سندھ اسمبلی :اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں تلخ کلامی ،ایوان مچھلی بازار بن گیا

سندھ اسمبلی :اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں تلخ کلامی ،ایوان مچھلی بازار بن ...

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں ہفتہ کو تیسرے دن بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن اور سرکاری ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ اور کئی مرتبہ ایوان میں زبردست شور شرابہ ہو ا اور ایوان مچھلی بازار بن گیا ۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو تقریباً دو گھنٹہ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ اسپیکر آغا سراج درانی نے ارکان کی تاخیر سے آمد کا نوٹس لیا اور کہا کہ آئندہ حاضری رجسٹر ایوان کے اندر رکھا جائے گا اور ارکان میرے سامنے حاضری لگائیں گے ۔ ہفتہ کو تیسرے روز بھی بجٹ پر بحث جاری رہی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون رکن خیرالنساء مغل نے بحث کا آغاز کیا اور کہا کہ سندھ کے بجٹ میں بڑے شہروں اور ٹاؤنز کے لیے بڑی ترقیاتی اسکیمیں دی گئی ہیں ، جو ہمارے مخالفین کے منہ پر طمانچہ ہیں ۔ کراچی میں جو ترقیاتی کام ہو رہے ہیں ، ان سے کھلبلی مچ گئی ہے اور سابق میئر کراچی مصطفی کمال اور موجودہ میئر وسیم اختر احتجاج کرکے صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے سندھ کے شہروں اور دیہات میں کوئی تفریق نہیں کی ۔ میئر کراچی نے رونا دھونا شروع کر دیا ہے حالانکہ وہ اپنے قائد کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں ۔ اب قائد کے جرائم بڑھنے پر انہوں نے کنارہ کشی اختیا رکر لی ۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر ظفر احمد کمالی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے نام پر شروع کی گئی ترقیاتی اسکیموں کے ساتھ جو حشر کیا گیا ہے ، وہ افسوس ناک ہے ۔ سندھ حکومت عدل و انصاف قائم کرنا نہیں چاہتی ہے ۔ اگر اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی کچھ نظر نہ آئے تو اس سے حکمرانوں کی بدنیتی واضح ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرپورخاص میں 258 ملین روپے کی کرپشن کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت آئین کے تحت بلدیاتی اداروں کو اختیارات دے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن فقیر داد کھوسو نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو ختم کرنے اور سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو زیادہ بااختیار بنانے کا مطالبہ کیا ۔ پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے رکن وریام فقیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے 10 سال ہونے والے ہیں ۔ وہ جاتے جاتے کچھ تو کام کرے ۔ اسپتالوں میں نہ دوائیاں ہیں اور نہ اسکولوں میں سہولتیں موجود ہیں ۔ اپوزیشن والوں کو کچھ ملتا ہی نہیں ، اس لیے بجٹ پر کیا تجاویز دیں گے ۔ مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن سورٹھ تھیبو نے کہا کہ سندھ کا بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندا ہے ۔ لاڑکانہ کے ترقیاتی بجٹ کے لیے 90 ارب روپے رکھے گئے تھے لیکن ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا ۔ دادو میں شجرکاری کے لیے کروڑوں روپے مختص کیے گئے تھے لیکن ایک بھی درخت نہیں لگایا گیا ۔ دادو کے لیے جتنا بجٹ مختص کیاگیا ، اگر یہ دادو پر خرچ ہو جاتا تو دادو دبئی بن جاتا ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں امن وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ، رینجرز اور پولیس کی کوششوں سے قائم ہوا ہے ۔ سندھ حکومت کو اسی لیے آئی جی سندھ سے تکلیف ہے ۔ سندھ حکومت ایسا آئی جی چاہتی ہے ، جو اس کے اشاروں پر کام کرے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اقلیتی رکن لال چند اکرانی نے کہا کہ سندھ میں پہلی بار اقلیتوں کے لیے بجٹ میں 58 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ اقلیتی کے تحفظ کے لیے سندھ اسمبلی نے زبردستی مذہب تبدیل کرانے کی ممانعت سے متعلق بل منظور کیا لیکن مسلم لیگ (ن) کے گورنر نے اس پر دستخط نہیں کیے ۔ متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کی خاتون رکن سمیتا افضال نے کہاکہ سندھ حکومت نے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ایاز سومرو کو 80 لاکھ روپے دیئے ۔ وزیر اعلیٰ بتائیں کہ انہیں یہ رقم کیوں دی گئی ہے ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے بجٹ پر دھواں دھار تقریر کی اور کہا کہ 10 کھرب کا عوام دشمن بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔ جب حکومت تھر میں ترقی کے دعوے کرتی ہے تو اس وقت معصوم بچوں کی لاشیں نظر آتی ہیں ۔ ایک طرف تو سندھ حکومت لوڈشیڈنگ کے خلاف پورے صوبے میں احتجاج کر رہی ہے ۔ دوسری طرف نوری آباد پاور پلانٹس کا افتتاح کرکے بجلی بحریہ ٹاؤن کے ’’ غریب ‘‘ لوگوں کو دے دی گئی ہے ۔ کراچی کی زمینوں کی لوٹ مار کی گئی ہے ۔ اربوں کھربوں کی زمینیں کروڑوں میں روپے میں دے دی گئی ہیں ۔ عجب کرپشن کی غضب کہانی ہے ۔ خیرپور کے ایک رکن سندھ اسمبلی سے کھجوروں کے درخت مہنگے داموں خرید کیے گئے ۔ بجٹ میں کرپٹ افسران کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں رکھی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مجھے دھمکیاں دی جاتی ہے کہ اگر میں نے کرپشن کے خلاف بات کی تو میرے شوہر کو سرکاری نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے گا ۔ ہم نوکری کو قربان کرتے ہیں لیکن کرپشن کے خلاف بولتے رہیں گے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن جام مدد علی نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ کو اس کی ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کرے کیونکہ سندھ کے عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بہت تکلیف میں ہیں ۔ وفاقی حکومت سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ سندھ کو 1991 ء کے معاہدے کے تحت پانی فراہم کرے ۔ ایم کیو ایم کی خاتون رکن ہیر اسماعیل سوہو نے کہا کہ ہم سندھ کے بجٹ کو مسترد کرتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ کو تباہ کر دیا ہے ۔ سندھ کے تعلیمی ادارے اور اسپتال نجی شعبہ چلا رہا ہے ۔ اسپتالوں کی حالت بہت خراب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میئر کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے تمام بلدیاتی نمائندے اختیارات مانگ رہے ہیں کیونکہ شہروں اور ٹاؤنز کی حالت بہت بری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کھوکھرا پار سرحد کو کھولا جائے ۔ جب پنجاب میں بھارت کے ساتھ سرحد کھولی ہے تو سندھ میں کھوکھرا پار سرحد کو کیوں نہیں کھولا جا سکتا ۔ سندھ میں سب را کے ایجنٹ نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ صرف پنجاب کرکٹ بورڈ بن کر رہ گیا ہے ۔ صوبائی وزیر فیاض بٹ نے کہا کہ سندھ میں تاخیری بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔ سندھ کے ان علاقوں میں بھی سڑکوں کا جال بچھایا گیا ہے ، جہاں پہلے کوئی جا نہیں سکتا تھا ۔ گورکھ ہل جا کر دیکھیں ، وہاں کتنا کام ہوا ہے ۔ وہاں ہوٹل اور ریسٹورنٹ بن چکے ہیں ۔ انہوں نے اپوزیشن کی ایک خاتون رکن کا نام لیے بغیر کہا کہ اس خاتون کے پاس کوئی زرعی زمین نہیں ہے ۔ اس کے باوجود وہ باردانہ مانگتی ہیں ۔ پیپلز پارٹی کا کوئی کارکن کبھی ضمیر فروش نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پورے صوبے میں سولر سسٹم رائج کر رہے ہیں تاکہ لوڈشیڈنگ سے جان چھڑائی جا سکے ۔ فیاض بٹ نے کہا کہ کچھ لوگوں نے قائد کا کھایا اور قائد کو چھوڑ دیا ۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنائیں گے ۔ اس دوران ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ ایوان میں زبردست شور شرابہ ہوا اور ایوان مچھلی بازار بن گیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم جیسی بات کرے گی ، ہم ویسا ہی جواب دیں گے ۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے ’’ قائد کا کھایا ، قائد کو چھوڑ دیا ‘‘ کے نعرے لگائے ۔ بجٹ پر بحث کے دوران دیگر ارکان نے بھی تقاریر کیں ۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا گیا ۔

مزید : علاقائی