منی لانڈرنگ کیخلاف سٹیٹ بینک کے نئے قوانین جاری

منی لانڈرنگ کیخلاف سٹیٹ بینک کے نئے قوانین جاری

کراچی(آن لائن) سٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی)نے منی لانڈرنگ کیخلاف جنگ کیلئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراراد کے تناظر میں نئے رہنما اصول جاری کر دیے۔وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)کی جانب سے منی لانڈرنگ کے غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کی گرفتاری کے باوجود پاکستان منی لانڈرنگ جیسے مسئلے میں دباؤ کا شکار رہا ہے۔امریکی حکام نے نومبر 2015میں انکشاف کیا تھا کہ اس نے ایک پاکستانی کرنسی ڈیلر الطاف خانانی کو ستمبر 2015میں گرفتار کیا، ساتھ ہی دعوی کیا گیا کہ ان کی کمپنی منی لانڈرنگ میں ملوث تھی، جو دنیا بھر میں پیشہ ور مجرموں کے گروپوں،منشیات سمگلنگ کرنیوالے گروپوں اور نامزد دہشت گرد گروپوں کو رقوم فراہم کرتی تھی۔یہ خبر پاکستان میں کرنسی ڈیلرز کے لیے ایک صدمہ اور پاکستان کیلئے تشویش کا باعث تھی جو دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے اس لعنت کے خلاف مزید اقدامات کرنے کے حوالے سے دباؤ کا شکار ہے۔اسی تناظر میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ضوابط اور ہدایات کی روشنی میں کالعدم تنظیموں اور افراد کے خلاف پابندیاں اور ذمہ داریاں، حکومت کی جانب سے جاری اقدامات کی بنیاد پر کالعدم تنظیموں اور نامزد اداروں یا افراد پر مسلسل لاگو رہیں گی۔مرکزی بینک کے مطابق ریگولیشن 1اور ہدایات کے متعلقہ اقتباس میں نتیجہ خیز تبدیلیوں کے باوجود ترمیم رہے گی، اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئی)اور مائیکرو فنانس بینکس (ایم ایف بی)کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ضروریات کی تعمیل کو یقینی بنائیں۔اعلامیے کے مطابق بینک، ڈی ایف آئی یا پھر ایم ایف بی کسی بھی کالعدم یا نامزد کمپنی اور افراد کو یا پھر ان سے متعلقہ کسی بھی شخص کو انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل)ور دہشت گردی کی مالی معاونت(سی ایف ٹی)ریگولیشن کے تحت بینکنگ کی سہولیات فراہم نہ کرے۔حکومت پاکستان نے یو این ایس سی ایکٹ 1948 اور اینٹی ٹیرارزم ایکٹ 1997 میں عائد کردہ پابندیوں کی عدم تعمیل کرنے والوں کے خلاف پہلے ہی 1 کروڑ روہے تک کا جرمانے کی سزا کا تعین کر رکھا ہے۔حال ہی میں بیرون ممالک پیسہ منتقل کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اب غیر قانونی طریقے سے پاکستان سے باہر کرنسی بھیجنا نہایت ہی مشکل ہوگیا ہے جبکہ کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کرنے والے افراد اب اس معاملے پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں تاہم ان کا ماننا ہے کہ اس غیر قانونی کاروبار کو پاکستان سے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کاروبار کی پاکستان میں مضبوط جڑیں موجود ہیں۔جب سے دہشت گردی نے خصوصا پاکستان، افغانستان اور ایران میں جارحانہ صورتحال پیدا کی ہے، تب سے اس غیر قانونی پیسے کی منتقلی کے خلاف لڑائی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا محاذ ہے۔

مزید : علاقائی