کالا باغ ڈیم سے ’’پاکستان ڈیم‘‘ تک

کالا باغ ڈیم سے ’’پاکستان ڈیم‘‘ تک
کالا باغ ڈیم سے ’’پاکستان ڈیم‘‘ تک

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

خواتین و حضرات! آج کل آپ سوشل میڈیا پر بڑے زور و شور سے چلنے والی تحریک یا مہم ’’ڈیم بناؤ، ملک بچاؤ‘‘ کے بارے میں پڑھ رہے ہوں گے، فیس بک نے جس طرح سے اس ایشو کو اٹھایا ہے۔ اُس سے ملک کے لوگوں میں یکجہتی کا جذبہ اور حب الوطنی کا جو جوش نظر آرہا ہے، اُسے سراہنے کی ضرورت ہے۔

اس سے کالا باغ ڈیم کے بن جانے کی امید پیدا ہوئی ہے، یعنی جو کام حکومتوں کو کرنا تھا، وہ اب عوام، عدلیہ اور افواج پاکستان نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔

ہم نے ماضی میں اس ڈیم کی تعمیر کے بہت سے مواقع کھو دیئے ہیں، آخری موقع جنرل پرویز مشرف کے پاس تھا، جو صدر پاکستان بھی تھے، پاک فوج کے سربراہ بھی اور حکومتی معاملات پر حرفِ آخر بھی۔

وہ اگر چاہتے تو اپنے اختیارات استعمال کرکے ڈیم بناسکتے تھے، وہ نہ تو عوام کو جواب دہ تھے، نہ اسمبلی کو اور نہ ہی خود اپنی افواجِ پاکستان کو۔۔۔ لیکن نجانے کیوں ایک محبِ وطن اور دلیر شخص ہونے کے باوجود سیاست کی راہ پر چلتے ہوئے صوبوں کی رائے لینے کے چکر میں پڑ گئے۔

پاکستان کے عوام اب بھی پاکستان کے مفاد، ترقی اور سلامتی کے ساتھ ہیں۔

وہ کوئی ایسی سازش اب کامیاب نہیں ہونے دیں گے، جو کالا باغ ڈیم کی راہ میں حائل ہو۔ رہا مسئلہ سیاسی جماعتوں کا، تو ان کے اپنے مخصوص مفادات ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) نے ہمت کرکے آواز بلند کی ہے، ہماری دانست میں اگر کالا باغ ڈیم کا نام ’’پاکستان ڈیم‘‘ رکھ دیا جائے تو یہ ہر اعتبار سے بہتر ہوگا۔خواتین و حضرات! ہماری ایک بات نوٹ کرلیں کہ آنے والے انتخابات ملک سے کرپشن کے خاتمے کے نعرے سے زیادہ کالا باغ ڈیم کے ایشو پر لڑے جائیں گے۔۔۔ ’’ڈیم بناؤ، ملک بچاؤ‘‘ کا نعرہ اب انتخابات میں کامیابی کا سلوگن ہے، جو سیاسی جماعتیں اس سے پہلو تہی کریں گی، وہ نقصان میں رہیں گی۔

ملک کی سلامتی، تحفظ اور ترقی بہرحال سب سے مقدم ہے اور اس ایشو پر الیکشن کمپین کی بنیاد رکھنے والے فائدے میں رہیں گے۔ اب بھی وقت ہے، وہ اپنے روڈ میپ اور منشور پر نظر ثانی کرلیں، کیونکہ اب یہ Talk of the Town ہے۔ کون جانتا ہے کہ اگلا الیکشن کالا باغ ڈیم کی سیاست پر ہی لڑا جائے، جو درحقیقت ہماری ملک کی معیشت اور سلامتی کی بنیاد ہے۔

خواتین و حضرات! ہمارے اس کالم کا دوسرا حصہ اُن معاملات پر مشتمل ہے، جو ہمیں کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے قبل دیکھنے ہیں اور جن پر عمل کرکے ہم پانی کی بچت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، ہم ہر روز کئی ہزار لیٹر فی فیملی پانی ضائع کرتے ہیں، جس کوروکنے کی جانب ہمیں جذبہِ حُب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے عمل کرنا ہوگا۔

پانی کا یہ زیاں زیادہ تر شہروں میں اور شہروں کی امیر آبادیوں، جیسے لاہور میں ماڈل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، ڈی ایچ اے، گلبرگ اور نئی آباد ہونے والی آباد کاریوں میں ہورہا ہے۔

مثال کے طور پر یہاں کی بڑی کوٹھیوں اور بنگلوں بشمول فارم ہاؤسز میں تقریباً ہر جگہ مالی، ڈرائیور اور کام والیاں ملازمت پر متعین ہیں۔ ان سب لوگوں کی (اکثریت کو) پانی ضائع کرنے کا خبط اور شوق ہوتا ہے۔۔۔یعنی ’’مالِ مفت دل بے رحم‘‘ والی بات ہوتی ہے۔ گھر کی دو تین کاروں کو دھونے میں بے دریغ پانی ضائع کیا جاتا ہے، اس طرح کام والیاں جب کپڑے دھوتی ہیں یا برتن دھوتی ہیں تو نل بلاوجہ کھلارکھتی ہیں۔ اس کمیونٹی کو بھی پانی ضائع کرنے کا بہت شوق ہے۔

اسی طرح کوٹھی کا مالی گھاس پر نل اور پائپ چلا کر بے فکر اور مست ہو جاتا ہے اور دیگر کاموں میں لگا رہتا ہے، پانی باغ سے نکل کر سڑک پر آجاتا ہے۔

گھروں کے فرش، ٹیریس اور برآمدے وغیرہ دھونے پر بھی کھلے دل سے پانی بہایا جاتا ہے۔ صاحب لوگ جب شیو کرتے ہیں یا دانتوں پر برش کرتے ہیں تو اس دوران نل اکثر کھلا رکھتے ہیں، شاور سے نہانے میں بھی پانی وافر مقدار میں ضائع ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ چھوٹے ہوٹل، تندور، حلوہ پوڑی اور دودھ کی دکانوں والے، کاریں فروخت کرنے والے بے تحاشا پانی ضائع کرتے ہیں۔

اسی طرح پھل اور سبزی فروش اپنے مال کو تروتازہ رکھنے اور اپنی دکانوں کے اردگرد چھڑکاؤ پر بہت پانی ضائع کرتے ہیں، اس مسئلے کو کسی قانون، تعزیرات اور ضابطے کے اطلاق سے کنٹرول کرنا مشکل ہے۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اُترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

مزید : رائے /کالم