پاناما کیس، معاملہ فلیٹس کا لیکن جے آئی ٹی نے ہرچیز کھنگالناشروع کردی، ایسی عدالتی جے آئی ٹی کی مثال نہیں ملتی، پارلیمنٹ سے اختیار چھینا جارہا: رپورٹ

پاناما کیس، معاملہ فلیٹس کا لیکن جے آئی ٹی نے ہرچیز کھنگالناشروع کردی، ایسی ...

لاہور (ویب ڈیسک) حکمران مسلم لیگ ن نے پاناما لیکس کے حوالے سے عدالتی عمل اور جے آئی ٹی کی تشکیل وطریقہ کار کو ہی چیلنج کر دیا ہے ، پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایسی نظیر نہیں کہ خود کورٹ نے ایسی کوئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہو، جب عدالت خود کہتی ہے کہ دوران سماعت ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بنا پر وزیراعظم کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑے تو پھر کسی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کی کیا ضرورت تھی، اگر بنائی گئی ہے تو پھر بتایا جائے کہ یہ کس قانون اور ضابطہ کے تحت ہے ، کس قانون کے تحت فوج کے حاضر سروس لوگوں کو اس کا حصہ بنایا گیا اور انہیں تحقیقات کا کام سونپ دیا گیا ، معاملہ لندن کے فلیٹس کا ہے لیکن ٹیم کے ارکان گلف سٹیل بھی کھنگال رہے ہیں، حدیبیہ پیپر ملز بھی کھود رہے ہیں۔ تمام جائیدادوں اور اثاثوں کا حساب مانگ رہے ہیں۔

سینئر صحافی سلمان غنی نے حکومتی قانونی ذرائع کے حوالے سے لکھاکہ  اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب آئندہ ملک میں وزیراعظم کی اہلیت کا فیصلہ اس طرح کی کسی تحقیقات کی بنیاد پر ہو گا کہ یہ اہل ہیں یا نہیں،انہوں نے کہا کہ یہ اختیار پاکستان کے عوام اور پارلیمنٹ سے چھینا جا رہا ہے۔ اگر اہلیت نااہلیت کا فیصلہ عدالتوں کو کرنا ہے اور فوج نے ان کی مدد کرنی ہے توپھر کیسی جمہوریت اور کیسا جمہوری عمل؟ یہ سب کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں جن کے اکاو¿نٹس بھی چیک نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ کسی قسم کے آڈٹ کے پابند ہیں۔محسوس یہ ہو رہا ہے کہ یہ کام 17 نہیں کوئی ایک کر رہا ہے ، کس کے اشارے پر اور کون کر رہاہے اس کا جواب مورخ لکھے گا ،حکومت کے ذمہ دار قانونی ذرائع کے مطابق جہاں تک جے آئی ٹی کی تشکیل کا سوال ہے تو رجسٹرار واٹس ایپ کال پر کس کو کہہ رہا ہے کہ کس کس کے نام بھجوائے جائیں، جب عدالتیں کہتی ہیں کہ کوئی احکامات زبانی نہیں ہوتے بات لکھ کر ہونی چاہیے تو پھر یہ زبانی احکامات کیوں ؟کیا ان پر کوئی ضابطہ لاگو نہیں ہوتا؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ کبھی عدالتیں کہتی ہیں کہ درخواست دو، یہاں درخواستیں مانگی جا رہی ہیں، ذرائع نے کہا کہ ابھی تک جو ہو رہا ہے یہ سارے سوال ہیں جن کا جواب مورخ لکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ ہم کیوں کریں؟ بائیکاٹ وہ کرتا ہے جس نے چیزیں چھپانی ہوں، بائیکاٹ وہ کرتا ہے جس کا کوئی ایجنڈا ہو۔ حالت یہ ہے کہ تحقیقاتی ٹیم اس ہتک آمیز لہجے میں بات کرتی ہے جیسے کسی سے کوئی ذاتی دشمنی ہو ،نہ جانے یہ کسے خوش کر رہے ہیں۔ انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے۔ یہ اگر نیک نیتی سے کام کرتے تو اتنا بڑا معاملہ نہیں تھا۔ چھوٹے سے معاملے کو گھمبیر بنا کر وعدہ معاف گواہ تلاش کیا جا رہا ہے۔ جو ابھی تک نہیں ملا نہ ملے گا۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی ذمہ دار ذرائع کاکہناہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ معاملات تصادم کی جانب جائیں۔ ایسا انجام نہیں ہونا چاہیے جو کسی کا ذہن بنا ہوا ہے۔ 60 دن کی کیا اہمیت ہے ،کیا ساٹھ دن میں فیصلے ہوتے ہیں۔ کبھی عدالت نے 60 دن میں کوئی فیصلہ کیا ہے۔ ان کے اپنے فیصلے تو ساٹھ ساٹھ ماہ میں ہوں لیکن یہ ہر قیمت پر 60 دن میں تحقیقات چاہتے ہیں۔ 60 دن نہ جانے کس قانون اور قاعدے کے مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات شفاف اور کسی دباؤ کے بغیر ہی قانونی ہوتی ہیں اور اس میں برابری کا سلوک ہوتا ہے۔ ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ وزیراعظم کے خلاف امتیازی سلوک ہو۔ وقت آ گیا ہے کہ ٹھنڈے دل سے سوچا جائے کہ کیامعاملات ضد پر چلانے ہیں، اپنی انا کی تسکین کیلئے ہر چیز تہہ و بالا کرنی ہے یا ملک و قوم کی ترقی کیلئے اپنی ذاتی خواہشات کو اٹھا رکھ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی سفارشات آنے پر دیکھیں گے ، اگر ان کا خیال ہے کہ نہال ہاشمی جیسے لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے باعث کسی چیز کا کوئی جواز ہے تو پھر یہ بھی دیکھ لو کہ حکمران جماعت نے کتنی پختگی کا ثبوت دیا اس سے پہلے جس کی مثال نہیں۔ قانونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ کچھ نادان رہنما اداروں اور شخصیات کا ٹکراو¿ چاہتے ہیں، وہ اپنی محرومیوں کا بدلہ ملک و قوم اور سسٹم سے لینا چاہتے ہیں، جب بھی ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتا ہے تو بحران شروع ہو جاتے ہیں ،آخر ایسا کیوں ہے جو بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومت کو کبھی مرضی کے بغیر چلنے نہیں دیا جاتا۔

مزید : اسلام آباد

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...