معلوم نہ تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنا جرم ہے، پادری کی انوکھی منطق

معلوم نہ تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنا جرم ہے، پادری کی انوکھی منطق
معلوم نہ تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنا جرم ہے، پادری کی انوکھی منطق

  


واشنگٹن (نیوز ڈیسک) پچھلی کئی دہائیوں سے دنیا کے کئی ممالک میں عیسائی پادریوں کی معصوم بچوں سے جنسی زیادتیوں کے واقعات عالمی میڈیا میں سامنے آتے رہے ہیں اور خصوصاً پچھلے کچھ سالوں میں یہ معاملہ بہت شدت اختیار کرچکا ہے، عیسائیت کے عالمی رہنما اس معاملہ پر معافی بھی مانگ چکے ہیں اور متعدد پادریوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور ایک ایسی ہی قانونی کارروائی کے دوران سابقہ سینئر عیسائی مذہبی رہنما اور ایک اہم پادری آرچ بشپ رابرٹ کارلسن نے ان جرائم میں ملوث مکروہ پادریوں کی سوچ کو اس وقت افشاءکردیا جب اس نے تفتیش کاروں کو یہ بتایا کہ اس کے خیال میں تو معصوم بچوں کے ساتھ کسی پادری کا جنسی زیادتی کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ اس اہم پادری کی اس غلیظ سوچ کا انکشاف قانونی فرم جیف اینڈرسن اینڈ ایسوسی ایٹس نے اپنی جاری کردہ دستاویزات میں کیا ہے۔ انہتر سالہ اس پادری سے جب تفتیش کاروں نے بار بار سوال کئے تو اس نے جواب دیا کہ اب وہ سمجھتا ہے کہ یہ جرم ہے لیکن جب وہ یہ شیطانی کام کررہا تھا اس وقت اسے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ کوئی جرم ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی شرمناک اور خوفناک بات ہے کہ اعلیٰ ترین مرتبوں پر فائز پادری اس قسم کی سوچ رکھتے ہیں اور نجانے کتنے ہزاروں اور ایسے پادری ہیں کہ جو بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانا جائز سمجھتے ہیں اور ہمیں ان کی شرمناک شیطانی زندگیوں کا کوئی علم نہیں ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس