امریکہ کے کہنے پر ہم نے طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دی: قطر

امریکہ کے کہنے پر ہم نے طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دی: قطر
امریکہ کے کہنے پر ہم نے طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دی: قطر

  

دوحہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) قطر ی دفتر خارجہ کے انسداد دہشتگردی سیل کے خصوصی سفیر کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت امریکی حکومت کے کہنے پردی ، اور قطری حکومت نے امریکہ کے کہنے پر ہی طالبان، امریکہ اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات کی میزبانی کی۔

عرب ٹی وی الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے انسداد دہشتگردی کے خصوصی سفیر مطلع القحطانی نے کہا کہ قطر کی پالیسی ہے کہ وہ ہمیشہ امن و استحکام کیلئے راہیں کھولتا ہے اور امن کیلئے ہونے والے مذاکرات کو خوش آمدید کہتا ہے اسی لیے امریکی حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی جسے قبول کرلیا۔

القحطانی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا تھا کہ قطر طویل عرصے سے دہشتگردوں کو سہولیات فراہم کرنے میں ملوث ہے۔ واضح رہے کہ طالبان نے 2013 میں قطر میں اپنا سیاسی دفتر کھولا تھا ۔

خیال رہے کہ قطر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ دہشتگردوں کو سہولیات فراہم کرتا ہے اور اسی الزام کے تحت سعودی عرب کی قیادت میں 7 ممالک نے قطر کا حقہ پانی بند کردیا ہے۔ افغان طالبان بھی امریکہ کی نظروں میں دہشتگرد ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی تناظر میں قطر پر دہشتگردوں کی سہولت کاری کا الزام لگایا تھا، حالانکہ امریکہ کی سابقہ حکومت انہی طالبان سے مذاکرات کرتی رہی ہے۔

مزید :

عرب دنیا -اہم خبریں -