برطانوی عوام کے اربوں روپے لوٹنے والا پاکستانی روپوش

برطانوی عوام کے اربوں روپے لوٹنے والا پاکستانی روپوش
برطانوی عوام کے اربوں روپے لوٹنے والا پاکستانی روپوش

  

لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ کی تاریخ میں فراڈ کی سب سے بڑے کیسوں میں سے ایک میں ملوث اور پاکستان کا نام بدنام کرنے والے پاکستانی نژاد فراڈئیے کو برطانوی حکومت ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی ہے اور اب اسے پیغام دیا گیا ہے کہ وہ لوٹے گئے تقریباً ساڑھے سترہ کروڑ پاﺅنڈ میں سے 50 لاکھ ہی واپس کردے۔ چونتیس سالہ ظفر چشتی ایک کمپنی کا ڈائریکٹر تھا اور اس کمپنی نے یورپ اور دیگر ممالک سے بھاری تعداد میں موبائل فون درآمد کرنے کے دوران تقریباً 17.6 ملین پاﺅنڈ کا ٹیکس فراڈ کیا۔ جب تک حکام کو اس غیر معمولی فراڈ کی خبر ہوئی اور وہ اس شخص کی تلاش میں نکلے تویہ چالان مجرم برطانیہ سے فرار ہوچکا تھا۔ پولیس کے ہاتھ اس کے چند ساتھی ہی آسکے۔ کنگسٹن کراﺅن کورٹ میں چلائے گئے مقدمہ میں اس گینگ کے 15 افراد کو مجموعی طور پر 66 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ ظفر چشتی کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ برطانیہ سے فرار ہونے کے بعد دبئی میں شاہانہ زندگی گزاررہا ہے۔ ظفر چشتی اور اُس کے گینگ پر الزام ہے کہ انہوں نے موبائل فون درآمد کرتے وقت ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) ادا ہی نہیں کیا اور بعد میں جعلی دستاویزات اور اکاﺅنٹ بنا کر برطانوی حکومت سے یہ ٹیکس واپس بھی لے لیا (جو کہ پہلے ادا ہونے کی صورت میں واپس ہونا چاہیے تھا) اور اس طرح حکومت کو چکمہ دے کر کروڑوں پاﺅنڈ لوٹ لئے۔

مزید : جرم و انصاف