حکومت میں آکر آئین سے ”اقلیتوں “کا لفظ نکال دینگے ، طاہر القادری پر ظلم ہوا تو ہر کارکن احتجاج میں شامل ہو گا، مذاکرات کرنے والے نظر ثانی کریں :الطاف حسین

حکومت میں آکر آئین سے ”اقلیتوں “کا لفظ نکال دینگے ، طاہر القادری پر ظلم ہوا ...
حکومت میں آکر آئین سے ”اقلیتوں “کا لفظ نکال دینگے ، طاہر القادری پر ظلم ہوا تو ہر کارکن احتجاج میں شامل ہو گا، مذاکرات کرنے والے نظر ثانی کریں :الطاف حسین

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں روشن خیال معاشرے کے قیام کے لئے جدو جہد کررہے ہیں ، حکومت میں آکر آئین سے ”اقلیتوں “کا لفظ ہی نکال دیں گے، طاہر القادری پر ظلم ہوا تو متحدہ کا ہر کارکن احتجاج میں شامل ہو جائے گا،مذاکرات کرنے والے نظر ثانی کریں ۔ الطاف حسین نے اے پی ایم ایس او کے 36ویں یوم تاسیس پر کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ (اے پی ایم ایس او)آل پاکستان متحدہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی کہانی بہت طویل ہے ،11جون 1978کو اس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی گئی ،یوم تاسیس پرکارکنوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ، 38شہروں میں اجتماعات ہو رہے ہیں ۔آج کا میرا خطاب ملکی حالات کے پیش نظر بہت اہم ہے اورپوری دنیا میں سنا جا رہا ہے ،آج ملکی اور عالمی ایشو پرا ہم اور سنجیدہ باتیں کروں گا ، انہو ں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ تعلیم کی طرف توجہ دیں،خوب محنت کریں اور نقل کرنے سے پرہیز کریں ۔ الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان میں روشن خیال معاشرے کے قیام کے لئے جدو جہد کررہے ہیں ،ایم کیو ایم کی حکومت آئی تو آئین سے اقلیتوں کا لفظ ہی نکال دیں گے ،تمام پاکستانیوں کے یکساں حقوق ہونے چاہے ،کوئی مذہب انتہا پسندی کی اجازت نہیں دیتا، دین اسلام میں انتہائی پسندی اور جبر کی کوئی جگہ نہیں ،ہماردین ہمیشہ بھائی چارے کا دس دیتا ہے ۔ڈاکٹر طاہر القادری پروطن واپسی کے بعد کوئی ظلم ہوا تو متحدہ کا ہر کارکن احتجاج میں شامل ہو گا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذاکرات پر نظر ثانی کی جائے ، دہشت گرد بچوں کو یتیم کر رہے ، مساجد اور عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں ہےں ۔ ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ ماضی میں مجھ پراور میری جماعت پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے ،متحدہ کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیا ہے ،ہمارے ساتھیوں اور کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا لیکن ہم تشدد سے نفرت اور امن سے محبت کرتے ہیں ۔الطاف حسین واضح کیا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کہیں بھی میرا ذاتی گھر اور اثاثے نہیں ، جھوٹا الزام لگاکر مجھے گرفتار کیا گیا ، گرفتاری پر کارکنوں کو پر امن رہنے کا کہا تھا ، ہمدردوں نے پر امن مظاہرے کرکے مجھے چھڑایا ۔انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ حوصلہ رکھیں تمام مقدمات بے بنیاد ہیں۔شہر قائد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی پورے پاکستان کا شہر ہے ،اس میںصرف اردو بولنے والے نہیں بلکہ تمام زبانیں بولنے والے رہتے ہیں ۔

مزید : کراچی /اہم خبریں