ذہنی مزدوری کا کم سے کم شرمناک معاوضہ

ذہنی مزدوری کا کم سے کم شرمناک معاوضہ

مجھے گھر میں تھوڑا سا کام کروانا تھا جس کے لئے مزدور کی ضرورت تھی ۔ گھر کے قریب ہی ایک جگہ صبح صبح مزدور اکٹھے ہوتے ہیں۔حسب ضرورت مزدور لینے میں وہاں پہنچ گیا۔ایک ہفتہ پہلے مزدور ساڑھے چار سو میں آسانی سے مل جاتا تھا ۔ مگر آج ہر مزدور ساڑھے پانچ سو مانگ رہا تھا۔پوچھا یہ انقلاب کیوں۔ پتہ چلا کہ نئے بجٹ میں حکومت نے مزدور کی کم سے کم اجرت پندرہ ہزار روپے ماہوار مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔ مزدور اس ملک میں ایک بہت بڑی طاقت ہیں اس لئے کسی باقاعدہ حکم یا کسی باقاعدہ نوٹیفیکیشن کے بغیر ہی صرف سفارش کی بنیاد پر ہی بہت سی جگہوں پر اس پر عمل درآمدبھی شروع بھی ہو چکا ہے۔میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ مہینے میں تیس دن ہوتے ہیں اور پندرہ ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے تو روزانہ کے پانچ سو روپے بنتے ہیں آپ لوگ ساڑھے پانچ سو مانگ رہے ہو۔ جواب ملا ، مہینے میں پچیس دن ہوتے ہیں اور باقی چھٹیاں۔کیا خوب حساب تھا۔ میں ان کی شکل دیکھ رہا تھا۔ یہ مکمل ان پڑھ لوگ ہیں مگر حساب میں کس قدر طاق ۔اور فیصلہ بھی فوراً،کسی بھی روایتی حکم نامے کی قید سے آزاد۔کسی نے بہت سچ کہا ہے کہ دنیا کی بہت سی مشکلوں میں ایک مشکل یہ بھی ہے کہ پڑھے لکھے اور قابل لوگ اپنے فیصلوں میں جتنے مشکوک رہتے ہیں، جاہل لوگ اپنے فیصلوں میں اتنے ہی پر اعتماد۔

مزدور کی کم سے کم اجرت کی بات چلی تو یاد آیا کہ ان پڑھ لوگوں ، ان مزدوروں نے حکومت کے ہلکے سے اشارے پر اپنی اجرت تو ساڑھے پانچ سو روزانہ کر دی ہے مگر وہ مزدورجو پڑھے لکھے ہیں ،قابل ہیں۔ جو جسمانی مزدوری تو نہیں مگر ذہنی مزدوری کرتے ہیں۔ صبح شام پڑھاتے ہیں،محنت کرتے ہیں مگر معاوضے کے معاملے میں شور نہیں کر سکتے۔تہذیب سیکھ کر انہیں رکھ رکھاؤ آگیا ہے ۔ وہ اپنا معاوضہ خود نہیں بڑھا سکتے ۔ دوسروں کی توجہ کے طالب ہیں۔وہ صرف ہلکا پھلکا احتجاج کر سکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں مگر سنتا کوئی نہیں۔ حکومت ان کو جو معاوضہ دیتی ہے وہ اتنا کم ہے کہ اسے بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ مگر وہ لوگ جو اس میں اضافہ کرنے کے ذمہ دار ہیں انہیں شرم نام کی کسی چیز سے واقفیت ہی نہیں۔پھر اس ملک کے زیادہ تر انتظامی عہدیدار دھکا سٹارٹ ہیں۔سوائے ذاتی دلچسپی کے معاملات کے کوئی فیصلہ نہیں کرتے ۔ ان کے معا ملات کوحل کرنے کے لئے وزیراعلیٰ کی خاص توجہ اور ذمہ داروں کو ایک زور دار دھکا درکار ہے۔

ملک کی تمام یونیورسٹیز میں اساتذہ کی کمی ہے جس کو پورا کرنے کے لئے جز وقتی اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔تقریباً ہر یونیورسٹی میں ان جز وقتی اساتذہ کی تعداد 40 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ان جز وقتی اساتذہ میں مخصوص شعبوں کے ایکسپرٹ، شعبوں کے ریٹائرڈ اساتذہ اور شعبوں میں امتیازی حیثیت سے پاس ہونے والے طلبا شامل ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کی چند یونیورسٹیز کو چھوڑ کر تمام ادارے ان جز وقتی اساتذہ کا جس طرح استحصال کرتے ہیں وہ بیان سے باہر ہے ۔ دوسروں کو تو کیا کہا جائے ،پنجاب کی سب سے بڑی یونیورسٹی، جامعہ پنجاب کا حال یہ ہے کہ شعبوں کے ایکسپرٹ یا ریٹائرڈ لوگوں کو معاوضہ ایک ہزار کے لگ بھگ اور نئے لیکچرار حضرات کو سات سو روپے فی پیریڈ کے حساب سے دیا جاتا ہے۔ چند ایک لوگوں کے سوا جہاں کچھ مجبوری ہوتی ہے یا متبادل میسر نہیں ہوتا ، عمومی طور پر جز وقتی اساتذہ کو ایک کورس دیا جاتا ہے اس طرح سال کے دو سمسٹروں میں ہر جزوقتی استاد دو کورس پڑحاتا ہے ۔ اڑتالیس (48) کریڈٹ گھنٹے فی سمسٹر کے حساب سے ایک جز وقتی استاد کو کل چھیانوے (96) گھنٹے کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ چھیانوے گھنٹے پڑھانے والا شخص گھر پر لیکچر تیار کرنے کے لئے جو تین سو گھنٹے خرچ کرتا ہے وہ کسی حساب میں نہیں آتے۔اب معاوضے پر نظر ڈالیں۔ سات سو روپے فی گھنٹہ کے حساب سے چھیانوے گھنٹے کا سالانہ معاوضہ کل 67200 روپے بنتا ہے۔ جو روزانہ کے حساب سے فقط 184 روپے بنتا ہے ۔ مزے کی بات اس 67200 پر 10 فیصد انکم ٹیکس کاٹا جاتا ہے ، یوں اصل معاوضہ 165 روپے روزانہ بنتا ہے۔ اس قدر پڑھی لکھی اور قابل کمیونٹی اور اس قدر قلیل معاوضہ ،کیا کہا جائے ۔ بس سنتا جا اور شرماتا جا۔ سینئر ریٹائرڈ اساتذہ اور ماہرین جنہیں ایک ہزار روپے گھنٹہ دیا جاتا ہے کل چھیانوے (96000) ہزاروصول کرتے ہیں جس میں سے دس فیصد انکم ٹیکس کاٹ کر انہیں بقایا چھیاسی ہزار چار سو(86400) روپے ملتے ہیں۔جو روزانہ کی بنیاد پر دو سو چھتیس (236) روپے بنتے ہیں۔یہ معاوضے جون 2011 میںیونیورسٹی نے مقرر کئے تھے۔ اس کے بعد چھہ سال سے کسی نے ان کے بارے سوچا ہی نہیں ۔ عام استاد کی تنخواہ میں ہر سال انکریمنٹ کی شکل میں کچھ اضافہ ہوتا ہے اور پھر مہنگائی کے لحاظ سے تنخواہوں میں ہر بجٹ میں دس سے بیس فیصد اضافے سے بھی وہ مستفید ہوتا ہے۔ جز وقتی اساتذہ بجٹ میں ہونے والے اس اضافے سے بھی محروم رکھے جاتے ہیں۔

حکومت کے سوچنے کی بات ہے کہ تعلیم دینے والے اگر معاشی طور پر آسودہ نہیں ہوں گے تو تعلیم میں بہتری ممکن نہیں۔ حکومت خاندان کے سربراہ کی طرح ہوتی ہے اور ا ساتذہ اور ہر طرح کے اساتذہ پر اس کی گہری نظر ہوتی ہے ۔ تعلیم کے ہر شعبے پر اس وقت جو پی ایچ ڈی مافیا قابض ہے اس کے سبھی لوگ محدود سوچ کے مالک ہیں ۔ یہ انتظامی عہدوں پر کام کرنے کے قابل ہی نہیں۔یہ لوگ جن میں زیادہ تر اشخاص کی ڈگریاں جعلی ہیں یا جعلسازی سے حاصل کی گئی ہیں، تعلیمی پالیسیاں ٹھیک کیسے بنائیں گے اور تعلیم کی فلاح کے لئے کیا کریں گے۔ یہ کٹ اور پیسٹ کے عادی لوگ نقل تو خوب کرتے ہیں مگر عقل کا استعمال کرنے کے قابل نہیں ہوتے ۔ یہ چیزوں میں توازن ہی نہیں رکھ سکتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تعلیم میں وزیر اعلیٰ کی ذاتی دلچسپی اور بے پناہ محنت کے باوجود حکومت مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...