قومی یکجہتی میں میڈیا کا کردار

قومی یکجہتی میں میڈیا کا کردار
قومی یکجہتی میں میڈیا کا کردار

  

روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں 23مئی 2015ء کو یہ خبر شائع ہوئی کہ واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک نے کہا ہے کہ ’’کالا باغ ڈیم انتہائی مفید ہے، یہ سیاست کی نذر ہو گیا ہے۔ اتفاق پیدا کریں‘‘۔مَیں بزرگ انجینئر اور آبی ماہر کے پورے بیان کا حوالہ ذرا بعد میں دوں گا، پہلے مَیں براہ راست کالم کے موضوع سے آغاز کرتا ہوں۔ اس تخریب کاری کے دور میں قومی یکجہتی کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔ قومی اتحاد پیدا کرنے کے لئے معاشرے کے مختلف طبقات میں ذہنی ہم آہنگی ہونی چاہئے، مُلک کے بڑے بڑے مسائل اور ایشوز پر اتفاق رائے ہونا چاہئے، تھوڑا بہت اختلاف رائے ہو بھی جائے توکوئی حرج نہیں، لیکن اس کا غلبہ نہیں ہونا چاہئے۔قومی مقاصد اور مفادات میں ہم آہنگی ہونی چاہئے۔چھوٹے اور گروہی مفادات کو قومی اتحاد کے لئے چھوڑنا چاہئے۔ معاشرے میں مساوات پیدا کرنے کے لئے کوششیں کی جانی چاہئیں۔ پسماند علاقوں پر توجہ دی جانی چاہئے۔ اس طرح ان میں محرومی کا جذبہ کم ہو گا اور یہ احساس ہو گا کہ حکومت ان کی طرف بھی توجہ دے رہی ہے۔مشترکہ مفادات کی کمیٹی بھی مختلف صوبوں کے مسائل حل کرنے اور اُن میں محرومیاں کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، لوگوں کو انصاف ملنا چاہئے تاکہ اُن میں مایوسی اور بددلی نہ پھیلے۔ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ ہونا چاہئے، جو جمہوریت کی کامیابی کے لئے بہت ضروری ہے، جمہوریت بھی اتحاد و یکجہتی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سیاسیات کے استاد کہتے ہیں کہ بدترین جمہویت بہترین آمریت سے بہتر ہے۔ جمہوریت کی کامیابی کے کچھ لوازم ہیں۔ ان میں تعلیم، مالی خوشحالی ، رواداری اور سیاسی شعور وغیرہ شامل ہیں۔ ویسے تو میڈیا بڑا موثر اور جاندار ذریعہ اظہار ہے، لیکن الیکٹرانک میڈیا کا رول زیادہ حساس ہے۔ یہ کمپوزٹ آرٹ فورم ہے، یعنی مختلف علوم و فنون کا مجموعہ ہے، جس میں ادب، ڈائریکشن، کیمرہ ورک اداکاری، کمپیئرنگ اور ٹاکنگ شامل ہیں۔ بڑے بڑے کاروباری ادارے میڈیا کو بڑی بڑی رقوم کے اشتہار دیتے ہیں اور انہیں اپنے کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان اداروں کا میڈیا کی پالیسیوں میں بھی عمل دخل ہوتا ہے۔ میڈیا کو کنٹرول کرنے والے ادارے اس جانب توجہ دیں۔ میڈیا کا رائے عامہ کی تشکیل میں بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کو چاہئے کہ امن و امان کے ذمہ داروں کے نمائندوں کو اپنے پروگراموں میں آنے کی دعوت دے کہ وہ ملکی مفاد و سیکیورٹی اور مختلف ایشوز پر لوگوں میں یکساں سوچ پیدا کرنے کے لئے اظہارِ خیال کریں۔ ان میں دانشور، ادیب، شاعر، صحافی، سول سرونٹ، وکیل اور جج شامل ہیں۔

