چیف انجینئر محکمہ آبپاشی سرگودھا کیخلاف بے ضابطگیوں کی انکوائری سرد خانہ کی نذر

چیف انجینئر محکمہ آبپاشی سرگودھا کیخلاف بے ضابطگیوں کی انکوائری سرد خانہ کی ...

لاہور(اقبال بھٹی)محکمہ آبپاشی کی چیف انجنئیر سرگودھا زون ملک سلیم کیخلاف کروڑوں روپوں بے ضابطگیوں کی انکوائری سرد خانے کی نذر ہو گئی۔ملک سلیم پر الزامات ہیں کہ انہوں کے بغیر تشہیر کے من پسند ٹھیکیداوں کا کام دیئے اور ملک سلیم غیر قانونی طور پر سیکرٹری ایریگیشن کے اختیارات بھی استعمال کر تا رہا ہے۔تفصیلات کیمطابق ملک سلیم ریگولرچیف انجنئیر نہیں ہیں بلکہ وہ سپریٹنڈنٹ انجنئیر ہیں اور سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر تین عہدوں پر تعینات رہے اور تمام عہدوں پر اپنے اختیارات سے تجاوز اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے رہے جس سے محکمے کو کروڑوں روپوں کا نقصان ہو ا ہے۔ملک سلیم کرنٹ چارج پر سرگودھا زون کے چیف انجنئیر تعینات ہیں مگر اختیارات محکمہ آبپاشی کے سیکرٹری کا استعمال کرتا رہا ہے۔23فروری 2015کو چیف منسٹر شکایات سیل کے ڈائریکٹر نے چیف سیکرٹری پنجاب کو بذریعہ ڈائریکٹو نمبر DIR(CC) PSV/15/CMO 7138بھیجا جو کہ چیف سیکرٹری پنجاب نے وزیر اعلیٰ سیل کی طر ف سے آنے والے ڈائریکٹو کی انکوائری 26فروری کوسیکرٹری آبپاشی کو بھیج دی جس کا ڈائری نمبر2015ہے۔اس چٹھی پر "Most urgent"لکھا گیا تھا سیکرٹری آبپاشی نے مذکورہ انکوائری شبیر احمد چوہدری سیکشن آفیسر کنفیڈینشل کو بھجوائی تھی مگر ملک سلیم کے بااثر ہونے کیوجہ سے 4ماہ گرزنے کے باوجود انکوائری پر پیش رفت نہ ہوسکی ۔اس کے علاوہ ملک سلیم نے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کو بغیر ٹینڈر کے جو کام دیئے ان میں پروٹیکشن آف بھکر فلڈ ون آرڈی نمبر 4+000تا11+500جس کی مالیت 71.860ملین تھی اور یہ کام میسرز رانا ٹریڈرز کو دیا گیا تھااور چیف انجنئیر ملک سلیم نے اس کے آرڈر9جون 2014کو کیے تھے۔دوسر اکام پروٹیکشن آف ڈائمج پورشن آف ہاکی سپورآرڈی نمبر 75+800آف بھر فلڈ ون جس کی مالیت 9.774ملین تھی اور یہ کام میسرز پارکوکنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا تھاجس کی منظوری بھی9جون 2014کو دی گئی۔چیف انجئیر ملک سلیم نے تیسر ا کام ریسٹوریشن آف ڈیمج گائیڈ پورشن آف J-SPURنمبر 4آر ڈی نمبر 47+000آف بھکر فلڈ ون جس کی مالیت 32.552ملین ہے اور یہ کام میسرز رانا ٹریڈرز کو دیا گیا ۔چیف انجنئیر سرگودھا زون نے چوتھا کام پروٹیکشن آف مول ہیڈ ڈیم ایج J-Head SPUR No.7 RD No.71+750بھکر فلڈ ون دیا جس کی مالیت 34.916ملین روپے ہے اور یہ کام میسرز سپارکو کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا ۔مذکورہ ٹینڈر عمومی حالات میں دیئے گئے جبکہ محض ان ٹینڈروں کی تشہیر نہیں کی جاتی جو ایمرجنسی سیلاب کی صورت یا حالت جنگ میں ہوں لیکن مذکورہ ٹینڈروں میں کوئی بھی ایسا ٹینڈر نہیں اور ایمرجنسی کی صورت میں دیئے جانے والے ٹینڈرز کی منظوری کا اختیار بھی سیکرٹری ایریگیشن کے پاس ہوتا ہے جس پر ملک سلیم ؂ مذکورہ ٹینڈر دے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے سیکرٹری کے اختیارات استعمال کیلئے اور چیف انجنئیرنے محض من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے اور بھاری کمیشن کی خاطر تمام تر قوانین ہوا میں اڑ دیئے جس پر محکمہ بھی تاحال کارروائی نہیں کر سکا اور جس کی بڑی وجہ ملک سلیم کا بااثر ہونا بتایا جاتا ہے۔باربار رابطہ کرنے پر ملک سلیم نے کال اٹینڈنہ کی ۔

مزید : علاقائی