سپریم کورٹ نے ڈیتھ وارنٹ کیخلاف شفقت حسین کی اپیل خارج کر دی

سپریم کورٹ نے ڈیتھ وارنٹ کیخلاف شفقت حسین کی اپیل خارج کر دی

 اسلام آباد (آن لائن ، اے این این ) سپریم کورٹ نے کراچی میں سات سالہ بچے کے اغواء اور قتل میں سزائے موت پانے والے شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ کیخلاف اپیل خارج کر دی۔بدھ کے روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے شفقت حسین کے ڈیتھ وارنٹ کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے پھانسی نہیں روکی تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا جس میں پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اپیل فائل ہونے کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ نے اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت پھانسی روکی تھی ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہ شفقت حسین کی حتمی اپیل مسترد ہو گئی تھی جس کے بعد صدر مملکت نے رحم کی اپیل بھی مسترد کر دی تھی ، ڈیٹھ وارنٹ جاری ہونا انتظامی معاملہ ہے ، سپریم کورٹ انتظامی امورمیں مداخلت نہیں کر سکتی ،عدالت اس سے قبل بھی نظر ثانی درخواست مسترد کر چکی ہے ، عدالت دو بار ہ صدر اپیل نہیں بھیجوا سکتی ، عدالت کے پاس اختیار نہیں کہ دوبارہ نظر ثانی اپیل کو سنے ،شفقت حسین کا عدالت کی حد تک کیس ختم ہو چکا ہے۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے سوال کیا کہ عدالتی فیصلے کے بعد انتظامیہ عمر کا تعین کیسے کر سکتی ہے ۔ مجرم کے وکیل ڈاکٹر طارق نے اپنے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 45 کے تحت معافی ملنا ان کا قانونی حق ہے جس پر چیف جسٹس ریمارکس دیئے کہ اس آرٹیکل کے تحت معافی آپ کا حق نہیں بلکہ یہ صوابدیدی اختیار ہے۔ جینوا کنونشن نے بھی شفقت حسین کی عمر کے تعین کا سوال اٹھایا ہے لیکن عدالت کو قوانین دیکھنا ہوتے ہیں۔سپریم کورٹ نے شفقت حسین کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالت اس سے قبل بھی نظرثانی درخواست مسترد کرچکی ہے، اس کے پاس دوبارہ نظر ثانی اپیل کو سننے کا اختیار نہیں، 2 بار صدر کے پاس اپیل نہیں بھجواسکتے۔دوران سماعت جسٹس اعجاز افضل نے کہا شفقت حسین کی کم عمری کا معاملہ کسی بھی عدالتی سطح پر نہیں اٹھایا گیا ۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیئے کہ شفقت حسین کی کم عمری کا معاملہ سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست میں اٹھایا گیا۔ آرٹیکل 45 کے تحت انتظامیہ اب کس طرح سے عمر کا تعین کر سکتی ہے۔ نظرثانی درخواست خارج ہونے کے بعد صدر معافی کی درخواست بھی مسترد کر چکے ہیں ۔

انتظامی معاملے میں دخل نہیں دیں گے ۔ طارق حسن ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا بعض معاملات میں عدلیہ ایسا کر سکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا شفقت حسین کے معاملے پر انتظامیہ کا بہت آگے جانا غیر معمولی واقعہ ہے ۔ شفقت حسین کا عدالت میں کیس بند ہو چکا ہے ، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اواضح ر ہے کہ شفقت حیسن کی پھانسی 4 مرتبہ ملتوی ہوچکی ہے، گزشتہ روز جسٹس ناصر الملک نے شفقت حسین کی سزائے موت پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی۔

مزید : علاقائی