برطانوی معاشرے میں نسیم شاہ سے ناز شاہ تک

برطانوی معاشرے میں نسیم شاہ سے ناز شاہ تک
برطانوی معاشرے میں نسیم شاہ سے ناز شاہ تک

  

10 پاکستانی نژاد اُمیدواروں نے برطانوی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ صرف پاکستانی ہی نہیں دیگر کئی ممالک سے برطانیہ آباد ہونے والے افراد پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے ۔ ان 42ارکان پارلیمنٹ میں ایک رکن پاکستانی نژاد ناز شاہ ( نسیم شاہ) بھی ہیں۔ ناز شاہ نے جن کی عمر 41 سال ہے۔ بریڈ فورڈ کے علاقے سے جارج گیلوے کو شکست دی۔ جارج گیلوے برطانیہ میں متنازع شخصیت تصور کیے جاتے ہیں۔ مگر بیشتر پاکستانی انہیں ایک عظیم مجاہد ، مسیحا اور چارہ گر سمجھتے ہیں۔ جو مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے۔ مگر چار بار دارالعوام کا رکن منتخب ہونے والے جارج گیلوے کو اس بار آزاد کشمیر کے علاقے چکسواری سے برطانیہ منتقل ہونے والی پاکستانی نژاد برطانوی خاتون ناز شاہ (نسیم شاہ) نے ہرادیا۔ نازشاہ نے اپنی زندگی میں بے شمار مصائب دیکھے۔ ایام طفولیت میں ہی اس کے باپ نے ایک کم عمر خاتون کے لیے اپنی بیوی بچوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ اپنے بچوں کو چھت فراہم کرنے کے لیے زہرہ شاہ ناز شاہ کی والدہ نے ایک پاکستانی نژاد ٹھیکیدار جو منشیات کے کاروبار سے بھی منسلک تھا کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ رہنے کے لیے چھت تو مل گئی مگر اس کم بخت نے ماں کے بعد ان چھوٹی بچیوں پر بُری نظر رکھنا شروع کردی۔ ناز شاہ کو ماں نے 12کی سال عمر میں پاکستان بھیج دیا۔ لیکن مسئلہ ختم نہ ہو سکا۔ اپنی بچیوں کو بچانے کے لیے ناز شاہ کی والدہ نے اس شخص کو قتل کر ڈالا اور 14سال کے لیے جیل چلی گئیں۔ والدہ کے بعد نازشاہ پر بہنوں کی ذمہ داری آ گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب ناز شاہ نے غربت و افلاس کو بہت قریب سے دیکھا ۔ نازشاہ والدہ کے جیل جانے کے بعد گھر کی ذمہ داریوں کی وجہ سے زیادہ پڑھ بھی نہیں سکی۔ 15سال کی عمر میں نازشاہ کی شادی ہو گئی مگر وہ بھی اسے راس نہ آئی اور 1992میں شوہر سے الگ ہو گئی۔ ناز شاہ نے ہمت نہ ہاری اور ایک ہسپتال کی لانڈری میں کام کرنے لگ گئی۔

ساتھ ساتھ وہ اپنی والدہ کو جیل سے نکلوانے کے لیے سماجی کاموں میں حصہ لینے لگی۔ والدہ کو 2002میں جیل سے رہا کرانے میں کامیاب ہونے کے بعد اوریک سوئی سے سماجی کاموں میں حصہ لینے لگی۔ اس مرتبہ لیبر پارٹی نے انھیں بریڈفورڈ ویسٹ سے اپنا امیدوار نامزد کیا اور وہ جارج گیلوے کو شکست دیکر پارلیمینٹ میں پہنچ گئیں۔ برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں ایک اور اپ سیٹ یہ ہوا کہ گلاسکو سینٹرل سے دارلعوام کی نشست پر لیبر پارٹی کے امیدوارانس سرور ہار گئے۔ انس سردر سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کے صاحبزادے ہیں۔ سرور صاحب پاکستان میں اقتدار کے مزے لوٹنے آئے تھے۔ مگر اب نہ یہاں کے رہے نہ وہاں کے۔ ہوسکتا ہے وہاں بھی چوہدری سرور دھاندلی کا الزام لگادیں اور برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیکر بیٹھ جائیں۔ مگر ان کے فیصلہ کرنے سے پہلے ہی جارج گیلولے نے پہل کر دی۔اور بریڈ فورڈ سے ناز شاہ کی جیت کو چیلنج کردیا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ پوسٹل بیلیٹگ میں بڑے پیمانے پر بے ظابطگیاں ہوئی ہیں ۔ ہو سکتاہے لگے ہاتھوں چوہدری سرور بھی دھاندلی کے الزامات لگادیں اور عمران خان اور طاہرالقادری کی طرح لندن میں کنٹینرنشیں ہو جائیں۔

میں تو اس بات پر حیران ہوں کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں کئی نسلوں سے آباد گورے امیدوار ہار جاتے ہیں اور ان کے مقابلے میں ایسے ایشیائی امیدوار جیت جاتے ہیں جہاں لوگ روزی روٹی کا بندوبست کرنے جاتے ہیں اور نہ صرف انہیں محنت کا صلہ ملتا ہے بلکہ معاشرے میں باعزت مقام حاصل ہوتاہے۔ اور چند برس کی سکونت کے بعد برطانوی شہریت بھی مل جاتی ہے۔ کیا ہمارے ملک میں ایسا ممکن ہے کہ کسی اور ملک کے شہری کو یہ مقام و مرتبہ حاصل ہوسکے یا کوئی غریب کا بچہ محض اپنی محنت و صلاحیت کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کرلے؟ وہ گورے تو غیروں کو وسعت قلبی کے ساتھ اپنے اندر ہضم کر لیتے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ اپنے ہم مذہب شہریوں میں غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹتے پھرتے ہیں اور ہمارے ہاں یہ عالم ہے کہ تین نسلیں رچ بس جانے کے باوجود بھی ہجرت کرکے پاکستان آنے والے بھی خودکومہاجر کہتے ہیں اور معاشرہ بھی ان سے مہاجروں جیسا ہی سلوک کرتاہے۔ کچھ بعید نہیں کہ چند برس بعد کوئی ایشیائی برطانیہ کا وزیراعظم بن جائے مگر ان گوروں کے مقابلے میں ہمارے برادر اسلامی ممالک کی مہمان نوازی اور بھائی چارے کا یہ عالم ہے کہ آپ اپنی ساری زندگی وہاں بسر کردیں اپنا سرمایہ وہاں لے جائیں وہاں کسی مقامی خاتون سے شادی بھی کرلیں مگر آپ کا شمار عجمیوں میں ہی ہو گا آپ وہاں قیام و طعام اور کاروبار کے لیے کسی کفیل کے محتاج ہوکر رہنا پڑے گا۔ ان گوروں کے ملک میں تو یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ اگر کوئی ہوائی جہاز میں سفر کے دوران بچہ پیدا ہوجائے تو بوقت پیدائش جہاز جس ملک کی ہواوں اور فضاوں میں ہو بچے کو وہاں شہریت مل جاتی ہے۔ مگر کیا کسی عرب ملک میں یہ سہولت دستیاب ہوسکتی ہے؟ یقین کیجیے جب سے برطانیہ میں الیکشن کے نتائج سامنے آئے ہیں میں یہی سوچے جارہا ہوں کہ یہ کیسا ملک ہے؟ یہ کیسے لوگ ہیں؟ ان کے ہاں بھی خرابیاں ہو نگی اور ہیں بھی مگر یہ گورے نام نہاد مسلمانوں سے بدر جہا بہتر ہیں۔ یہ انہونی ان گوروں کے ہاں ہی ہوسکتی ہے کہ پاکستان سے وہاں آباد ہو نے والے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا وزیر بن جائے اور ایک ایسی خاتون جس کے باپ نے بے یارو مددگار چھوڑدیا اور ماں قتل کے مقدمے میں جیل چلی گئی۔ اسے برطانوی عوام نے اپنی نمائندگی کے لیے منتخب کرلیا۔

مزید : کالم