اسلام آباد ہائیکورٹ نے مبشر لقمان کو پروگرام کرنے سے روک دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مبشر لقمان کو پروگرام کرنے سے روک دیا
 اسلام آباد ہائیکورٹ نے مبشر لقمان کو پروگرام کرنے سے روک دیا

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) ہائیکورٹ نے عدلیہ مخالف پروگرام نشر کرنے پر نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے اینکر مبشر لقمان کو بطور اینکر پروگرام ”کھرا سچ “کرنے سے روکتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت جون کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی ۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے شہداءفاونڈیشن کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ شہداءفاونڈیشن کے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ نجی چینل کے اینکر مبشر لقمان عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچا کر اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پیمرا اور سیکرٹری اطلاعات ذاتی طور پر عدالت آکر بتائیں کہ پیمرا کو ٹی وی چینلز اور اینکرز کے خلاف کتنی شکایات موصول ہوئیں ؟ ،پیمرا نے اب تک شکایات پر کارروائی کیوں نہیں کی ہے۔سماعت کے بعد عدالت نے مبشر لقمان کو بطور اینکر پروگرام کرنے سے روکتے ہوئے پیمرا اور وزرات اطلاعات کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا ہے۔رونامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے، آزادی اظہار رائے سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا البتہ اگر پروگرام میں کوئی غلط بیانی کی گئی ہو تو اس پر ایکشن لینا یا سزا دینا عدالت کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا عدالت نے یہ فیصلہ لال مسجد والوں کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا ہے جبکہ جس جج نے یہ فیصلہ سنایا ہے وہ کئی سالوں تک لال مسجد اور جنگ گروپ کا وکیل رہا ہے، وہ کیسے اس کیس میں فیصلہ دے سکتے ہیں؟ عدالت دونوں فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ سناتی ہے جبکہ اس کیس میں نہ انہیں طلب کیا گیا اور نہ ہی ان کا موقف سنا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے پروگرام کے ذریعے ہمیشہ کرپٹ اور عوام دشمن عناصر کی نشاندہی کی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ فیصلے کے خلاف قطعی اپیل نہیں کریں گے تاہم اگر ٹی وی چینل چاہے تو وہ اپیل دائر کر سکتا ہے۔

مزید : اسلام آباد