آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ستائیسویں تراویح

سورۃ الاخلاص: 112ویں سورت

مکی سورت ہے جس کی چار آیات ہیں۔ اخلاص اس کا نام ہی نہیں، اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے۔ ’’اخلاص‘‘ کا لفظ سورت میں نہیں، مگر مطلب یہ ہے کہ جو اس کی تعلیم اپنا لے اور شرک سے بچ جائے وہ جہنم سے خلاصی پائے گا۔ یہ ’’قل ھو اللہ‘‘ کے نام سے بھی معروف ہے۔

عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں، قریش نے کہا اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے، اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ (ایک روایت میں ہے کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے یہ سوال کیا تھا۔) صحابہ کرامؓ کثرت سے اس کی تلاوت فرماتے تھے۔

ایک حدیث میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا، ’’سورۂ اخلاص کی تلاوت سے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے‘‘۔ (گویا دس پاروں کے برابر) مفسرین نے قرآن پاک کو تین حصوں میں یوں تقسیم کیا ہے کہ (1)توحید (2) احکامات (3) واقعات یا قصص۔

سورۂ اخلاص میں توحید کی جامعیت کو بیان کر دیا گیا ہے۔

سورت کا ترجمہ یہ ہے۔ ’’آپؐ فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ وہ ایک ہی ہے۔ اللہ بے نیاز ہے یعنی صمد ہے (صمد اس کو کہتے ہیں جو نہ کچھ کھائے، نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہو اور نہ اس سے کوئی پیدا ہو صمد کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جس کی مرضی اور منشا کے بغیر کچھ بھی نہ ہو سکے اور جس کو کسی کام کے لئے کسی کی اعانت کی قطعاً ضرورت ہو۔) (پھر وضاحت ہے کہ) نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کا ہم پلہ ہے‘‘۔

معوذ تین۔ یعنی سورۃ الفلق:

سورۃ الناس :113ویں اور 114ویں سورت

پہلی سورت کی پانچ آیات ہیں اور دوسری کی چھ آیات ہیں۔ یہ دونوں سورتیں قرآن پاک میں الگ الگ اور الگ الگ ناموں کے ساتھ ہی ہیں۔ مگر ان کا باہمی تعلق اور معنویت ایسی ہے کہ ان کا ایک مشترکہ نام ’’معوذ تین‘‘ ہے (پہلی کا نام )آیت کے لفظ ’’الفلق‘‘ کو اور دوسری کا نام الناس ہر آیت کے آخری لفظ کو قرار دیا گیا ہے۔

حدیث پاک میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا، ان جیسی سورتیں اور کوئی نہیں۔ یہ بے مثل ہیں۔ آپ ﷺ ان سورتوں کو کثرت سے پڑھا کرتے تھے بلکہ بطور دم اپنے اوپر پھونکتے بھی تھے۔ یہی معمول صحابہ کرامؓ کا تھا۔ جادو ٹونے اور نظر بد کے لئے یہ سورتیں اکسیر کی حیثیت رکھتی ہیں۔

سورہ الفلق کا ترجمہ یہ ہے۔ ’’آپؐ فرما دیں کہ میں اس اللہ کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے اور اس کی سب مخلوق کے شر سے اور اندھیری ڈالنے والے کے شر سے جب وہ ڈوبے اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکتی ہیں اور حسد والے کے شر سے جب وہ حسد کرے‘‘۔ اور سورت الناس کا ترجمہ یہ ہے۔

’’آپؐ فرما دیں کہ میں اس کی پنا لیتا ہوں جو سب لوگوں کا رب ہے، سب لوگوں کا بادشاہ ہے۔ سب لوگوں کا خدا ہے، اس شیطان کے شر سے جو دل میں برے خطرے ڈالے اور دبک رہے۔

وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں خواہ وہ جن ہوں یا انسان۔‘‘ (سورت الناس کے بعد تراویح میں پھر قرآن پاک کے شروع یعنی سورہ بقرہ کے ابتدائی رکوع تلاوت کئے جاتے ہیں، یہ اشارہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید بار بار پڑھی جانے والی مقدس کتاب ہے۔)

دعا: الحمد للہ! آج قرآن پاک کاتفسیری کا خلاصہ مکمل ہوا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری نیک خواہشات کو پورا کر دیں۔ اور ہماری دنیا و آخرت کو بہترین کریں۔

اللہ تعالی! ہمارے والدین کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ہمارے تمام عزیز و اقارب کی دنیا و آخرت میں کامیاب کریں۔ ہمارے دوست و احباب کو صحت و عافیت اور ہدایت عطا فرمائیں۔

اللہ تعالی:۔ اس ملک کی حفاظت فرمائیں۔ اس کے رہنے والوں کی حفاظت فرمائیں۔ اس کو دن دگنی، رات چوگنی ترقی عطا فرمائیں۔

اللہ تعالی: ۔دنیا بھر کے مسلمانوں کی تائید و نصرت فرمائیں۔ اسلام کا علم بلند فرمائیں۔

اللہ تعالی:۔ ہمارے اس ادارے کو استحکام اور ترقی سے نوازیں۔ اس کے مالکان و کارکنان کی زندگیاں رحمت و برکات سے معمور کر دیں۔

اللہ تعالی:۔ ہمیں زندگی دے تو سعادت کی، توفیق دے ہدایت کی اور موت جب بھی آئے شہادت کی۔(آمین ثم آمین)*

مزید : رائے /کالم