انتہا پسند اور دہشت گرد مسلمانوں کے نمائندے نہیں

انتہا پسند اور دہشت گرد مسلمانوں کے نمائندے نہیں

امامِ کعبہ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے کہا ہے کہ اسلام انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مخالف ہے،مجرمانہ سرگرمیوں کا کسی مذہب سے تعلق نہیں۔انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ ضابط�ۂ اخلاق تیار کریں، اسلام اور اس کے پیرو کاروں کے خلاف نفرت انگیز میڈیا مہم کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، ہمارے پاس اِس بات کا کوئی جواز نہیں کہ ہم قبلہ اوّل (فلسطین) کے مصیبت زدگان سے آنکھیں بند کر لیں اور شام، عراق اور یمن کے مصیبت زدہ بھائیوں کی آہ و بکا نہ سنیں۔انہوں نے سوال کیا کہ انسانی حالات ہمیں جھنجھوڑ کیوں نہیں رہے۔ حرمِ کعبہ میں اپنے خطب�ۂ جمعہ میں انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ رمضان المبارک کے جو ایام باقی رہ گئے ہیں اِن میں اپنے رب سے رجوع کریں اور لیلتہ القدر تلاش کریں۔

مغربی دُنیا اور اُس کا میڈیا ایک منظم مہم کے تحت دہشت گردی کا تعلق اسلام سے جوڑ رہا ہے اور گمراہ کُن پروپیگنڈے کے ذریعے ہر مسلمان پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر رہا ہے، امریکہ کے کئی شہروں میں پے در پے ایسے واقعات ہو چکے ہیں،جن میں کسی طالب علم نے اپنے سکول کے ساتھیوں کو گولیوں سے بھون ڈالا یا کسی کلب میں داخل ہو کر آنِ واحد میں درجنوں افراد کو موت کی نیند سُلا دیا چونکہ یہ مقامی لوگ ہوتے ہیں اس لئے ایسے افراد کو یا تو فاتر العقل ثابت کرنے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے یا پھر ملزموں کے ایسے اقدام کو کسی وقتی اشتعال کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے اور اگر کسی ملتی جلتی واردات میں اتفاق سے کوئی ایسا شخص ملوث نکل آئے، جس کا نام مسلمانوں والا ہو، یا پھر اُس کے آباؤاجداد کا تعلق کسی مسلمان مُلک سے رہا ہو تو اُس کی اِس ذاتی واردات کے ڈانڈے دہشت گرد گروپوں سے ملائے جاتے ہیں،جبکہ اسلامی تعلیمات میں نہ تو دہشت گردی کی حمایت کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی صحیح الفکر مسلمان ایسا کر سکتا ہے،لیکن بے بنیاد مفروضوں کی بنیاد پر کئی مغربی ممالک میں ایسے اقدامات کئے جاتے ہیں، جن کا مقصد مسلمانوں کو مشکوک ثابت کرنا ہوتا ہے۔

آسٹریا کی حکومت نے سات مساجد کو بند کرنے اور ان میں خدمات انجام دینے والے درجنوں اماموں کو مُلک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے، آسٹریا کی دائیں بازو کی حکومت ’’ریڈیکل اسلام‘‘ کے خلاف اقدامات کو جواز کے طور پر پیش کر رہی ہے، ترکی کی حکومت نے اس اقدام کو نسل پرستی کے مترادف قرار دیا ہے، آسٹریا میں مسلمانوں کی تعداد6 لاکھ ہے اور ان میں زیادہ تر کا تعلق ترکی سے رہا ہے یا ان کے خاندان ترک ہیں۔ آسٹریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ ٹرکش اسلامک یونین سے تعلق رکھنے والے60 اماموں کی مُلک بدری کا خطرہ ہے جو ترک حکومت کے قریب بتائے جاتے ہیں اور آسٹریا میں جنگجوانہ تعلیمات پھیلا رہے ہیں۔ امامِ کعبہ اور دُنیا بھر کے مسلمان دانشور ہمیشہ سے واضح طور پر کہتے آ رہے ہیں کہ دُنیا میں جہاں کہیں دہشت گردی ہوتی ہے اگر ان میں کوئی مسلمان فرد یا گروہ ملوث ہے تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسلام کے نمائندے ہیں یا اسلامی تعلیمات دہشت گردی کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں ایسے نام نہاد مسلمانوں نے تو مغرب سے زیادہ مسلم معاشروں کو نقصان پہنچایا،عراق،شام وغیرہ کی تباہی کا باعث بننے والے جنگجوؤں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ لوگ تو اُلٹا اسلامی تعلیمات کی بدنامی کا باعث ہیں، اور ان کی وجہ سے نہ صرف شام و عراق میں تباہی پھیلی،بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی دوسرے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے۔مغربی ممالک نے بڑی منصوبہ بندی کے تحت پہلے میڈیا کے ذریعے ایک فضا بنائی اور پھر اس کی روشنی میں اقدامات کا آغاز کر دیا گیا،عراق پر دو مرتبہ حملے کے بعد یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ اس کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کے کیمیاوی ہتھیار ہیں ایسے ہتھیاروں کی ’’تلاش‘‘ کے لئے امریکی صدر بش نے اپنے برطانوی پوڈل ٹونی بلیئر کے ساتھ مل کر عراق پر حملہ کر دیا،لیکن ان ہتھیاروں کا تو کوئی سراغ نہ ملا، البتہ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ یہ تباہی وبربادی نہ جانے کتنے برسوں،بلکہ عشروں تک عراقی عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنائے رکھے گی، جب عراق کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا اور کوئی ہتھیار نہ ملے تو برطانوی عوام کے دباؤ کے تحت ٹونی بلیئر نے ایک کمیشن قائم کیا، جس نے کئی سال بعد رپورٹ دی کہ عراق کے پاس تباہی پھیلانے والے کوئی ہتھیار نہیں تھے اور برطانیہ کا امریکہ کے ساتھ مل کر عراق پر حملہ کرنا غلطی تھی اس کے بعد ٹونی بلیئر تو مستعفی ہو گئے،لیکن عراق کی بربادی کا ازالہ تو ممکن نہ تھا۔

امام کعبہ نے صحافیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام مخالف پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لئے میدان میں آئیں اور میڈیا کی اسلام مخالف مہمات کے جواب میں اسلام کی روشن تعلیمات پیش کر کے دُنیا کو بتائیں کہ دہشت گردی کے ساتھ اسلام کا کوئی تعلق نہیں اور جو لوگ بھی اس میں ملوث ہیں وہ نہ تو اسلام کے نمائندے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے، بلکہ اُن کے اقدامات کا سب سے زیادہ نقصان خود مسلمان ممالک کو پہنچا ہے، امریکہ اب تو شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہا ہے،لیکن اُس کے پاس اِس کا جواب نہیں ہے کہ داعش کے پاس جدید ترین امریکی ہتھیار کہاں سے آئے، جو ابھی تک امریکہ سے باہر یا تو سرے سے موجود ہی نہیں یا پھر بہت کم ممالک کے پاس ہوں گے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ داعش جب تک امریکی احکامات پر چلتی رہی، امریکہ اُس کی حمایت کرتا رہا، جب اس کے قائدین خود سر ہو کر امریکیوں کو بھی آنکھیں دکھانے لگے تو اُن کے ساتھ بھی افغان مجاہدین والا سلوک کیا گیا ، جو کبھی وائٹ ہاؤس کی آنکھ کا تارا تھے اور امریکی صدر ان مجاہدین کے ساتھ ملاقات کر کے فخر محسوس کرتے تھے،لیکن جب اس کے مقاصد پورے ہو گئے تو انہی مجاہدین کو دہشت گرد ثابت کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔

عالمِ اسلام سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو اینٹی اسلام پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لئے خود کو جدید ترین میڈیا ٹیکنیکس سے باخبر رکھنا ضروری ہے،متعصب اور مغربی میڈیا کی یلغار کے مقابلے میں اسلام کی روشن تعلیمات کو دلیل و برہان کے ساتھ پیش کرنا ضروری ہے اور دُنیا میں جو ادارے اِس مقصد کے لئے مفید کام کر رہے ہیں اُن کے ساتھ روابط بڑھانے اور اس مقصد کے لئے مسلمان حکومتوں کو ایسے ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے جو یہ استطاعت اور استعداد رکھتے ہوں کہ اسلامی تعلیمات کا صحیح رُخ دُنیا کے سامنے رکھ سکیں، حکومتوں کے آل�ۂ کار اور ملوکیتوں کے ثناخواں یہ کام نہیں کر سکتے، اس کے لئے اپنے نقط�ۂ نظر میں وسعت لا کر ادارے بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