’’سفرنامہ کیلاش ‘‘روحانی سلسلہ کے معروف گدی نشین اور سیاست دان کا ’’مٹتی کافر تہذیب ‘‘ کا آنکھوں دیکھا حال (قسط نمبر 4)

’’سفرنامہ کیلاش ‘‘روحانی سلسلہ کے معروف گدی نشین اور سیاست دان کا ’’مٹتی ...
’’سفرنامہ کیلاش ‘‘روحانی سلسلہ کے معروف گدی نشین اور سیاست دان کا ’’مٹتی کافر تہذیب ‘‘ کا آنکھوں دیکھا حال (قسط نمبر 4)

  

پیر زادہ ثاقب خورشید عالم پاکستان کے مشہور روحانی سلسلہ کے گدی نشین اور سیاسی رہنما ہیں ، خوبصورت مقامات کی سیر و سیاحت کے دلدادہ پیر زادہ صاحب نے حالیہ دنوں میں’’وادی کیلاش ‘‘ کی جنت نظیر وادی کا انتخاب کیا ،کئی دنوں تک وہاں کے سالانہ میلے اوربَل کھاتے پہاڑی سلسلوں کا طواف کرنے کے بعد واپس اسلام آباد لوٹے ہیں ۔’’روزنامہ پاکستان ‘‘ کے لئے انہوں نے ’’وادی کیلاش‘‘ کا سفرنامہ شروع کیاہے جسے ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے قسط وار شائع کر رہے ہیں۔’’سفر نامہ کیلاش ‘‘ کی چوتھی قسط حاضر خدمت ہے )

ڈم ڈم ڈم ڈم !!!

مسلسل قریب آتی آوازوں سے آنکھ کھل گئی۔ باہر کافی چیخ و پکار تھی۔ہوٹل کے کمرے سے باہر نکلا تو دیکھا چند کیلاش بچے ہوٹل کے مرکزی دروازے کے پاس کھڑے ڈھول پیٹ رہے تھے۔پوچھنے پہ پتا چلا کہ تہوار کے تینوں دن رات یہ ڈھول پیٹا جاتا ہے صرف رات کو چند گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔۔اب یہ بچے بازار سے گزرتے ہوئے تھوڑے تھوڑے فاصلے پہ کھڑے ہو کر ڈھول پیٹ رہے ہیں اور تیز تیز لہجے میں مقامی زبان میں کچھ بول بھی رہے ہیں۔گزشتہ دن مسلسل سفر کی تھکاوٹ سے رات کو گھوڑے بیچ کر سویا۔کوئی جگانے والا بھی نہیں تھا ۔اب ڈھول بجنے کی آواز سے آنکھ کھلی تو دن چڑھ چکا اور صبح کے دس بج چکے تھے۔حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کرفجر کی قضا نماز ادا کی۔دن کو موسم قدرے گرم تھا اس لئے ایک آدھی آستینوں والی شرٹ اور لانگ شارٹس زیب تن کئے، جاگرز کے تسمے کسے، کیمرہ اور ہیٹ اٹھایا اور کمرہ مقفل کر کے باہر آگیا۔

صاب ناشتہ لاوں؟؟

ہوٹل کا واحد ویٹر کسی جن کی طرح کہیں سے نمودار ہوا۔۔۔۔ارے یار تم نے تو ڈرا ہی دیا۔کیا ملے گا ناشتے میں؟

سب کچھ ملے گا صاب ۔

پراٹھا آملیٹ لے آو اور زبردست سی دودھ پتی۔۔

ناشتے کا آرڈر دے کر میں کچن کے سامنے ہی بنے ایک چھوٹے سے باغیچے میں خوبانیوں کے درخت کے سائے تلے موجود کرسی پہ بیٹھ گیا۔۔تھوڑی دیر میں ویٹر ناشتہ لے آیا

تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ارے میں نے تو پراٹھے کا آرڈر دیا تھا یہ کیا لے آئے ہو ؟؟سامنے پلیٹ میں موجود پوڑی نما تلی ہوئی چیز موجود تھی۔

صاب یہ سپیشل پراٹھا اے آپ چکھو تو سہی۔۔اور واقعی چکھنے پہ خستہ اور مزیدار لگا۔سیر ہو کر ناشتہ کرنے کے بعد ہوٹل سے باہر نکلا اور بمبوریت کے گاوں کا معائنہ کرنے چل پڑا۔۔

بڑے بڑے پہاڑوں کے سایہ میں واقع بمبوریت گاوں میں کئی بستیاں آباد ہیں۔جن میں سے کچھ بستیاں مسلمانوں کی اور کچھ کافروں کی تھیں۔درمیان میں کفر و ایمان کی آمیزش والا مشترکہ بازار ہے جس میں چھوٹی چھوٹی دوکانیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وادس۔۔کندی سار۔پہلوندہ اور شیخان دہ ۔۔۔۔میں مسلمان آباد ہیں جبکہ

برون۔انیش کراکار میں اھل کفار رہتے ہیں البتہ بتریک نامی بستی میں حق و باطل ایک ساتھ ہیں۔۔اور سب مل جل کر امن و سکون سے رہتے ہیں۔

فارنرز ٹورسٹ ان ہوٹل سے نکلنے کے بعد میں دائیں جانب ہو لیا۔چوبی تختے کے برآمدوں پہ کھڑے ہو کر ان دوکانوں میں جھانکتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔

کیلاش عورتوں کے لباس والی دوکان۔۔اس سے آگے مقامی استعمال کے برتنوں والی دوکان پھر پتھر نگینے اور موتیوں والے ہاروں کی دوکان۔مقامی کاشت کردہ کچھ جانی پہچانی شکلوں والی اور بیشتر نامعلوم اور عجیب سی ہئیت والی سبزیوں کی دوکانیں۔

کچی سڑک پہ پانی بہنے کی وجہ سے کیچڑ سا بنا ہوا تھا۔پھر دائیں جانب ایک مسجد آئی۔تھوڑا آگے چل کر ایک لکڑی کے ستونوں والی عمارت جس کی بالائی منزل پہ ناظم اور نائب ناظم وغیرہ کے ناموں اور عہدوں کی تختیاں آویزاں تھیں لیکن اس عمارت کے سب دفاتر پہ تالا پڑا ہوا تھا غالباً میلے کی چھٹیاں تھیں۔۔

زرا آگے چل کے ایک چھوٹی سی دوکان جس کی چھت پہ لگی چمنی سے دھواں باہر نکل رھا تھا اندر جھانکا تو معلوم ہوا نانبائی کی دوکان ہے۔

بھائی صیب اندر آ جاو آواز آئی۔ اندر ایک صاحب بنیان میں ملبوس تندور کے سامنے کھڑے تھے۔۔روٹی چاہئیے؟؟انہوں نے پوچھا میں نے نفی میں سر ھلایا۔اچھا امارا پھوٹو بناو۔انہوں نے کندھے پہ لٹکے ڈے ایس ایل آر کینن کے کیمرے کو دیکھ کر پوز بنایا۔غالباً مجھے کسی اخبار کا فوٹوگرافر سمجھ لیا تھا۔ انکی تصویر بنائی۔دراصل میں اس دوکان کے اندر بھٹی نما تندور دیکھ کرمتجسس ہوا تھا۔۔ قدیم اطالوی پزا بنانے والی بھٹیوں کی طرز پہ پتھروں سے بنایا گیا تندور جس کی دیوار میں ایک گول سوراخ تھا جسے اندر آگ دہک رہی تھی۔

یہ تندور عمودی طرز کا تھا اور نانبائی بڑی مہارت کے ساتھ بڑی بڑی سرخ آٹے والی روٹیاں اس میں سے نکال رھا تھا۔چند لمحے اسے روٹیاں لگاتے تکتے رہنے کے بعد وہاں سے نکلا اور ڈھول پیٹنے والی کی تلاش میں بتریک بستی کی جانب چل پڑا۔۔۔۔ بازار کے بیچوں بیچ ایک راستہ بلندی کی جانب جا رھا تھا کافی چڑھائی چڑھنے کے بعد بتریک نامی بستی میں پہنچ گیا۔

لکڑی کے گھروں کے درمیان تنگ بھول بھلیوں جیسی گلیوں سے ہوتا آواز کا تعاقب کرتا بالآخر اس جگہ تک پہنچ گیا جہاں ایک نوجوان دھوپ میں اکیلا کھڑا پورے انہماک کے ساتھ ڈھول پیٹنے میں مصروف تھا اور اسکے گرد چند ننھی ننھی کیلاش بچیاں اپنے روایتی لباس میں ملبوس کھڑی تھیں۔۔

موتیوں اور منکوں کی مالائیں گلے میں پہنے

اور رنگ برنگے لباس میں ملبوس

جیسے ہی میں نے انکی تصاویر لینے کیلئے کیمرہ کو ان پہ فوکس کیا انہوں نے اپنے اپنے چہروں کو چھپا لیا

یہ کوئی انکا شرعی پردہ نہیں تھا

اور نہ ہی ان میں پردہ کا تصور تھا دراصل بغیر پیسوں کے وہ تصاویر نہیں بنانے دیتے تھے۔معمولی رقم کے عوض آپ انکی تصاویر بنا سکتے ہیں۔۔

"پیسہ دیو 'پھر پھوٹو بناو"

میں انکی بات سن کر مسکرایا اور بٹوہ کھول کر پچاس پچاس روپے تینوں بچیوں کو دئیے جو انہوں نے لے کر تصاویر بنانے کی اجازت دے دی۔

انکی تصاویر بنانے کے بعد میں نے واپسی کا ارادہ کیا ، جس راستے سے آیا تھا اس کے عین وسط میں ایک اچھا خاصا پلا ہوا کتا کھڑا تھا اور خونخوار نظروں سے مجھے گھور رھا تھا۔

میں اس سے نظر بچا کر ایک دوسرے راستے کی طرف ہو لیا جو کہ ایک تنگ سے گلی میں جارہا تھا۔۔۔۔

پھر اسکے بعد ایک اور گلی

اور تنگ اور تاریک سے ان راستوں سے ہوتا ہوا میں یکدم ایک نسبتاً کھلے میدان میں جا پہنچا اور سامنے نظر آنے والے نظارے نے دل خوش کر دیا

ایک قدیم دیوہیکل برگد کا قدآور درخت !!!

جس کی عمر کئی سو سال تھی

اور اسکی عمر رسیدہ شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں اور اسکے گھنے تنے کے گرد پتھروں سے بنایا گیا ایک تھڑا ہے  اور اس بوڑھے برگد کے سائے میں دو پرانی چبوترہ نما قبروں کے آثار جنکے گرد پرانی لکڑیوں کی ایک باڑ بنی ہوئی تھی اور  ان چبوترہ نما قبروں کے اوپر لکڑی سے تراش کردہ دو بت نصب ہیں ۔۔۔۔۔۔

بھدے انداز میں تراشے گئے دو مجسمے جن کے اوپر نقوش و نگار کر کے انہیں شکل دینے کی کوشش کی گئی تھی۔۔غالباً یہ قبریں انکے قبیلے کے کسی بڑے سربراہ جوڑے کی تھیں۔۔جن کے اوپر انکی حفاظت کے خیال سے ، بْری ارواح سے بچانے کیلئے انکے اوپر دو تراشیدہ خداؤں کو پہرہ دار مقرر کیا گیا تھا۔۔ایک جانب پتھروں سے بنی ہوئی سیڑھیاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی سٹیڈیم کی جیسی ۔۔۔۔۔

اور انکے ساتھ ایک کونے پہ صاف پانی کی فراہمی کیلئے نلکے بھی موجود تھے جنکے ساتھ نصب ایک تختی کے مطابق اس جگہ کی از سر نو مرمت اور پینے کے پانی کا بندوبست وغیرہ یونانی سفارتخانے کی جانب سے کیا گیا ہے۔۔اور یہ جگہ وہ ہے جہاں کسی کے مرنے پہ کیلاش قبیلے کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور یہاں میت رکھ کر اسکے گرد رقص وغیرہ کرتے ہیں۔کیونکہ کیلاش باشندوں کا ماننا ہے کہ مرنے کا مطلب  مْکتی ہے

دنیا کے رنج و الم سے مْکتی ۔۔۔۔۔

تمام تفکرات سے آزاد ۔۔۔۔۔۔۔۔

انکے ہاں مرنے کے بعد جزا و سزا کا کوئی نظریہ نہیں۔۔۔۔۔۔

بس مر گئے اور کہانی ختم ۔۔۔۔۔

میں نے چبوترے کے اوپر بیٹھ کر برگد کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا لی

اور بوڑھے برگد نے جیسے مجھے اپنی آغوش میں لے لیاہو!!!!

کتنا سناٹا تھا یہاں ۔۔۔۔

میں نے پانی کی بوتل سے چند گھونٹ بھرے اور اپنے پسندیدہ سگار کوْ سلگا کر ایک طویل کش لگایا

کیوبا کے بنے ہوئے سگار کا نیلگوں دھواں بتریک کی اس بستی میں اْگے ہوئے صدیوں پرانے بوڑھے برگد کی پھیلی ہوئی عمر رسیدہ داڑھی جیسی شاخوں میں کہیں تحلیل ہوگیا۔۔۔۔

میںْ چپ چاپ لکڑی کے ان تراشیدہ خداؤں کو دیکھنے لگا جو اہل کفار نے اپنے بزرگوں کی حفاظت کیلئے نصب کئے تھے۔

بے جان ، بے حس ،کسی بھی حرکت کے بغیر کھڑے ان بتوں کے پیندوں کو جنکے سہارے یہ ایستادہ تھے دیمک چاٹ رہی تھی اور آہستہ آہستہ اوپر کی جانب بڑھ رہی تھی۔

انہیں ہمیشہ کیلئے مکتی دینے کیلئے اس دنیا سے۔۔۔۔

بے شک ہر عروج کو زوال ہے۔۔۔

سورج ڈھل رہاتھا دور کہیں کسی مسجد سے

ْکفر کی اس بستی میں

اللہ اکبر کی صدا گونجی

نماز کا وقت ہو چلا تھا

اور خالقِ حقیقی کی جانب سے بلاوا تھا۔

جسکی طرف ہر ذی روح کو لوٹ کر جانا ہے

چاہے وہ میں ہوں یا مجھ سے چند قدم پہ کئی صدیوں سے مدفون یہ کیلاش قبیلے کا یہ سربراہ

بے شک ہر شے کو زوال ہے

باقی رہے نام صرف اللہ کا

جو قادر قیوم ہے

میں نے سگار بجھا کر اسکا باقی حصہ محفوظ کیا اور

واپس ہوٹل کی جانب روانہ ہو گیا۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                            (جاری ہے)

مزید :

بلاگ -