کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ کے بارے میں وہ باتیں جوشاید آپ کو معلوم نہیں

کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ کے بارے میں وہ باتیں جوشاید آپ کو معلوم نہیں
کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ کے بارے میں وہ باتیں جوشاید آپ کو معلوم نہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کارڈیف ( افضل افتخار)صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ اپنی مثال آپ ہے یہ تاریخی کرکٹ گراؤنڈ 24 مئی 1967 ء کو بنا یہاں پر تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش 55 ہزار ہے جبکہ مختلف مراحل میں اس کی تزئین و آرائش کے دوران تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش میں پندرہ ہزار کا اضافہ کیا گیا 2005 میں پہاں پر ڈے اینڈ نائٹ میچوں کے انعقاد کے لئے فلڈ لائٹ سسٹم کا انعقاد کیا گیا تھا یہاں پر کاؤنٹی اور ڈومیسٹک کرکٹ کے مقابلے بھی منعقد ہوچکے ہیں جبکہ اس وقت تینوں فارمیٹس کی کرکٹ کے لئے یہ سٹیڈیم میزبانی کے فرائص سر انجام دے رہا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کے ریکارڈز کے مطابق یہاں پر پہلا ٹیسٹ میچ 8 سے 12 جولائی2009ء میں کھیلا گیا جس میں میزبان انگلینڈ او ر آسٹریلیا کی ٹیمیں مدمقابل تھیں ٹیسٹ میچ ڈرا ہو گیا تھا اس گراؤنڈ میں پہلے ٹیسٹ میچ میں امپائرنگ کے فرائض پاکستان کے علیم ڈار اور ویسٹ انڈیز کے بی آر ڈاکٹورو نے سر انجام دئیے ۔صوفیہ گارڈنز کارڈیف میں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ کا رنز ریکارڈ آسٹریلیا کے پاس ہے جس نے 8 جولائی2009 کو انگلینڈ کے خلاف 674 رنز چھ وکٹوں پر ڈیکلئر سکور کیا جبکہ دوسرے نمبر پر انگلینڈ کی ٹیم نے جس نے26 مئی2011 ء کو سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں 496 رنز پانچ وکٹوں پر ڈیکلئر بنائے ۔ اس گراؤنڈ پر سب سے زیادہ انفرادی رنر ٹیسٹ میچ میں بنانے کا اعزاز انگلینڈ کے بیٹسمین ٹروٹ کے پاس ہے جنہوں نے 203 رنز بنائے جس میں انہوں نے 17 چوکے لگائے دوسرا نمبر آسٹریلیا کے بیٹسمین رکی پونٹنگ کا ہے جنہوں نے 150 رنز انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں بنائے جن میں انہوں نے 14 چوکے اور ایک چھکا لگایا۔

صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ میں ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اننگز میں سب سے بہترین باؤلنگ کا اعزاز آسٹریلیا کے فاسٹ باؤلر ایم اے سٹارک کے پاس ہے جنہوں نے یہاں پر 24.1 اوورز میں چار میڈنز اوور کروائے اور 114 رنز دیکر پانچ وکٹیں اپنے نا م کیں یہ میچ آٹھ جولائی2015 کو کھیلا گیا تھا ۔دوسرا نمبر انگلینڈ کے جی پی سوان کے پاس ہے جنہوں نے اس گراؤنڈ پر سات اوورز میں ایک میڈان اوور کرواتے ہوئے 16 رنز کے عوض چار وکٹیں اپنے نام کیں یہ میچ سری لنکاکے خلاف26 مئی 2011 ء کو کھیلا گیا۔اس گراؤنڈ پر سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والوں میں سب سے پہلا نمبر انگلینڈ کے فاسٹ باؤلر سٹورٹ براڈ کا ہے جنہوں نے اس گراؤنڈ پر 2009 سے 2015 ء تک تین ٹیسٹ میچ کھیلے اور پانچ اننگز میں انہوں نے مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کیں ان کی بہترین باؤلنگ39 رنز کے عوض تین وکٹیں ہیں دوسرے نمبر پر بھی انگلینڈ ہی کے جیمز اینڈرسن ہیں جنہوں نے 2009 ء سے2015 تک تین ٹیسٹ میچوں میں چاراننگز کھیلتے ہوئے آٹھ وکٹیں حاصل کیں ان کی بہترین باؤلنگ 43 رنز پر تین وکٹیں ہیں۔صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ میں ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی وکٹ کی شراکت میں بننے والی سب سے بڑی پارٹنر شپ 93 ہے جو سری لنکا کے بیٹسمینوں پراتھرنا او ر دلشان نے انگلینڈ کے خلاف 20 مئی 2011 میں قائم کی۔صوفیہ گارڈنز کارڈیف گراؤنڈ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کے فرائض انگلینڈ کے اے جے سڑاس نے انجام دئیے انہوں نے 2009 سے 2011 تک دو میچوں میں کپتانی کی اور ایک میچ میں ان کو بطو ر کپتانی کامیابی ملی جبکہ ایک میچ ہار جیت کے بغیر ختم ہوگیا۔ دوسرے نمبر پر ہے آسٹریلیا کے مائیکل کلارک ہیں جنہوں نے 2015 میں ایک ٹیسٹ میچ میں ٹیم کی کپتانی کی اور اس میں ان کو بطو ر کپتان شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس گراؤنڈ میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر رنر پر آؤٹ ہونے والوں میں سرفہرست انگلینڈ کے بیٹسمین جی ایس بیلنس ہیں جو 2015 میں ایک میچ کی دو اننگز میں بغیر کوئی رنز بنائے پویلین واپس لوٹ گئے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں اس گراؤنڈ پر سب سے زیادہ چھکے لگانے والوں میں آسٹریلیا کے بیٹسمین بی جے ہیڈن ہیں جنہوں نے 2009 سے 2015 تک دو میچوں کی تین اننگز میں تین چھکے لگائے جبکہ دوسرے نمبر پر بھی آسٹریلوی بیٹسمین ایم جی جانسن ہیں جنہوں نے 2009 ء سے 2015 تک دو میچوں میں دو چھکے لگائے۔

