نرس کا ظالمانہ قتل ، اسرائیل نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ویڈیو بنا ڈالی لیکن آخر چوری پکڑی گئی،،ایسا کیا تھا ویڈیو میں جانئے

نرس کا ظالمانہ قتل ، اسرائیل نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ویڈیو ...
نرس کا ظالمانہ قتل ، اسرائیل نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ویڈیو بنا ڈالی لیکن آخر چوری پکڑی گئی،،ایسا کیا تھا ویڈیو میں جانئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی غاصب فوج نے نہتے فلسطینیوں کا قتل عام کرنے کے ساتھ ساتھ اب ایک اور ایسا گھناؤنا کام شروع کر دیا ہے کہ جان کر ہر مسلمان مشتعل ہو جائے۔ دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج فلسطینیوں کی شہادتوں پر مبنی ویڈیوز کو ایڈٹ (Edit)کر کے پھیلا رہی ہے تاکہ الٹا حماس کو ان اموات کا موردِ الزام ٹھہرایا جا سکے۔ گزشتہ دنوں اسرائیلی فوج نے فلسطین کی 21سالہ ڈاکٹر ریزن النجار کو شہید کر دیا تھا جس کی شہادت کی ویڈیو نے دنیا بھر میں اشتعال کی ایک لہر دوڑا دی تھی۔

اب اسرائیلی فوج نے اس ویڈیو کو ایڈٹ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حماس ریزن النجار کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔ اس تبدیل شدہ ویڈیو میں ریزن النجار ایک خاتون صحافی سے بات کرتے ہوئے خود بتا رہی ہوتی ہے کہ اسے حماس نے انسانی ڈھال بننے اور اپنی جان دینے پر اکسایا ہے اور وہ ان کے کہنے پر یہاں آئی ہے۔اب اسرائیل کے کئی حکومتی و فوجی عہدیدار اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس ویڈیو کو پھیلا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اصل ویڈیو میں ریزن النجار کہتی ہے کہ ’’میں اس مظاہرے میں اس لیے موجود ہوں تاکہ اسرائیلی فوج کی گولہ باری سے زخمی ہونے والوں کو طبی امداد دے سکوں۔‘‘ اس نے اپنی پوری گفتگو میں حماس کا ذکر ہی نہیں کیا۔وہ زخمی فلسطینیوں کی مدد کے لیے وہاں آئی تھی لیکن خود غاصب فوج کی گولیوں کا نشانہ بن گئی۔ اس کے سینے میں گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔فلسطینی شہری ریزن النجار کی موت پر شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ریزن النجار ہمارے لیے ’رحمت کا فرشتہ‘ تھی۔ وہ اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اسرائیلی بارڈر پر زخمیوں کو طبی امداد دیتی تھی جنہیں بروقت ہسپتال لیجانا ممکن نہیں ہوتا تھا۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی