ہمارے ادارے

ہمارے ادارے

کسی ملک کے اداروں کی کارکردگی ہی دنیا کے ممالک میں اس کے مقام کا تعین کرتی ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ادارے موجود رہتے ہیں۔ ادارے اگر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہیں تو ملک کی ریٹنگ اور عزت ووقار میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے، مگرہمارے ہاں اداروں کی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے اور دیگر ممالک کے اداروں سے مقابلہ کیا جائے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے اور بعض اوقات تو پسینے چھوٹ جاتے ہیں کہ ہم کتنی تیزی سے ترقی معکوس کی جانب سفر کررہے ہیں۔ زیر نظر واقعہ بظاہر ایک معمولی سی بات ہے، مگر اس میں ہمارے چند اداروں کی اور خود ہماری موجودہ معاشرتی زندگی کی جھلک نمایاں ہے۔ چلیں تمہید چھوڑتے ہیں۔ آپ قصہ سنیں جو کچھ ’’مخولیا‘‘ اور ’’افسوسیا‘‘ سابھی ہے۔

ہمیں اپنے بیٹے کے لئے یونیورسٹی میں داخلے کی غرض سے ایک عدد ڈومیسائل سرٹیفکیٹ بنوانے کی ضرورت پیش آگئی۔ ڈومیسائل بنوانے کی معلومات لیتے ہوئے ہمیں علم ہوا کہ یہ تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار کا کام ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان کے اختیار کا دائرہ کتنا وسیع و عریض ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر کی جستجو نے ہمیں ایک ایسے ہجوم میں لاکھڑا کیا جہاں بھانت بھانت کی بولیاں چل رہی تھیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر انواغ و اقسام کے چھوٹے موٹے کھوکھا نما دافتر قائم تھے۔ مختلف قسم کے سرٹیفکیٹس اور لائسنس وغیرہ حاصل کرنے کے لئے ایجنٹ حضرات نے مختلف ریٹس آویزاں کررکھے تھے۔ آپ نے ’’ارجنٹ‘‘ کام کروانا ہے تو کیا نرخ ہیں اور ’’روٹین‘‘ کے کام کا کیا بھید بھاؤ ہے؟ سب کچھ جلی طور پر تحریر شدہ تھا۔ الغرض ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کا دفتر پوری طرح ان دفاتر کے نرغے میں تھا۔ بہر حال ایک کھوکھا نما دفتر والا (جو کہ جان چکا تھا یہ نیا شکار ہے) اپنی دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ ہمیں اپنی طرف متوجہ کرچکا تھا اور ہم بھی اس کی پذیرائی پر کچھ مطمئن سے ہو چلے تھے ۔ اس موقع پر ہمیں مرحومہ پروین شاکر کا شعر بھی یاد آگیا ’’اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی‘‘۔

وہ کوئی ایجنٹ ہوگا یا ڈبل ایجنٹ، اس وقت تو وہ بندۂ خدا ہمیں کوئی ناخدا لگ رہا تھا، کیونکہ ہمیں ’’ارجنٹ‘‘ ڈومیسائل درکار تھا اور وہ ہمیں طے شدہ فیس پر اگلے روز ڈومیسائل مہیا کرنے کا وعدہ کرچکا تھا۔ فوری طور پر اس نے ہم سے شناختی کارڈ طلب کئے اور اپنے ٹائپ رائٹر پر ایک چالان فارم چڑھایا۔ جھٹ سے اس نے چالان فارم تیار کیا اور ہماری طرف بڑھاتے ہوئے بولا ’’دوسو روپے سرکاری فیس ہوتی ہے، آپ یہ چالان فارم لے جائیں، ساتھ ہی نیشنل بینک ہے۔ آپ یہ فیس وہاں جمع کروائیں۔ آپ کے آنے تک میں مطلوبہ کاغذات وغیرہ تیار کرلیتا ہوں۔ ہم نے سوچا یہ کون سا بڑا کام ہے اور چالان فارم ہاتھ میں پکڑا اور نیشنل بینک کی جانب چل دیئے۔

