عوام نظر انداز ، صرف جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کا بجٹ قبول نہیں ہے :اپوزیشن

عوام نظر انداز ، صرف جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کا بجٹ قبول نہیں ہے :اپوزیشن ...

  

                                                      اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ میں اپوزیشن نے بجٹ کو جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کا بجٹ قرار دیتے ہوئے گریڈ 15 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں25 فیصد تک اضافے کامطالبہ کیا ہے۔ بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بجٹ جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کیلئے ہے ،یہ بجٹ یونیک ہے جو غیر آئینی طریقہ سے صوبائی فنڈز کو وفاق کو منتقل کرنا چاہتا ہے ، اس میں کھیت مزدور کیلئے کون سے سہولت دی گئی؟ ان کی آمدن بڑھانے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے؟ پنجاب کے دیہی علاقوں میں سڑکوں کے نام کی کوئی چیز نہیں جبکہ اربن سنٹرز کے اندر موٹرویز اور فلائی اوورز کی بات کی جا رہی ہے ۔ مزدوروں کے حالت بدتر سے بدتر ہو رہے ہیں میٹرو بس پر لگنے والے پیسے دیہات کی سڑکوں، ہسپتالوں میں دوائیوں اور ڈسپنسری کیلئے خرچ ہوتے تو بہتر تھا ہمیں فکر ہے کہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو کہ لوگ بھوک سے مر رہے ہوں اور میٹرو بس میت کیلئے استعمال ہو رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم تنخواہ پر کون عمل کریگا ؟سرمایہ کاروں کی موجودگی میں ممکن نہیں ۔ تنخواہ میں ایڈہاک 10 فیصد اضافے کو مسترد کرتے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ 15 تک 25 فیصد اور 16 سے اوپر کے ملازمین کی 15 فیصد، پنشن ،ای او بی آئی میں اضافہ کیا جائے، حکومت ہمیں 12000 روپے کے اندر بجٹ بنا کر دے ،ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہو گیا جبکہ سندھ میں اضافہ نہیں ہوا ۔ حکومت صوبوں کے سر پلس بجٹ کو اپنے خسارہ کم کرنے کیلئے وفاق کو منتقل کر رہی ہے ، حکومت نے ایس آر اوز کے ذریعے 470 بلین ٹیکس سہولیات دیں ،یہ بھی صوبوں کا حصہ کاٹ کر سرمایہ دار کو حصہ دیا۔حکومت کا اختیار نہیں کہ وہ ہیلتھ سکیم شروع کرے یہ صوبوں کا اختیار ہے ۔ ہیر کی پنکھی جھلنے والے کہتے تھے جب اقتدار میں آئیں گے تو لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا ،جب اقتدار میں آئے تو عوام کو دھوکہ دیا کہ سرکلر ڈیٹ کا خاتمہ ضروری ہے لہٰذا حسب منشاء480 ارب ادا کر دیئے لیکن لوڈ شیڈنگ میں مسلسل اضافہ ہوا آج پھر سرکلر ڈیٹ وہیں پر کھڑا ہے، بڑے سرمایہ کاروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے کوئی ہاتھ نہیں ڈال رہا ۔ اس حکومت نے جولائی سے مارچ تک 90 ایس آو اوز جاری کئے جو سرمایہ کاروں کے تحفظ کیلئے تھے حکومت نے بجٹ میں سندھ کے منصوبوں کو ختم کر دیا ،حکومت نے کفایت شعاروں کے نام پر اربوں روپے کے اخراجات کئے ۔ بجٹ کے اندر سرمایہ کاروں کو تحفظ دیا گیا 1800 سے اوپر گاڑیوں کی ڈیوٹی میں 10 فیصد کمی کر دی تعلیم کی مد میں جو فنڈنگ برطانیہ سے آئی ہے وہ کہاں ہے ؟کیا وہ کسی خاص صوبے کیلئے ہے؟ ان پیسوں کا حساب جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کہاں پر خرچ ہوئے ۔ بحث میں حصہ لیتے ہئے ڈاکٹر قیوم سومرو نے کہا کہ چالیس کھرب کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں آمدنی اور اخراجات میں 1422 ارب کا فرق ہے یہ فرق کیسے ختم ہو گا؟ کیا دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے اور قوم کو مزید مقروض کریں گے ۔ بجٹ میں 1325 ارب سود کی مد میں ادائیگی ہو گئی تو غریبوں کیلئے کیا منصوبے ہونگے ۔ اس بجٹ میں غریبوں کیلئے جو رکھا ہے وہ امیروں کیلئے ایک رات کا بھی خرچہ نہیں یہ غریب دوست نہیں امیروں کیلئے بجٹ ہے۔ ملک میں عورتیں بچوں کے ساتھ غربت کی وجہ سے خودکشیاں کر رہی ہیں ۔ سندھ کے میگا پراجیکٹس کو شامل نہیں کیا گیا اور تھر کول کے پراجیکٹ کو ختم کیا جا رہا ہے

 اپوزیشن، بجٹ

مزید :

صفحہ آخر -