سی اینڈ ڈبلیو میں سنگین نوعیت کی بے ظابطگیوں کا انکشاف

سی اینڈ ڈبلیو میں سنگین نوعیت کی بے ظابطگیوں کا انکشاف

 لاہور(شہبازا کمل جندران//انویسٹی گیشن سیل)مالی سال کے آخری مہینے کے آغاز پر ہی لاہور میں سی اینڈڈبلیو اور ڈسٹرکٹ بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ کے انجینئروں نے سرکاری گھروں اور عمارتوں کی مرمت کے نام پر کروڑوں روپے کے اخراجات کے بل بنا ڈالے غیر قانونی طورپر ایڈوانس کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو بوگس تخمینوں کے ذریعے سو فیصد سے بھی زائد اضافی بل دیے جانے لگے کرپشن کے اس عمل میں متعلقہ محکموں کے اہلکار بھی ملوث نکلے۔ معلوم ہواہے کہ مالی سال کے آخری مہینے میں بجٹ میں رکھے جانے والے فنڈز کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاہم علم میں لایا گیا ہے کہ سی اینڈڈبلیو کے ساتھ ساتھ ضلعوں میں ورکس اینڈسروسز کے ماتحت ڈسٹرکٹ بلڈنگز کے انجینئروں نے اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ماہ جون کے آغاز سے ہی سرکاری گھروں اور عمارتوں کی مرمت ، خصوصی مرمت اور وائٹ واش وغیرہ کی مد میں کروڑوں روپے کے بل بنانا شروع کردیئے ہیں۔ بتا یا گیا ہے کہ جی اوآر کے علاوہ شہر کی مختلف عمارتوں میں متعلقہ انجینئرز اپنے چہیتے ٹھیکیداروں سے کسی ٹینڈر کے بغیر ہی غیر قانونی طورپر ایڈوانس کام کرواتے ہیں اوربوگس تخمینوں کے ذریعے سو فیصد سے بھی زائد اضافی بل ادا کرتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم اینڈآر کے کسی بھی منصوبے کی چھا ن بین سے حقیقت عیاں ہوسکتی ہے لیکن سی اینڈڈبلیو اور ضلعی انتظامیہ ملی بھگت کے باعث کارروائی نہیں کرتی۔ ذرائع کے مطابق سی اینڈڈبلیو میں ان دنوں بوگس کوٹیشنوں کے تحت مخصوص تعمیراتی فرموں کو نوازنا معمول بن گیا ہے۔شہر کی8بلڈنگز ڈویژنوں میں اکا دکا ایکسئینز کے سوا تمام ایکسئین اور ڈی او بلڈنگز ٹوراؤ خورشید عالم نے مبینہ طورپر ایک سال کے دوران جعلی کوٹیشنوں پر کروڑوں روپے کی ادائیگی کی یہ انجینئربوگس ورک آرڈر یا کوٹیشنوں کے تحت مخصوص ٹھیکیداروں کو نوازنے اور اپنی جیبیں بھرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق سی اینڈڈبلیو پنجاب کے قواعد وضوابط کے تحت تعمیر ومرمت کا ایسا منصوبہ جس پر لاگت کا تخمینہ 50ہزار روپے تک ہو اس کے لیے اخبار میں ٹینڈر کا اشتہار دینے کی ضرورت نہیں ہوتی اور ایکسئین کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسا کام کوٹیشن کے تحت کرواسکتا ہے جس کا نوٹس وہ اپنے دفتر کے نوٹس بورڈ پر چسپاں کرنے کا پابند ہوتا ہے لیکن متذکرہ بالا ایکسئین عام طورپر نوٹس چسپاں کرنے کے جھنجھٹ میں پڑنے کی بجائے اپنے چہیتے ٹھیکیداروں کو ایسے ورک آرڈر یا کوٹیشنیں دلاتے ہیں اور اپنا حصہ الگ سے وصول کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایکسئین 70سے 80فیصد رقم اپنی جیب میں ڈالتے ہیںیہ بھی معلوم ہوا ہے پچاس ہزار روپے کا ورک آرڈر 35سے 40ہزار روپے میں ٹھیکیدار کوبیچا جاتا ہے جواب میں ٹھیکیدار موقع پر ہی ایکسئین کو یہ رقم دے دیتا ہے۔ اور بعدازاں بل بنوانے کے بعد خزانے سے رقم حاصل کرتا ہے یوں ٹھیکیدار کو بھی کسی بھی قسم کا کام کئے بغیر ہی 10سے 15ہزار روپے کی بچت ہوتی ہے اس سلسلے میں گفتگو کے لیے صوبائی سیکرٹری مواصلات وتعمیرات پنجاب ،اور ڈی او بلڈنگز ٹو لاہور راؤ خورشید عالم سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے موقف دینے سے اجتناب برتا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1