کہتے ہیں عشق میں کئی کٹھن مقام بھی آتے ہیں اور ان میں سے ایک مقام آچکا تھا۔ ہم بے تابانہ نیشنل بنک پہنچے مگر وہاں تو ایک بڑا ہجوم موجود تھا۔ سیماب صفت انسانوں کی کوئی قطار تھی جو مختلف اقسام کی فیسیں اور بل وغیرہ ادا کرنے کے لئے بینک کے باہر موجود تھی اور ہمارا یہ حال کہ’’ اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘ کے مصداق ہمیں کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے کہ ہم شام سے پہلے مذکورہ فیس جمع کروانے کے قابل ہوسکیں۔ ہم نے تو دفتر سے محض دو گھنٹے کی مختصر چھٹی لی ہوئی تھی۔ اب وہ ’’ناخدا‘‘ ہمیں کچھ ’’بیوفا‘‘ سالگا کہ یہی تو وہ ’’اہم‘‘ کام تھا جو اس نے ’’ارجنٹ‘‘ فیس کے بدلے ہمارے سر تھوپا تھا۔

لاچارگی کے عالم میں ہم نے بینک کے سیکیورٹی گارڈ کی طرف نگاہ دوڑائی اور اس کی جانب لپکے۔ اپنا مدعا بیان کیا اور گزارش کی، ’’ملازم آدمی ہوں، دفتر بھی جانا ہے، کچھ کرم کردو‘‘۔ مگر وہ ہمارے احوال سے بے نیاز یوں گویا ہوا۔’’ آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں کتنا رش لگا ہوا ہے۔ آپ کا کام کروانے سے معاملہ گڑبڑ ہوجائے گا۔ آپ ایسا کریں تھوڑا آگے جائیں، آپ کے پاس کنوینس (Conveyance) تو ہوگی۔ آگے ہماری ایک اور برانچ ہے، یہ فیس آپ وہاں جمع کروادیں‘‘۔ سواری تو ہمارے پاس موجود تھی یعنی اس کا اندازہ غلط نہیں تھا۔ ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور آگے بڑھ گئے۔

واقعی نہایت معقول فاصلے پر ایک اور نیشنل بینک موجود تھا جس کے سامنے نہایت معمولی سی یعنی دو چار لوگوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ ہم حیران رہ گئے کہ ہمارے عوام کیسے ہیں کہ کسی ایک ہی برانچ پر دھاوا بول دیتے ہیں حالانکہ بینک والے بیچارے توجگہ جگہ اپنے کاؤنٹر سجائے بیٹھے ہیں۔ ہم دل ہی دل میں بینک والوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے جب اپنی باری پر بینک آفیسر کے سامنے پہنچے اور چالان وغیرہ پیش کیا تو اس نے حیرانی کے عالم میں ہمیں دیکھا اور آگاہ کیا ’’بھائی صاحب یہ ڈومیسائل فیس ہے اور یہ برانچ اسے جمع کرنے کی مجاز نہیں تھوڑا آگے ہماری ایک اور برانچ ہے جہاںیہ فیس جمع کروائی جاسکتی ہے‘‘۔ یہ سن کر ہمارے ہاتھوں کے طوطے تو کیا چڑیاں (نجم سیٹھی صاحب والی نہیں) ابھی اڑ گئیں کہ اب اور آگے سفر کرنا پڑے گا۔

ناچار ہم نے وہاں سے قصدِ سفر کیا اور جونہی مطلوبہ برانچ تک پہنچے ، دوپہر کے کھانے اور نماز کا وقفہ ہوچکا تھا۔بڑا سٹپٹائے اب کیا کریں؟ مگر مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہیں بیٹھ گئے اور لگے خود کو کوسنے کہ کیوں نہ ’’ایجنٹ‘‘ صاحب سے ہی کہتے کہ یہ گتھی بھی آپ ہی سلجھالیتے تو اچھا تھا، مگر تقدیر کا لکھا کون ٹال سکتا ہے۔ خدا خدا کرکے وقفہ ختم ہو اور ایک باریش ’’کیش وصولی آفیسر صاحب‘‘ اپنی سیٹ پر متمکن ہوئے۔ لائن میں اس وقت فقط ہم ہی فردِ واحد تھے جو اسے اپنا ’’نجات دہندہ‘‘ سمجھ رہے تھے۔ حضرت نے ایک ضخیم سی ڈکار ماری جو اس بات کی غماص تھی کہ انہوں نے کھانا خوب انجوائے کیا تھا۔ پھر انہوں نے داڑھی کھجاتے ہوئے ایک شان بے نیازی کے ساتھ چالان فارم کا مشاہدہ کرتے ہوئے ہماری طرف دیکھا۔ نجانے انہیں ہماری صورت میں کون سی لجاجٹ نظر آئی کہ بغیر کسی تمہید کے انہوں نے فیس پکڑی ، رجسٹر میں چالان کا اندراج کیا، ایک عدد سٹیمپ جمائی اور ایک پرت اتار کر ہمارے حوالے کردیا۔ ہم نے شکریہ ادا کیا اور ایک نئے جذبے سے جانب منزل روانہ ہوئے۔

اپنے ’’ناخدا‘‘ کے سامنے پہنچ کر ہم نے فاتحانہ انداز میں چالان فارم اس کے حوالے کیا اور ساتھ والے بینک کی انتظامیہ کو چند صلواتیں سنائی کہ فرلانگ بھر لمبی قطار کے لئے انہوں نے محض ایک کاؤنٹر کھولا ہوا ہے، جس کی وجہ سے عوام کو دور کی برانچ کا سفر کرنا پڑرہا ہے۔ ہمارے ’’ناخدا‘‘ نے بھی ہماری ہاں میں ہاں ملائی اور چالان فارم لے کر ہمیں اگلے دن آکے ڈومیسائل لے جانے کا مژدہ جاں فزا سنادیا۔ ہم نے دوبارہ اس کا شکریہ ادا کیا اور بھاگم بھاگ دفتر کی راہ لی۔

اگلے روز ہم بڑے طمطراق سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کے دفتر کا گیٹ عبور کررہے تھے، دیکھا تو ہمارا ’’ناخدا‘‘ کسی اور کلائنٹ کی خدمت پر کمر بستہ اس کے کاغذات برائے ڈومیسائل تیار کررہا تھا۔ ہمار چہرہ دیکھتے ہی کہنے لگا ’’آپ تھوڑا انتظار کریں ، میں یہ کام نپٹا کر آپ کے ساتھ چلتا ہوں کیونکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے عملے نے ڈومیسائل درخواست گزارکو ذاتی طور پر دینا ہوتا ہے‘‘۔ لہٰذا ہم بینچ کے ایک طرف ہو کربیٹھ گئے۔ خدا خدا کرکے ہمارا ’’ناخدا‘‘ اپنے کلائنٹ کو چالان فارم تھما کر فارغ ہوا کہ وہ جلدی سے جا کربینک میں فیس جمع کرواآئے۔ اسے یقیناً اندازہ تھا کہ فیس جمع کروانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں اور حاملِ چالان کم از کم 3/4گھنٹہ تک واپس آنے کا نہیں۔

نئے کلائنٹ کے جاتے ہی اس نے ہمیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔ ہم کشاں کشاں اس کے پیچھے چل دئے ، مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا جتنا ہم سمجھتے تھے، بلکہ بقول مصحفی:

مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر میں متعلقہ کاؤنٹر پر پہنچے۔ اپنی بتیسی نکالی اور سلام عرض کیا۔ کلرک صاحب نے اپنے سامنے پڑی فائل میں سے مختلف کاغذات کھنگالتے ہوئے ایک چالان نکال کر ہمارے سامنے لہرایا اور گویا ہوا ’’یہ فیس آپ نے جس بینک میں جمع کروائی ہے، وہ فیس وصول کرنے کا مجاز نہیں ہے، لہٰذا یہ چالان فارم وہاں سے Re-Confirmکروانا ہوگا۔ جس کے بعد ڈومیسائل آپ کے حوالے کیا جائے گا‘‘۔ہمارے تو اوسان ہی خطا ہوگئے کیونکہ اگلے روز داخلہ فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی۔ معاً ہمارے ذہن میں اک جھما کا سا ہوا۔ ہم نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ ’’نذرانہ‘‘ نکال کر اپنے ’’ناخدا‘‘ سے درخواست کی ’’قبلہ یہ فریضہ بھی آپ ہی انجام دے ڈالیں پھر کاؤنٹر کلرک کو نذرانہ پیش کردیا۔ بظاہر وہ تھوڑا جزبز ہوا، مگر کہنے لگا ’’یہ ان کی وجہ سے کررہا ہوں ورنہ میں نے آج تک اس طرح کا کام نہیں کیا‘‘ ہم نے پھر بھی اسے تھینکس کہا۔ ڈومیسائل سمیٹ کر باہر نکلے ۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...