یہی کام پرنٹ میڈیا اپنے لحاظ سے کر سکتا ہے۔ تمام بڑے اخبارں کے سنڈے میگزین پورے پاکستان میں جاتے ہیں، ان سے مُلک میں اتحاد و یگانگت پیدا کرنے کے سلسلے میں بہت کام لیا جا سکتا ہے۔ ان نمائندوں سے قومی اتحاد و یگانگت پر مضامین لکھوائے جانے چاہئیں۔ رائے عامہ کی تشکیل میں ان اداروں کا بھرپور کردار ہوتا ہے۔ ٹی وی کی طرح اخبارں کے فورمز میں بھی مختلف صوبوں کے اہل الرائے حضرات کو آنے کی دعوت دی جائے جو اپنے اپنے علاقوں کے حالات اور مسائل پر اظہارِ خیال کریں، اس طرح بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی،پروگرام سے پہلے یا بعد میں یہ لوگ مل بیٹھیں گے اور آپس میں تبادلہ خیالات کریں گے، یوں قومی سوچ پیدا ہو گی۔وطن عزیز کے مختلف صوبوں کے ادب کا دوسری زبانوں اور قومی زبان میں ترجمہ ہو اور میڈیا اس کی کوریج کرے۔ اسی طرح سٹوڈنٹ لیڈر دوسرے صوبوں کا دورہ کریں اور وہاں کے کالجوں کے سٹوڈنٹ لیڈروں سے ملیں اور تبادلہ خیالات کریں۔ اس سے یکساں سوچ پیدا ہوتی ہے۔

یونین لیڈر، مختلف تنظیمیں اور پریشر گروپ بھی سٹوڈنٹ لیڈروں کے نقش قدم پر چلیں۔ میڈیا اس کی بھی کوریج کرے۔ادب میں جو گروہ بندیاں ہیں، میڈیا اس کو بھی کم کرے۔ ٹی وی پروگراموں میں سیاسی مباحثے بھی ہوتے ہیں۔ اینکر حضرات شرکائے محفل سے بڑے اچھے سوال پوچھتے ہیں، اس طرح ناظرین میں حالات سے آگاہی اور سیاسی شعور پیدا ہوتا ہے۔ پھر ٹی وی کے لئے ادیب ایسے ڈرامے لکھیں جن کے کردار سب صوبوں کی نمائندگی کریں،یوں قومی اتحاد کا درس دیا جائے۔ ایک معاصر اُردو روزنامہ کے ممتاز اور سینئر کالم نگار نے اپنے کالم میں آبی ماہر شمس الملک کو خراج تحسین پیش کیا ہے، جو کہتے ہیں کہ اگر ڈیم بن جاتا تو عوام کو بجلی دو روپے فی یونٹ ملنی تھی، جو آج 18روپے ہے۔کالا باغ ڈیم کا منصوبہ اب بھی چھ سال میں مکمل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کی طرح ہمیں اس کے لئے بھی ایک بار پھر متحد ہو کر نکلنا ہو گا۔

شمس الملک اس ڈیم کے مخالفوں کو ایک ہمسایہ مُلک کا براہ راست ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔شمس الملک مختلف فورموں پر یہ بات کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ ڈوبنا تو درکنار، اس کو رتی برابر بھی فرق نہیں پڑے گا۔ یاد رہے کہ ان کا آبائی شہر نوشہرہ ہے۔کہا جاتا ہے کہ ماضی میں ہمسایہ مُلک کے ایجنٹوں نے خیبرپختونخوا اور سندھ کے بعض سیاست دانوں سے روا داری اور خیر سگالی کے تعلقات بنا لئے تھے اور ان کو کالا باغ ڈیم کی مخالفت کے لئے وہ کالا باغ ڈیم نہ بننے دیں۔ اُن سیاست دانوں نے بھی اپنا بھلا دیکھا، چنانچہ انہوں نے اس کے خلاف اپنی اسمبلیوں میں قراردادیں منظور کروا لیں، سو کالا باغ ڈیم نہ بن سکا۔ اگر یہ ڈیم بن گیا ہوتا تو ہماری معیشت کا یہ حال نہ ہوتا۔ توانائی کی کمی نہ ہوتی، پانی وافر مقدار میں ہوتا، مُلک کی پیداوار میں اضافہ ہوتا، نئی نئی فیکٹریاں لگتیں، روزگار کے مواقع زیادہ ہوتے، اقتصادی ترقی ہوتی، جس سے لوگوں میں خوشحالی آتی، جو جمہوریت کے لئے ضروری ہے اور اقتصادی ترقی کا قومی یکجہتی میں ایک کردار ہے!

مزید :

کالم -