ایبٹ آباد آپریشن جان بوجھ کر خفیہ رکھاگیا، جوابی کارروائی میں ممکنہ طورپر بھارت پرہونیوالے حملے پر بھی تبادلہ خیال کیا: ہیلری کلنٹن

ایبٹ آباد آپریشن جان بوجھ کر خفیہ رکھاگیا، جوابی کارروائی میں ممکنہ طورپر ...
ایبٹ آباد آپریشن جان بوجھ کر خفیہ رکھاگیا، جوابی کارروائی میں ممکنہ طورپر بھارت پرہونیوالے حملے پر بھی تبادلہ خیال کیا: ہیلری کلنٹن

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے انکشاف کہا ہے کہ امریکہ نے مئی 2011میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کوپکڑنے یا مارنے کے خفیہ مشن کے بارے میں پاکستا ن کو لاعلم رکھنے کا فیصلہ اوباماسمیت اعلیٰ سطح کی امریکی قیادت نے کیا تھا کیونکہ اُنہیں وقت سے قبل راز فاش ہونے سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی آپ بیتی”ہارڈ چوائسز “ کے مسودہ میں ہیلری کلنٹن نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر اوباما اوراس وقت کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس سمیت اعلی امریکی حکام نے اس معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں پاکستان کی طرف سے ممکنہ طور پر بھارت پر حملہ شامل ہے لیکن آخر فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو اس بارے میں مطلع نہیں کیا جائیگا۔ خیال رہے ہیلری کلنٹن کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ''ہارڈ چوائسز'' یعنی مشکل فیصلے کے نام سے جلد سامنے آنے والی ہے۔ انہوںنے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم اتحادی ملک پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات پہلے سے بہت کشیدہ تھے اور اگر پاکستانی فوج کو اپنی فضائی حدود میں کسی خفیہ مشن کے بارے پتہ چلتا تو یہ ممکن تھا کہ وہ پوری طاقت سے اس کا جواب دیتی۔ اُنہوںنے کہاکہ نے آپریشن کے حوالے سے پاکستان کو آگاہ کرنے کے حوالے سے تفصیلی بحث کی تھی تاکہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر ختم نہ ہوں۔ رابرٹ گیٹس نے ہمیںیاد دلایا تھاکہ افغانستان میں فوجوں کو رسد کی سپلائی اور سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے تعاقب کے لیے پاکستانی تعاون جاری رہنا چاہیے۔ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ایک سال کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کافی وقت اور توانائی صرف کی لیکن وہ جانتی تھیں کہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے بعض عناصر کے القاعدہ اور طالبان کے ساتھ تعلقات ہیں اور اس میں ان کے حامی موجو د ہیں، وہ اسامہ کو الرٹ کرسکتے ہیں جس سے ہمارا سارا منصوبہ اور محنت ناکام ہوجائیگی۔

مزید : بین الاقوامی