹری محرر، سٹیمپ ڈیوٹی ،کارپوریشن فیس اور سی وی ٹی کی چوری میںوثیقہ نویسوںکی معاونت کرتے ہیںاور جائیداد کی اصل مالیت کی بجائے وثیقہ نویسوںاور خریداروں کو ڈیوٹی چوری کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جائیدادوں کے مالکان اور وثیقہ نویس ایک کروڑروپے کی جائیداد کی مالیت ڈی سی ریٹ کے تحت 10لاکھ سے بھی کم ظاہر کرکے سٹیمپ ڈیوٹی کی مد میں لاکھوں روپے بچا لیتے ہیں اور بدلے میں ایک ایک رجسٹری کے عوض ہزاروں روپے کماتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وثیقہ نویس اور جایداد مالکان ، مکان کو خالی پلاٹ ظاہر کرکے۔کمرشل جائیداد کو رھائشی اور رھائشی جائیدادوں کو بدستور زرعی ظاہر کرتے ہیں اور رجسٹری محر ررشوت لیکر جائیداد کا موقع دیکھنے کی بجائے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔البتہ رشوت نہ دینے والے ہرشخص کو بار بار چکر لگوانے کے ساتھ ساتھ اس کی جائیداد کو چیک کرنے کے لیے موقع ملاحظہ کا اعتراض لگا یا جاتا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق رجسٹری محرر اپنی برانچ میں ایک روپیہ بھی لینے کے مجاز نہیں ہیں۔ سٹیمپ ڈیوٹی سے لیکر

 کارپوریشن فیس تک رجسٹری سے متعلق تمام فیسیں بینکوں میں جمع ہوتی ہیں لیکن رجسٹری محرر بینکوں میں جمع شدہ چالانوںکو خاطر میں نہیں لاتے اور سائلوں سے کھلے عام رشوت طلب کرتے ہیں جبکہ رشوت نہ دینے والے سائل خوار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ۔یہی وجہ ہے کہ رجسٹری محرروں کے خلاف کرپشن اور بدعنوانی کی کئی کئی درخواستوں کے باوجود کاروائی نہیں کی جاتی۔ اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے رجسٹری محرروں کا کہناتھا کہ وہ کرپشن نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے افسر کسی قسم کے مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ لاہور میں وثیقہ نویسی کا زیادہ ترکام وکلا کرتے ہیں۔اور بعض وکلا دھونس جماتے ہوئے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیںاور انکارپر درخواستیں دینے لگتے ہیں۔

جسٹری محرر

مزید : صفحہ آخر