گڑبڑشادی کے دن سے ہی شروع ہو گئی،طلاق شدہ افراد نے ازدواجی زندگی کے ان رازوں سے پردہ اٹھا دیاجن پر عمل کر کے آپ بھی ناکامی سے بچ سکتے ہیں

گڑبڑشادی کے دن سے ہی شروع ہو گئی،طلاق شدہ افراد نے ازدواجی زندگی کے ان رازوں ...
گڑبڑشادی کے دن سے ہی شروع ہو گئی،طلاق شدہ افراد نے ازدواجی زندگی کے ان رازوں سے پردہ اٹھا دیاجن پر عمل کر کے آپ بھی ناکامی سے بچ سکتے ہیں

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) طلاق کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ایک نئی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ علیحدہ ہونے والے تقریباً آدھے جوڑے شادی کے وقت ہی اپنے جیون ساتھی کے متعلق شکوک و شبہات کا شکار تھے اورشادی پر پوری طرح رضامند نہ تھے۔

مزیدپڑھیں:موٹر سائیکل رکشے پر بیٹھ کر فحش فلمیں دیکھنے والے شہری کا عبرتناک انجام،انتہائی دردناک سزا مل گئی

محققین کا کہنا ہے کہ طلاق کے آدھے سے زیادہ کیسزمیں شادی کے وقت ہی دولہا یا دلہن کے دل میں خواہش ہوتی ہے کہ ان کی شادی کسی طرح رک جائے، اس وقت مہمانوں کی موجودگی میںشرم کے باعث وہ شادی روکنے کے لیے منہ سے کچھ نہیں کہتے،ان پر والدین کا دباﺅ ہوتا ہے یا پھر وہ تقریب پر اٹھنے والے بھاری اخراجات کی وجہ سے چپ رہتے ہیں،زیادہ تر ایسے جوڑوں کی شادی طلاق پر منتج ہوتی ہے۔اس تحقیق کے لیے دو وکلاءسلیٹر اور گورڈن نے طلاق لینے والے 1600افراد کے انٹرویوز کیے جن میں سے 49فیصد افراد نے کہا کہ انہیں شادی کے دن ہی یہ شک تھا کہ ان کی شادی کامیاب نہیں ہو پائے گی۔سروے میں شامل دو تہائی افراد نے انکشاف کیا کہ انہوں نے شادی کے دن ہی تہیہ کر رکھا تھا کہ وہ کچھ عرصہ بعد طلاق لے لیں گے۔ 10میں سے 4افراد نے محض اس امید پر شادی کی کہ شاید کامیاب ہو جائے۔ سروے میں شامل ہر 6میں سے ایک شخص شادی کے دن اپنے جیون ساتھی کے حوالے سے تحفظات کا شکار تھالیکن انہوں نے اس لیے شادی کر لی کہ شاید وہ شادی کے بعد اپنے جیون ساتھی کا رویہ بدلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ سروے میں اس بات کے واضح ثبوت ملے کہ آدھے سے زیادہ کیسز میں شادی سے قبل ہی دولہا یا دلہن کے دل میں طلاق کا بیج موجود ہوتا ہے جو بعد میں بارآور ثابت ہوتا ہے۔باعث حیرت امر یہ ہے کہ سروے میں شامل آدھے سے زیادہ افراد نے کہا کہ انہیں اپنی شادی کے ناکام ہو جانے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔سلیٹر اور گورڈن کا کہنا تھا کہ جوڑوں کو طلاق سے بچنے کے لیے شادی کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس