میانمر میں بھارت کی فوجی مداخلت، پاکستان کو دھمکی اور نریندر مودی!

میانمر میں بھارت کی فوجی مداخلت، پاکستان کو دھمکی اور نریندر مودی!

تجزیہ چودھری خادم حسین

بھارت کی طرف سے میانمر(برما) میں فوجی مداخلت اور اس کے بعد بھارتی وزیر کے دھمکی آمیز بیان سے برصغیر اور خطے کی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی حسینہ واجد سے اٹل بہاری واجپائی کے نام سے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے جو کچھ کہا کہ مشرقی پاکستان توڑنے کے لئے بھارت نے مداخلت کی اس پر پاکستان کی وزارت خارجہ نے مہذبانہ احتجاج کیا، دنیا اور اقوام متحدہ کی توجہ مبذول کرائی کہ دوسرے خود مختار ممالک میں مداخلت کے اعتراف پر عالمی قواعد کے تحت بھارت کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ہمارے وزیراعظم محمد نوازشریف نے دوشنبے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کے دوران سیکرٹری جنرل سے اپیل کی کہ پورے خطے میں امن کے لئے ان امور کا نوٹس لیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور کا فیصلہ کروائیں کہ کشمیر تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فیصلہ طلب اور متنازعہ بھی ہے۔ وزیراعظم نے موقع غنیمت جان کر سفارتی انداز اپنایا اور سیکرٹری جنرل سے پاکستان کے تمام تر تحفظات کا تفصیل سے ذکر کر دیا۔

ادھر میانمر میں بھارتی فوجی مداخلت کے بعد پاکستان کو دی جانے والی دھمکی پر ملک میں شدید ردعمل ہوا ہے۔ یہ درست ہے کہ حافظ سعید اور جنرل (ر) حمید گل جیسے رہنماؤں نے زیادہ سنجیدہ نوٹس لے کر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر بھی عوام کے اندر غصہ پایا جاتا ہے البتہ سنجیدہ اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے طبقے نے سرکاری سطح پر سفارتی آداب کے مطابق احتجاج اور بان کی مون سے براہ راست ملاقات میں مطالبے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور توقع ظاہر کی حکومت اس سلسلے میں سخت احتجاج بھی کرے گی، جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو ان کو پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی یہ بات یاد ہے کہ فکر کی کوئی ضرورت نہیں، پاکستان اپنے دفاع کی مکمل ترین صلاحیت رکھتا ہے۔

اس تمام تر صورت حال کا ایک فطری ردعمل عام لوگوں میں نظر آیا جو سیاسی رہنماؤں کی محاذ آرائی کو تشویش سے دیکھ رہے ہیں ان کے مطابق یہ سیاسی قائدین بھارتی رویئے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی بجائے آپس میں دست و گریبان ہیں اور ان کو دشمن کی فکر نہیں، ہم عرصہ سے اس موقف کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ملک کے اندر سیاست اپنی جگہ ہر ایک جماعت کو اپنے منشور اور پروگرام کے مطابق عوام سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے اور پھر سب کو اسی طرح عوامی فیصلے کے سامنے سر جھکا دینا چاہیے، جیسے گلگت بلتستان کے نتائج کو تسلیم کرکے کیا ہے، کم از کم قومی امور اور قومی مفادات اور نکات پر سب کو مل کر موقف طے کر لینا چاہیے اور پھر ان کے حوالے سے ہی بات کرنا چاہیے ان کے بارے میں جہاں اور کہیں بھی بات ہو تو موقف میں یکسانیت ہو، جمہوریت کا نام لینے والوں کو جمہوری رویہ اپنانا ہوگا اور وہ یہی ہے کہ قومی مفادات اول ترجیح ہیں۔

اس وقت جو حالات ہیں وہ قطعاً خوشگوار نہیں ہیں، خیبرپختونخوا میں نئی قسم کی محاذ آرائی شروع ہے۔ معاملات کو آئین و قانون اور اداروں کے اختیارات سے بھی بالا طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے اداروں کے ساتھ تصادم کی بھی نوبت آ سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور قائدین کو گریز کرنا چاہیے۔

آج پھر پرانی درخواست کہ وزیراعظم زیادہ بااعتماد ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں حزب اختلاف، مخالف جماعتوں اور عوام کو نظر انداز کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعظم مختلف ایشوز پر اے پی سی کر چکے ہیں، اب ان کو ایک اور اے پی سی کرنا چاہیے جس میں سب متعلقہ پارلیمانی اور پارلیمان سے باہر کی جماعتوں کی نمائندگی ہو، ہجوم نہ ہو، ایسی کانفرنس کا مخصوص ایجنڈا قومی مسائل اور قومی تحفظ، ملک کی سلامتی ہونا چاہیے اور یک زبان اتحاد کا اعلان سامنے آئے اس کے ساتھ ہی یہ وعدہ کہ تمام عمل جمہوری ہوگا کسی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

فوجی مداخلت

مزید : تجزیہ