امپائرنگ کے حوالے سے یہاں پر کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ مرتبہ امپائرنگ کرنے والوں میں پہلا نمبر پاکستان کے علیم ڈار کے پاس ہیں جنہوں نے 2009 سے 2011 تک دو ٹیسٹ میچ میں کپتانی کی دوسرا نمبر ویسٹ انڈیز کے ڈاکٹرویو کا ہے جنہوں نے 2009 سے 2011 تک دو میچوں میں ہی کپتانی کی۔صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ سٹیڈیم میں ون ڈے کرکٹ کی بات کی جائے تو یہاں پر سب سے پہلا ون ڈے میچ20 مئی1999 ء کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا اس میچ میں کامیابی نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پانچ وکٹوں سے اپنے نام کی و ن ڈے میں امپائرنگ کے فرائض پاکستان کے جاوید اختر اور انگلینڈ کے ڈیوڈ شیفرڈ نے انجا م دئیے۔ اس گراؤنڈ میں ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز بھارتی کرکٹ ٹیم کو حاصل ہے جس نے 331 رنز سات وکٹوں پر 6 جون2013ء کو جنوبی افریقہ کے خلاف بنایا تھا دوسرے نمبر پر میزبان انگلینڈ کی ٹیم ہے جس نے سات وکٹوں پر324 رنز سری لنکا کے خلاف بنائے یہ میچ 2 جولائی2016 کو کھیلا گیا تھا جبکہ پاکستانی ٹیم اس گراؤنڈ پر 304 رنز بناچکی ہے جو اس نے چھ کھلاڑیو ں کے نقصان پر انگلینڈ کے خلاف بنائے تھے یہ میچ چار ستمبر2016 کو کھیلا گیا۔صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ میں ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ رنر بنانے کا اعزاز بھارتی بیٹسمین دھون کے پاس ہے جنہوں نے 114 رنز 94 گیندوں پر بنائے جس میں بارہ چوکے اور ایک چھکا شامل ہے انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف 6 جون2013 کو حاصل کیا۔دوسرے نمبر پر انڈیا ہی کے ویرات کوہلی ہیں جنہوں نے 93 گیندوں پر107 رنز بنائے جس میں نو چوکے او ر ایک چھکا شامل ہے یہ میچ انگلینڈ کے خلاف16 ستمبر2011 کو کھیلا گیاجبکہ صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ میں سب سے زیادہ انفرادی رنز بنانے کا اعزاز بھارت کے بیٹسمین ویرات کوہلی کے پاس ہے جنہوں نے 2011 سے لیکر2014 تک چار میچ کھیلے اور 196 رنز بنائے ان کا سب سے زیادہ رنز 104 ہے جس میں پندرہ چوکے اور دو چھکے شامل ہیں۔

اس گراؤنڈ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والوں میں بھارت کے مایہ ناز سپنر آر اے جدیجہ ہیں2011 سے 2014 تک چار میچ کھیلے اور آٹھ وکٹیں اپنے نام کیں جن میں ان کی بہترین باؤلنگ28 رنز کے عوض چار وکٹیں ہیں دوسرا نمبر نیوزی لینڈ کے میکلیگن کا ہے 2013 میں دو میچ کھیل کر سات وکٹیں اپنے نام کیں ان کی بہترین باؤلنگ43 رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کا شکار کرنے میں کامیاب ہوئے۔صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ میں بننے والی پہلی وکٹ کی بڑی پارٹنر شپ جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز اور گریم سمتھ نے 154 رنز بناکر قائم کی یہ میچ زمبابوے کے خلاف5 جولائی 2003 میں کھیلا گیا۔صوفیہ گارڈنز کرکٹ گراؤنڈ میں ٹی ٹونٹی کرکٹ کا پہلا میچ 5 ستمبر2010 کو انگلینڈ اور پاکستان کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا تھا اس میچ میں انگلینڈ کی ٹیم نے پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست دی اس میچ میں امپائرنگ کے فرائض انگلینڈ کے آر اے کیٹل بور اورانگلینڈ ہی کے نیگل لینگ نے انجام دئیے۔صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ میں ٹی ٹونٹی کا سب سے بڑا سکور 5 وکٹوں پر182 رنز ہے جو انگلینڈ کی ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف 31 اگست2015 کو بنایا تھا جبکہ اس کے بعد دوسرا نمبر آسٹریلیا کا ہے جس نے 8 وکٹوں پر177

رنز انگلینڈ کے خلاف بنائے یہ میچ31 اگست 2015 کو ہی بنائے تھے ۔سب سے کم سکو ر اس گراؤنڈ پر پاکستان کی کرکٹ نے صرف89 بنایا یہ میچ سات ستمبر 2010 کو میزبان انگلینڈ کے خلاف کھیلا گیا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر بھی پاکستان ہی کی ٹیم ہے جس نے انگلینڈ کے خلاف سب سے کم سکور 126 رنز چار وکٹوں پر بنارکھے ہیں۔ٹی ٹونٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے والے بیٹسمین آسٹریلیا کے این ایم کولٹر ہیں جو2015 میں ایک میچ میں ایک مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ اس گراؤنڈ پر سب سے زیادہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں چھکے لگانے کا اعزاز انگلینڈ کے ایون مورگن کو ہے جنہوں نے یہاں پر 2010 سے 2015 تک تین میچوں میں سب سے زیادہ سات چھکے لگائے جبکہ دوسرا نمبر آسٹریلیا کے ایس پی ڈی سمتھ کا ہے جنہوں نے ایک میچ میں چار چھکے لگائے۔

صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ میں سب سے بہترین باؤلنگ کا اعزاز انگلینڈ کے ٹی ٹی بریسن کو ہے جنہوں نے 2010 میں دو میچ کھیل کر چاروکٹیں حاصل کیں جبکہ دوسرا نمبر بھی انگلینڈ ہی کے جے پی سوان کے پاس ہے جنہوں نے 2010 میں دو میچوں میں چار وکٹیں حاصل کیں ہوئیں ہیں۔اس گراؤنڈ میں ٹی ٹونٹی کرکٹ کے سب سے بہترین کپتان انگلینڈ کے پال کولنگ وڈ رہے جنہوں نے دو میچ میں کپتانی کی اور دو میچ ہی جیتے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان کے شاہد خان آفریدی ہیں جو 2010 میں دو میچ کھیلے اور دونوں ہی ہارے ۔صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ پر امپائرنگ کرنے والوں میں انگلینڈ کے مائیکل گف ،انگلینڈ کے ایل آئی گیلڈ، رچرڈ الینگ ورتھ، انگلینڈ کے رچرڈ کیتھی بورڈ اور انگلینڈ ہی کے نیگل لینگ اور ٹم روبنسن شامل ہیں۔ صوفیہ گارڈنز کارڈیف کرکٹ گراؤنڈ میں چیمپئنز ٹرافی2017 میں چار میچ کھیلے جائیں گے جن میں پہلا میچ چھ جون کو انگلینڈ اور نیوزی لینڈ دوسرا میچ نو جون کو نیوزی لینڈ او ربنگلہ دیش ، بارہ جون کو پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا جبکہ چودہ جون کو ٹیموں کی پوزیشن پر کھیلنے والی ٹیموں کا فیصلہ ہوگا۔

مزید : کھیل