کیایہ لڑکی کروڑ روپے انعام کی حق دار نہیں؟

کیایہ لڑکی کروڑ روپے انعام کی حق دار نہیں؟
کیایہ لڑکی کروڑ روپے انعام کی حق دار نہیں؟

  

ایک ایمان افزا خبر ہے کہ کراچی کے علاقہ کورنگی ٹاؤن کی رہائشی اکتیس برس کی زمرد خاتون نے سات سال چھ ماہ کی مدت میں کپڑے پر ہاتھ کی کڑہائی سے قرآن کریم کی تاریخ کا پہلا عظیم الشان نسخہ تیار کیا ہے، سوتی کپڑے پر تیار کیا گیا یہ نسخہ اس لئے بھی منفرد ہے کہ قرآن کریم کے متن کے ساتھ اُردو میں ترجمہ بھی کڑہائی سے ہے۔

اس نسخے کا وزن 63کلو ہے، الگ الگ کپڑے کے ٹکڑوں پر اس طرح کڑھائی کی گئی ہے کہ ہر ٹکڑا (ورق) ہرے سبز اور سنہری دھاگوں کی کڑھائی سے خوشنما بنایا گیا ہے۔

مسماۃ زمرد خاں ایک پٹھان گھرانے سے تعلق رکھتی ہے، انہوں نے یہ نسخہ گزشتہ اپریل 1917ء کو مکمل کرلیا تھا، وہ اس نایاب اور منفرد نسخے کی تیاری پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہے۔

اب تک قرآن کریم کی کتاب کھجور کے پتوں، لکڑی کی تختی، ہرن کی جھلی، ہڈی اور مختلف نوعیت کے کاغذات پر ہوتی رہی ہے، اگرچہ مختلف ادوار میں مختلف انداز اور زبانوں میں قرآن کریم کی کتابت و طباعت کا اہتمام ہوتا رہا ہے، لیکن کپڑے پر سبز اور سنہری دھاگے کے ساتھ کڑھائی کی صورت میں دنیا کا یہ عجوبہ بھی ہے اور عظیم الشان منفرد و نسخہ بھی ۔

اس شاندار نسخے کی خبر شائع ہونے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نہ حکمرانوں کو اس کارنامے پر لفظی خیر مقدم کی توفیق ہوئی، نہ کسی میڈیا نے شایان شان کلمہ تحسین کہا ہے، نہ کسی سیاست دان اور قومی و مذہبی رہنما کو زبانی ہی شاباش دینے کی سعادت ملی ہے، اگر کوئی کھلاڑی گلی ڈنڈا (ولائتی کرکٹ) کھیل کر آتا تو نہ صرف ائرپورٹ پر ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا جاتا، بلکہ کروڑوں روپے کے انعامات، دو دو کنال کے پلاٹوں اور دل کھول کر نقد رقم دینے کے انعامات کے علاوہ انہیں عمرے کی سعادت سے بھی نوازا جاتا ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران دین اسلام اور تفسیر قرآن کریم اور سیرت طیبہ کے موضوع پر بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، طبلہ سرنگی بجانے، ناچ گانے اور لڈی ناچ والوں کے لئے حکمرانوں اور سرمایہ داروں کی تجوریوں کے منہ کھل جاتے ہیں، ان پر ہر طرح اور ہرقسم کی چیزیں نثار کی جاتی ہیں، لیکن جس بچی زمرد خاتون نے ساڑھے سات سال محنت شاقہ کے ساتھ قرآن کریم کاکپڑے پر کڑھائی کی صورت میں دنیا کا واحد، منفرد لائق صد تحسین رتبہ ملک نسخہ تیار کیا ہے۔ کیا دنیائے اسلام کا کوئی حکمران، کوئی سرمایہ دار تاجر، صنعتکار اور کوئی گینز بک کا ملک ایسا نہیں ہے، جو اس بچی کے عظیم الشان منفرد کارنامے پر شایان شان خیر مقدم کرکے اس کی حوصلہ افزائی کرے اور اس نادر و نایاب قرآنی نسخے کو مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ کے مصحفی عجائب خانے میں رکھنے کا انتظام کرے۔ اس لڑکی کو تو سونے کا تاج پہنانے کے ساتھ کروڑوں روپے کے انعامات، عمرہ کی ادائیگی اور رہائش کے لئے دو چارکنال کا پلاٹ دینا چاہئے، اس لڑکی پر مختلف قیمتی تحائف کی بارش کرکے دائمی یادگار کارنامہ انجام دینا چاہیے۔

قرآن کریم کی برکت ہی سے دنیا پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں، قرآن کریم قوموں کے عروج و زوال کی نشاندہی کرتا ہے، یہ روحانی تسکین اور جسمانی تطہیر کی کتاب ہے۔ ہمیں اس بچی زمرد خاتون کی عمر میں برکت اور صحت و سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ خراج عقیدت و تحسین پیش کرتے رہنا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم