کردار کی تکمیل اور شخصیت

کردار کی تکمیل اور شخصیت
کردار کی تکمیل اور شخصیت

  

اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان المبارک کو دوسرے تمام مہینوں پرفضیلت عطا کی ہے اور اس مہینے میں ہر اچھے کام اور عبادات کا صلہ دوسرے مہینوں سے بہتر اور زیادہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم صرف ان لوگوں پر نہیں ہے، جو مسلمان ہیں، بلکہ ان تمام لوگوں پر اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی طریقے یا ذرائع سے اپنی نعمتیں اور نوازشات نازل کرتا ہے، جو موجودہ دنیا میں ہیں۔

موجودہ دنیا میرے حضور شہنشاہ مدینہؐ کی امت ہے۔ کسی کو خبر نہیں کہ کب اور کس وقت اللہ تعالیٰ کسی بھی فرد کو اپنے پیارے نبیؐ کا کلمہ پڑھنا نصیب فرمادے۔

ماسوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب قرآن مجید میں دلوں کو تالے لگانے کا کہا ہے یا دلوں کو کالا کردیا ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا ہے۔

انسان نیک و بد کی تمیز سے بہرہ مند ہے، آگ اور پانی میں فرق محسوس کرسکتا ہے، پھر کیا اس سے کوئی ایسی حرکت یا کوئی ایسا عمل سرزد ہونا چاہئے، جو انسانیت کے حسن اور شرف کے منافی ہو اور جو اسے ’’اسفل سافلین‘‘ میں پہنچا دے۔(سب سے گھٹیا اور اس سے بھی گھٹیا) یعنی جس سے ہم جنسوں کے طبعی و فطری حقوق پر زد پڑے، خواہ ان کا تعلق ہم جنسوں کی جانوں سے ہو یا اصول سے یا آبرؤں سے ایسا ہر فعل لازماً اجتماعی امن و راحت کے نظام میں کم یا زیادہ اختلاف کا باعث ہوگا، یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے اختلال انگیز افعال و حرکات سے احتراز حقیقتاً ہر فرد کے لئے ضروری ہے، کیونکہ اگر زید کی کوئی حرکت خود زید یا اس کے ساتھیوں کے لئے موجب آزار ہو گی، اسلام کی برتری یہ ہے کہ اس کے تمام اوامرو نواہی کی بنیاد و اساس معاشرے میں رحمت و محبت جاری و ساری رکھنے کے لئے ہے، وہ چاہتا ہے کہ رحمت و محبت کے فروغ و عمومیت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو، تمام افراد معاشرے کے درمیان اخوت، خلوص، ہمدردی اور یکجہتی کے روابط زیادہ سے زیادہ مضبوط ہوں۔

یہ سب رحمت ہی کی کارفرمائی اور عوامل ہیں، غرض اسلام نے دینی عقائد اور اعمال کا جو تصور قائم کیا ہے، اس کی بنیاد بھی تمام تر رحمت اور محبت پر رکھی ہے، قرآن مجید کی مختلف تصریحات کے مطابق خدا اور بندوں کے درمیان بھی رشتہ محبت کا ہی ہے، اسی لئے فرمایا: جو لوگ ایمان والے ہیں، ان کے دلوں میں سب سے بڑھ کر چاہت اللہ کی ہوتی ہے، اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے واقعی محبت رکھتے ہو تو چاہئے میری پیروی کرو، کیونکہ میں تمہیں اللہ سے محبت کی حقیقی راہ دکھا رہا ہوں، اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ وہ بڑا ہی غفور الرحیم ہے، خود رسول اللہؐ کی ذات با برکات سے محبت بھی اسی لئے دنیا بھر کے انسانوں پر فائق و برتر ہوگئی کہ ان کے ذریعے سے ہمیں خدا کا راستہ ملا۔

حضورؐ کا ارشاد ہے: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک حقیقی مومن نہیں ہوسکتا، جب تک میں اس کے نزدیک باپ، بیٹے پورے عالم انسانیت سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔

رسول اللہؐ جو نور ہدایت لے کر آئے، اس کے سوا ہدایت کا کوئی وجود نہیں اور انسان کے لئے سب سے پہلی چیز ہدایت حق ہے، اس کے بعد تمام رشتے آتے ہیں اور خود رشتوں کے واجبات نیز ان کی تکمیل و سرانجام کے طریقے ہمیں اسی نورِ ہدایت سے ملے، جو آخری نبی محمد رسول اللہؐ کے ذریعے سے ہماری زندگی میں مشعل راہ بنا۔

یہ بھی بتادیا کہ خدائے بزرگ و برتر سے محبت کی عملی راہ خدا کے بندوں کی محبت سے ہو کر گزری ہے، جو شخص چاہتا ہے کہ خدا اس سے محبت کرے، اسے چاہئے کہ رسول اللہؐ کی پیروی کرے اور حضورؐ کے ارشادات کی روشنی میں خدا کے بندوں سے محبت کرنا سیکھے۔

قرآن مجید اور احادیث میں خدا کے بندوں سے پیار کے لئے جو کچھ موجود ہے، اس پر عمل کرکے دنیا اور آخرت کو سنوارا جاسکتا ہے، اس دنیا میں نگرانی اور دیکھ بھال کے اچھے طریقے موجود ہیں۔ عزیزوں اور رشتہ داروں کی اعانت، بیواؤں، مسکینوں اور اسیروں کی امداد، مسافروں کی خبر گیری، قرض کے بوجھ سے دبے لوگ۔

اس کا کیا ذکر کرنا پاکستان کا ہر فرد بچہ بچہ غیر ملکی بینکوں اور اداروں کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، بہرحال اسلام کے احکامات میں لوگوں کو سہارا دینا۔ تمام احکامات پر عمل درآمد کے لئے قرآن مجید میں احکامات واضح ہیں، جہاں اسلامی معاشرہ موجود ہو، اس کے تمام افراد اپنے واجبات کتاب و سنت کے مطابق پورے کریں، وہاں کوئی ایسا محتاج نظر نہیںآسکتا، جسے کسی کی طرف حسرت بھری نظر سے دیکھنے یا ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہو، اربابِ استطاعت کا اسلامی جذبہ خیر، نیز محتاج کی اسلامی خودداری اور عزت نفس دونوں اپنی جگہ کارفرما ہوں گے، محتاج کسی سے نہیں لیتا کہ اس کا ممنون ہو۔

اللہ نے اس کا حصہ مقرر کردیا ہے اور وہ اپنا حصہ لیتا ہے، یہ اسلام تھا جو ہمارے آخری نبیؐ دنیا بھر کے انسانوں کے لئے لائے تھے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لئے نبی بھیجے، جو اپنی اپنی امت کو راہ حق سیدھے راستے پر چلنے کی تلقین کرتے تھے اور ان کی تینوں کتابوں میں آخری نبیؐ کے آنے کی بشارتیں موجود ہیں، اسی لئے روایت ہے کہ کئی نبیوں نے اللہ کے آخری نبیؐ کی امت میں پیدا ہونے اور موجود ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے آخری نبیؐ رحمت العالمین شافع محشر کی امت میں پیدا کر کے بہت بڑا احسان فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی ہے کہ ہم بے شمار گنہگار، منافق، جھوٹے اور اسلام کے احکامات کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، لیکن پہلی امتوں کی طرح شکلیں نہیں بگڑتیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے آخری نبیؐ کی طفیل بروقت معافی اور توبہ کے، دروازے کھلے رکھے ہیں، تاکہ معافی حاصل ہوسکے، سبحان اللہ۔

مزید : رائے /کالم