انتخابی اصلاحات درست، مگر دہشتگردی کا خاتمہ اول ترجیح!

انتخابی اصلاحات درست، مگر دہشتگردی کا خاتمہ اول ترجیح!
انتخابی اصلاحات درست، مگر دہشتگردی کا خاتمہ اول ترجیح!
کیپشن: ch khadim hussain

  

تجزیہ:- چودھری خادم حسین

وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے انتخابات کی شفافیت کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی تجویز دی اور کہا ہے کہ پہلے سے موجود کمیٹی کو توسیع دی جا سکتی ہے اور جو رپورٹ پہلی کمیٹی نے تیار کر کے سفارشات مرتب کر رکھی ہیں ان پر بھی غور کر کے ایک متفقہ رپورٹ تیار ہو سکتی ہے جسے اسمبلی قانونی شکل دے دے، وزیر اعظم کی طرف سے اس تجویز پر ردعمل بھی ویسا ہی ہو گا جیسا ان دنوں چل رہا ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے صاف کہا باقی پارٹیوں(تحریک انصاف سمیت) سے بات کرنا ہو گی اور یقیناً تحریک انصاف کا جواب مختلف ہو گا اگرچہ بات اس جماعت کی اپنی پسند کی ہے اور عمران خاں کا مطالبہ بھی نئے انتخابی نظام کا ہے جس کا احسن طریقہ بھی یہی ہے اور ہم نے بھی یہی تجویز کیا تھا تاہم عمران خان کی طرف سے گریز اپنی جگہ ہے جو نہیں ہونا چاہئے ایسی کمیٹی اس شرط کے ساتھ منظور کر لینا چاہئے کہ سفارشات اور ان کی روشنی میں مسودہ قانون یا ضرورت کے مطابق آئینی ترمیم کے مسودے کی تیاری اور منظوری مخصوص مدت کے دوران لازمی ہو گی۔ اس سے موجودہ سیاسی بحران ٹل سکتا ہے۔

اس وقت ملک میں جو صورتحال بنی ہے وہ غیر متوقع تو نہیں، لیکن اس قدر ہنگامی ضرور ہے کہ اول ترجیح کی حیثیت اختیار کر گئی ہے اس لئے وزیر اعظم کو بھی کراچی کے سانحہ اور طالبان کے حملے کے بعد سیاسی جماعتوں کو اس مسئلہ پر اعتماد میں لے کر ایک وسیع تر قومی پالیسی منظور کرانا چاہئے اب تو نئے واقعات کی روشنی میں عمران خان کی صدارت میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے بھی اب اپنے پہلے موقف میں اس حد تک ترمیم کر لی ہے کہ جو طالبان مثبت عمل کا جواب مثبت نہیں دیتے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ان سے بات چیت کی جائے۔ یوں عمران خان کا یہ موقف بھی حکومتی موقف کے مطابق ہو گیا کہ حکومت بلکہ قومی سلامتی کمیٹی کا فیصلہ بھی یہی ہے اور اب جو اجلاس ہو گا اس میں ان شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر دی جائے گی جو دہشتگردی میں ملوث ہیں پاک فوج اب قبائلی سرداروں اور جرگے کے علاوہ مذاکرات اور امن کے حامی طالبان کا تعاون بھی حاصل کرے گی اور شمالی وزیرستان کو بھی کلیئر کرایا جائے گا اس سلسلے میں پوری قوم کی حمایت لازمی ہے حکومت اس سلسلے میں عمران خان سے بھی رابطہ کر کے مذاکرات کر سکتی ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے کہ یہ قومی مسئلہ ہے۔

اس وقت افغانستان اور بھارت دونوں ممالک پاکستان کے حوالے سے ایک ہیں اور خفیہ اطلاعات کے مطابق افغانستان کی ایجنسی اور بھارتی ایجنسی میں تعاون پایا جاتا ہے، پاکستان کا دوست چین ہے اور ایران برادر اسلامی ملک ہے جس کے اگرچہ بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات اور افغانستان میں بھی مفادات ہیں اس کے باوجود پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شیعہ زائرین کو نشانہ بنایا جاتا ہے کہ نہ صرف پاکستان کے اندر مسلکی اختلاف شدت اختیار کریں بلکہ ایران بھی برگشتہ ہو۔

حالات کا تقاضا یہ ہے کہ جب بیرونی خطرات اتنے زیادہ ہوں تو قوم کو متحد ہونا چاہئے جو اس وقت نہیں ہے۔ لیڈر شپ کا کمال تو یہی ہوتا ہے کہ وہ ہنگامی اور بحرانی حالات کا مقابلہ کرنے اور قومی وحدت کو یکجا کرنے کی اہلیت رکھتی ہو، میاں محمد نواز شریف کے لئے لازمی ہو گیا ہے کہ ملک کے اندر پوری قوم کو متحد کیا جائے ۔ جہاں تک دوسری ملکی قیادت کا تعلق ہے تو اسے بھی صاف دلی سے ساتھ دینا چاہئے۔ ورنہ وقت کسی کو معاف نہیں کرتا۔

مزید :

تجزیہ -