عالمی معیار کے بر عکس 12گرڈ سٹیشنز پر 300فیصد ناقص مٹیریل کے 92پینلز لگائے گئے

عالمی معیار کے بر عکس 12گرڈ سٹیشنز پر 300فیصد ناقص مٹیریل کے 92پینلز لگائے گئے ...

  

                                          لاہور(کامرس رپورٹر) ایک طرف جان لیوا گرمی میں بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ سے انسان مر رہے ہیں ، حکومت بجلی کے سنگین بحران سے نمٹنے کیلئے سر توڑ کوششیں کر رہی ہے ، دوسری طرف بجلی کی ترسیل اور تقسیم کار کمپنیاں روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمیشن اور کرپشن میں مصروف ہیں۔ملک کے شہریوں کو45 ڈگری درجہ حرارت میں بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے اور پوری قوم اس عذاب سے گزر رہی ہے تاہم بجلی سے متعلقہ کمپنیوں کے افسران کمیشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ روزنامہ ”پاکستان“ کو موصولہ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ عالمی معیار کے برعکس 12 گرڈ سٹیشنز پر 300 فیصد ناقص میٹریل کے 92 پینلز لگائے گئے ہیں، قواعد و ضوابط کے برعکس اقدامات کرنے پر سرکاری خزانے کو 12 کروڑ 10 لاکھ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ ناقص میٹریل کے استعمال سے کئی گنا بجلی بھی ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔تفصیلات کے مطابق این ٹی ڈی سی کی کوالٹی ٹیم نے ناقص میٹریل پر کراچی کی کمپنی کو دیا گیا ٹینڈر مسترد کرنے کی سفارش کی جبکہ این ٹی ڈی سی ڈیزائن کے ڈائریکٹر نے بوگس دستخط کے ساتھ انسپکشن سرٹیفکیٹ جاری کر دیا اور مال منظور ہوتے ہی پینلز لگوا دیئے گئے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق این ٹی ڈی سی کے ڈیزائن ڈیپارٹمنٹ نے سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کے مختلف گرڈ سٹیشنوں پر 92 پینلز کی خریداری کیلئے کراچی کی کمپنی کو ٹھیکہ دیا ، انسپکشن کے دوران انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے 300 فیصد فرق سامنے آیا، انسپکشن کمیٹی نے سیمنزکمپنی کو پینلز درست کرنے کا کہا جس پر جی ایم نے مہلت مانگی لیکن دوبارہ وہی رزلٹ آنے پر پینلز مسترد کر دیئے گئے، کمپنی نے غلط طریقے سے میٹریل منظور کرانے کیلئے انسپکشن ٹیم کی این ٹی ڈی سی کے چیف ڈیزائنروڈائریکٹر ، چیف انجینئر سے بات کرائی جنہوںنے میٹریل منظور کرنے کا کہا لیکن مجاز کوالٹی کنٹرول کمیٹی نے انکار کر دیا۔ جی ایم نے چیف ڈیزائنر و ڈائریکٹر ناصر عثمان اور چیف انجینئر سے رابطہ کیا جس پر این ٹی ڈی سی کے افسران نے انسپکشن کمیٹی پر دباﺅ ڈالا اور مبینہ طور پر انہیں دھمکیاں دیں، کام نہ کرنے پر ناصر عثمان نے انسپکشن کمیٹی کے ممبر فرحان احمد (اسسٹنٹ منیجر ڈیزائن) کی جگہ غیر قانونی طور پر اپنے دستخط کر کے انسپکشن سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، وزارت پانی و بجلی میں ان افسران کے گہرے تعلقات کے باعث تاحال اس حوالے سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ۔اس حوالے سے بات کرنے کیلئے متعلقہ حکام سے کوشش کے باوجود رابطہ نہیں ہو سکا۔

گرڈ سٹیشنز

مزید :

صفحہ آخر -