مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کے کردار کیخلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کے کردار کیخلاف قرارداد متفقہ ...

 لاہور( نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ’’مشرقی پاکستان ‘‘کو بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کردار کے اعتراف میانمار(برما) میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے والے مظالم کے خلاف مذمتی اور سابق رکن اسمبلی رانا شمشاد اور ان کے بیٹے کی ناگہانی موت پر تعزیتی قراردادیں متفقہ طور پر منظورکر لی گئیں۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں دو بلوں کی بھی منظوری دی گئی ۔گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بھارت وزیر اعظم نریند مودی کی طرف سے ڈھاکہ کے متعلق دیے جانے والے بیان کے خلاف ایک قراداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ’’مشرقی پاکستان‘‘ کو بنگلہ دیش بنانے میں بھارتی کردار کے اعتراف کو عالمی برادری کے لئے چیلنج قرار دیتے ہوئے یہ ایوان سمجھتا ہے کہ کیا اقوام عالم دوسرے ملک کی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے عزت و احترام کے لئے اسے جائز سمجھتی ہے؟بھارت اپنے طرز عمل اور اقدامات کے حوالے سے دہشت گردی ،تخریب کاری اور سازشوں پر یقین رکھتا ہے اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے اپنے ہمسایہ ممالک کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پیدا کرنے کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔لہذاہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اعترافات جہاں ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں وہاں ہماری حکومت کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ بھارت کے مکروہ اور بھیانک کردار کو عالمی سطح پر بے نقاب کرے اور اس کی تخریب کارانہ سرگرمیوں سے دنیا کو آگا کرے اور بتائے کہ پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والی بھارتی قیادت دراصل خود دہشت گردی کو ابھارنے اور پھیلانے میں کردار ادا کررہی ہے لہذاہ اس کے کردار کا نوٹس لیا جانا چاہیے ،یہ ایوان بھارت وزیر اعظم نریند مودی کے اس طرز عمل کو شرمناک اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت کے جارہانہ طرز عمل کے خلاف قومی لائحہ عمل کے تعین کیلئے فوری طور پر قومی قیادت کو اعتماد میں لے کر ایک موثر لائحہ عمل کا اعلان کرے۔یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی جسے رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال نے ایوان میں پڑھاْدوسری قرارداد میانمار(برما) میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف تھی جس میں کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی ایوان میانمار کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب میانمار کے مغربی علاقے میں بسنے والے لاکھوں مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے خواتین اور معصوم بچوں کو بھی انتہائی اذیت ناک ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے باوجود اقوام متحدہ ،سلامتی کونسل ،ایمنسٹی انٹر نیشنل سمیت عالمی ادارے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز سلوک پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ،یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس انسانی مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر فوری طور پر اٹھانے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں ۔ تیسری قرارداد میں رکن اسمبلی رانا شمشاد اور ان کے بیٹے کی ناگہانی موت پر گہرے رنج غم کا اظہار اور ان کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ ایوان ایک نہایت شریف النفس انسان اور منجھے ہوئے سیاستدان سے مرحوم ہو گیا ہے مرحوم بذریعہ سیاست عوامی خدمت میں مصروف تھے یہ ایوان دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ یہ قرارداد صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے ایوان میں پیش کی اور یہ تینوں قراردادیں آؤٹ آف ٹرن ایوان میں پڑی گئیں،یہ تینوں قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں ۔ دوسری طرف گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں جھنگ یونیورسٹی کے مسودہ قانون اور ساہیوال یونیورسٹی کے مسودہ قانون کی منظوری دے دی گئی دونوں بل وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کی طرف سے ایوان میں پیش کئے گئے ساہیوال یونیورسٹی بل کی منظوری کے بعد رکان اسمبلی نے صوبائی وزیر ملک ندیم کامران کو مبارک باد بھی دی ساہیوال یونیورسٹی کی منظوری پر ملک ندیم کامران بہت خوش تھے اور انہوں نے اس موقع پر وزیرچ اعلیٰ پنجاب ارکان اسمبلی کا شکریہ بھی ادا کیا۔ایوان میں ایک آرڈیننس بھی متعارف کرایا گیا جسے بعد ازاں متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپر کردیا گیا۔اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ مودی نے پاکستان کو توڑنے کا اعتراف کرلیا ہے،اس کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے آگیا ہے،حکومت فوری طور پر انڈین سفیر کو طلب کرے اور اس کو نوٹس لے ،بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں،وہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں گفتگو کررہے تھے،انہوں نے کہا پوری قوم دو راتوں سے سو نہیں سکی ہے بھارتی حکومت نے اپنے ناپاک عزائم کو پھر سے دوہرایا ہے ،ان کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا،اس کے بیان کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں،بھارت کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں ہوسکتا پاکستان حکومت کو چاہیے کہ فوری بھارتی سفیر کو طلب کرے اور اس بیان کو نوٹس لے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں،صوبائی وزیر قانون ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ ہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں،بھارت پاکستان کے نرم رویے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے،نریندرمندی کا بیان حقیقت پر مبنی ہے ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کو دوٹکرے کرنے میں بھارت کا ہاتھ ملوث ہے،کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اس کے بغیر بھارت سے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے،وہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں گفتگو کررہے تھے۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر