حفاظت کا عطیہ

حفاظت کا عطیہ
حفاظت کا عطیہ

  

حکمرانو ں کے بارے لوگوں کا طرز عمل بھی عجیب ہے۔ہر اہل اقتدار یا اقتدار میں آنے والے شخص کے ارد گرد کچھ ایسے پیشہ ور لوگ آ کر گھیرا ڈال لیتے ہیں جو واہ واہ اور کمال ہے، کمال ہے، اس قدر اونچی آواز میں کہتے ہیں کہ حکمرانوں کو کچھ اور سنائی ہی نہیں دیتا۔

شور مچانے والے اسی تعریف کے حوالے سے اپنا مطلب نکالتے اور اپنے بڑے بڑے کام کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کیونکہ حکمران انہی کے حوالے سے خود کو نوشیرواں اور شیر شاہ سوری کا ہم پلہ سمجھنے لگتے ہیں اور آخر میں اسی غلط فہمی میں اچھے انجام سے دو چار نہیں ہوتے۔واہ واہ اور کمال ہے، کمال ہے کہنے والے نئے آنے والے کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں ۔

نیا آنے والا بھی سب کچھ جاننے کے باوجود انہیں خوش دلی سے قبول کر لیتا ہے۔ شاید یہی تاریخ کا بہترین سبق ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے۔

سنسکرت ادب کی ایک قدیم کہانی ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ بد قماش لوگوں کی باتیں اچھے انسانوں کے ذہن کو بھی کشمکش میں مبتلا کر دیتی ہیں اور جب کوئی اچھا انسان بھی ان کی باتوں پر بھروسہ کر لیتا ہے تو وہ بے موت مارا جاتا ہے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک جنگل میں ایک ببر شیر کی حکمرانی تھی۔ اس کے تین مشیر تھے۔ایک کوا، ایک چیتا اور ایک لومڑ۔ایک روز یہ تینوں مشیر اکٹھے جنگل میں گھوم رہے تھے کہ ایک اونٹ نظر آیا۔اونٹ کچھ پریشان تھا۔ تینوں نے پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ اونٹ اپنے قافلے سے بچھڑ گیا ہے اور اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کرے۔وہ اسے پکڑ کر اپنے بادشاہ ببر شیر کے پاس لے آئے۔

بادشاہ نے اس کی داستان سنی اور اسے جنگل میں آزادی سے رہنے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کا وعدہ بھی کیا۔اونٹ اب آزادی سے جنگل میں رہنے لگا۔

کچھ دن بعد جنگل کا بادشاہ ببر شیر بیمار پڑ گیا۔بارشوں کا موسم شروع ہو گیااور غذا نہ ہونے کی وجہ سے وہ سب پریشان ہو گئے۔تینوں مشیروں کوے، چیتے اور لومڑ نے آپس میں مشورہ کیا اور آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ غذا کی ضرورت پوری کرنے کے لئے یہ موٹا تازہ اونٹ کس وقت کام آئے گا۔ بہتر ہے کہ اس اونٹ کو استعمال کیا جائے ۔

آقاسے کہا جائے کہ اسے مار ڈالے۔چیتے نے کہا کہ ہم یہ کام کیسے کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے آقا نے اس کی حفاظت کا وعدہ کیا ہوا ہے اور اس کو پورا تحفظ بھی دیتا ہے۔کوا بولا ،’’ ایک ایسے وقت میں جب ہمارا آقا بیمار اور کمزور ہے وہ گناہ کرنے میں پس وپیش نہیں کرے گا۔کیونکہ

ایک فاقہ زدہ عورت اپنے بچے کو چھوڑ دیتی ہے۔

ایک بھوکا سانپ اپنے انڈے کھا جاتا ہے۔

ایک بھوکا آدمی ہر برائی کر جاتا ہے۔

کمزور ہمیشہ بے رحم ہوتے ہیں۔

شرابی ، ضعیف العقل، فاقہ زدہ، حریص، خوف زدہ ، جلد باز یا عاشق کبھی صحیح کام نہیں کرتے۔

بہت غور و غوض کے بعد وہ تینوں مشیر ببر شیر کے پاس گئے۔ شیر نے پوچھا،’’تم کو کچھ کھانے کو ملا‘‘

جواب ملا، ’’ہم نے اپنے طور پر بہت کوشش کر لی ہے مگر کچھ نہیں ملا‘‘۔

شیر نے کہا کہ اب ہم لوگ زندہ کیسے رہیں گے۔

کوے نے کہا، ’’عالی جاہ ! یہی ہم سوچ رہے ہیں کہ اگر آپ کو آپ کی فطری غذا نہ ملی ، تو آپ ہی نہیں ہم سب مر جاہیں گے۔

شیر نے پوچھا،’’ہماری فطری غذا کیا ہے‘‘۔ کوے نے شیر کے کان میں سرگوشی کی،’’اونٹ‘‘۔

شیر نے زمین کو چھوا اور خوف سے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا،’’ میں نے اس کی حفاظت کی قسم کھائی ہے اور ہمیں اسے پورا کرنا ہے ۔ ہم اسے کیسے کھا سکتے ہیں کیونکہ

نہ زمین کے عطیات، نہ سونے کے عطیات، نہ مویشیوں کے عطیات، نہ غذا کے عطیات عظیم ترکہے جاتے ہیں بلکہ تمام تر عطیات میں عظیم تر حفاظت کا عطیہ ہے۔

تمام خواہشات کی تکمیل اس انسان کو حاصل ہوتی ہے،جو پناہ گزینوں کو پناہ دیتا ہے۔

کوے نے کہا، ’’صحیح فرمایا۔اسے مارنا نہیں چاہیے، لیکن کوئی سبب نہیں ہے کہ ہم اس طرح کے حالات پیدا کر دیں کہ جن کے تحت وہ خود کو رضا کارانہ پیش کر دے‘‘۔

شیر یہ سن کے خاموش رہا۔کچھ دیر بعد کوا کوئی مناسب بہانہ بنا کر سب کو شیر کے پاس لے آیااور کہنے لگا، ’’عالی جاہ! ہم جتنی بھی کوشش کریں ، ہمیں خوراک نہیں مل سکتی۔فاقہ کرتے کرتے ہم کمزور ہو گئے ہیں۔

مجھ سے آپ کی حالت نہیں دیکھی جاتی۔ میں آپ کے لئے اپنا گوشت پیش کرتا ہوں کیونکہ ساری رعایا آپ پر بھروسہ کرتی ہے، انہی درختوں پر پھل آتا ہے جن کی جڑ مضبوط ہوتی ہے۔جب بادشاہ مضبوط ہوتا ہے تو لوگوں کو عیش و آرام حاصل ہوتا ہے‘‘۔

شیر نے کہا کہ وہ ایسا کرنے سے موت کو ترجیح دے گا۔پھر لومڑ نے یہی پیشکش کی۔ شیر نے پھر نفی میں جواب دیا۔چیتے نے اپنے جسم کو غذا بنانے کی پیش کش کی۔ شیر نے انکار کر دیا۔آخر میں سادہ لوح اونٹ نے بڑے اعتماد کے ساتھ خود کو پیش کیااور اس کی پیش کش کے جواب میں شیر نے فوراً اس کا پیٹ پھاڑ دیااور سب مل کر اسے مزے سے کھا گئے۔

پاکستان میں ایسے ہی بدقماش لوگ ہر ببر شیر کو ورغلاتے اور اس کے ذہن کوخراب کرتے اور اسے انجام تک پہنچاتے رہے ہیں اور آج بھی مصروف عمل ہیں۔ہماری پچھلی ستر سالہ تاریخ میں حکمرانی کے لئے کئی شیر آئے مگر کوے ،چیتے اور لومڑ نے انہیں اپنے نرغے میں رکھا۔کوئی حکمران جتنی بھی دیانتداری سے یہ سوچ کر آئے کہ اس ملک کے عوام کی فلاح کے لئے کام کرے گا،ایسے مشیر اسے کشمکش میں مبتلا کرکے سادہ لوح عوام کے ساتھ اونٹ والا سلوک کرنے پر مائل کر لیتے ہیں۔

یہ سلسلہ ستر سال سے چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ نہ انداز حکمرانی بدلے گا اور نہ مشیروں کے چال چلن۔عملاً یہ ملک ایسے کوؤں، چیتوں اور لومڑؤں کے ہاتھ یرغمال ہے اور جانے کب تک رہے گا۔

علم ذہن اور شعور کو جلا بخشتا ہے۔ہمارے حکمرانوں کی پہلی ترجیح کبھی علم نہیں رہا۔حکمران نہیں چاہتے کہ لوگوں تک علم کی روشنی پہنچے۔ اس لئے کہ علم جہالت کا دشمن ہے، مکاری کا دشمن ہے، غربت کا دشمن ہے، سرمایہ داری کا دشمن ہے، جاگیرداری کا دشمن ہے، مخدوموں کا دشمن ہے، پیروں کا دشمن ہے، کوے، چیتے اور لومڑ کا دشمن ہے۔ شہروں میں تو صورت حال بہت بہتر ہے ۔

شہر سے تھوڑا ہٹ کر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ لوگ مخصوص لوگوں ، اپنے گاؤں کے کچھ خاص وڈیروں کے ہاتھ یرغمال ہیں۔ ایک گاؤں کا وڈیرا گاؤں کے سارے مکینوں کی قسمت کا مالک ہے ۔اس کی اجازت کے بغیر گاؤں میں درختوں کے پتے بھی ہل نہیں سکتے انسان تو دور کی بات ہے۔وہ وڈیرا اگر خائف ہے تو فقط علم سے ۔وہ جانتا ہے کہ ملک کے مسائل کا واحد حل تعلیم کا فروغ ہے۔

وہ اپنے گاؤں تک علم کو آنے سے جب تک ممکن ہے روک رہا ہے کیونکہ لوگوں تک علم پہنچ گیا تو وہ نہ صرف پچھلا حساب لیں گے بلکہ اگلا پچھلا سب حساب چکائیں گے۔

مزید : رائے /کالم