اسلام کے علاوہ کسی اور نظام کی بات کرنے والے آئین پاکستان سے بے وفائی کرتے ہیں:سراج الحق

اسلام کے علاوہ کسی اور نظام کی بات کرنے والے آئین پاکستان سے بے وفائی کرتے ...
اسلام کے علاوہ کسی اور نظام کی بات کرنے والے آئین پاکستان سے بے وفائی کرتے ہیں:سراج الحق

  

لاہور(سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ زندگی کی آخری سانس اور خون کے آخری قطرہ تک ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کرتے رہیں گے ۔ پاکستان کی سا لمیت اور بقا اسلام سے وابستہ ہے ۔ ملکی آئین میں اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیا گیاہے جو لوگ اسلام کے علاوہ کسی نظام کی بات کرتے ہیں وہ آئین پاکستان سے بے وفائی کرتے ہیں ۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام اسلام سے وابستگی رکھتے ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ملک پر مسلط مراعات یافتہ طبقہ پارٹیاں بدل بدل کر ہمیشہ اقتدار میں رہتاہے اور اس اشرافیہ نے عوام کے حقوق غصب کر رکھے ہیں ۔ جماعت اسلامی رمضان کے بعد ایک عوامی ایجنڈا پر کراچی سے چترال تک کے عوام کو متحد کرکے ملک میں شریعت کے نفاذ اور محروم و مجبور لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی تحریک چلائے گی ۔ موجودہ بجٹ بھی غریبوں کے لیے نہیں، مراعات یافتہ طبقہ کے لیے بنایا گیا ہے ۔ بجٹ میں تعلیم ، صحت اور روزگار کی فراہمی کو نظر انداز کر کے بڑی گاڑیاں سستی کر دی گئی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے زیراہتمام منصورہ میں منعقدہ پوسٹ بجٹ سیمینار اور مرکزی تربیت گاہ کے شرکاءسے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیمینار سے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ ،سابق مشیر خزانہ سید سلمان علی شاہ ، سابق ممبر فیڈرل بورڈ آف ریونیو سرفراز احمد خان ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، انجینئر اکمل جاوید ، غلام عباس جلوی اور پروفیسر میاں محمد اکرم نے بھی خطاب کیا ۔ سراج الحق نے کہاکہ ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ آئی ایم ایف کی غلامی سے نکل کر خود انحصاری کا باعزت راستہ اختیار کیا جائے ۔ بیرونی قرضوں اور سودی معیشت سے خوشحالی کے خواب دیکھنے والے نہ صرف اپنے آپ بلکہ عوام کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں ۔ قرضوں کی معیشت ملک کو اسلام دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنانے اور عوام پر قرضوں کے بوجھ کو لادنے کی منصوبہ بندی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ پیداہوتے ہی 86 ہزار روپے کا مقروض ہو جاتا ہے آج ہزاروں بچے اپنا رزق کوڑے کے ڈھیروں پر تلاش کرنے پر مجبورہیں ۔ انہوں نے کہاکہ غریب کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا جبکہ اس کے ٹیکسوں پر امیر عیاشیاں کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے تمام مسائل کا حل اسلام کے عادلانہ نظام میں ہے ۔ لیاقت بلوچ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دہشتگردی نے ملک کا امن و سکون برباد کر دیاہے جہاں روزانہ دہشتگردی کے پے در پے واقعات ہوں گے وہاں سرمایہ کاری کون کرے گا ۔ انہوں نے کہاکہ بم دھماکوں سے شریعت نافذ ہوسکتی ہے نہ فوجی آپریشنوں میں معصوم لوگوں کے قتل عام سے امن قائم ہو سکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی منی پاکستان اور ملک کا معاشی حب ہے لیکن وہاں بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشوں پر قابو نہیں پایا جاسکا ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام عملاً گزشتہ 25-30 سال سے بھتہ مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین کے گھر سے برآمد ہونے والی دولت کہاں سے آئی ؟ ۔انہوں نے کہاکہ کراچی اور حیدر آباد کے عوام کو انتخابی حق سے محروم کر دیاگیاہے ۔ کراچی ، حیدر آباد اور فاٹا میں پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کر کے اور بیلٹ باکس زبردستی اٹھا کر عوام کے حق انتخاب پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ۔ نوازشریف بیرونی دوروں میں اپنے خاندان کے افراد کو لے جاتے ہیں جس سے سندھ بلوچستان اور خیبر پی کے کے عوام میں بداعتمادی اور بے چینی پیدا ہوتی ہے اور قومی یکجہتی اور وحدت کو نقصان پہنچتاہے ۔ وزیراعظم کو چھوٹے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی دوروں میں اپنے ہمراہ لے کر جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہی دوسرے صوبوں کا اعتماد بحال کیا جاسکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف خاندان اور بھٹو خاندان نے اپنے اثاثے سمیٹ کر بیرون ملک منتقل کر دیئے ہیں وہ صرف پاکستان کے غریب عوام پر حکومت کرنے کے لیے پاکستان آتے ہیں ۔

مزید :

قومی -