مذہبی رواداری، غیرملکی سرمایہ اور نامعلوم افراد

مذہبی رواداری، غیرملکی سرمایہ اور نامعلوم افراد
مذہبی رواداری، غیرملکی سرمایہ اور نامعلوم افراد

  

بی بی سی اُردو 4 جون کی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کے صحرائے تھر میں واقع درگاہ قاسم شاہ کے مجاور ایک ہندو موہن ملہی صاحب ہیں۔ مٹھی شہر کے وسط میں واقع اس درگاہ کے موہن صاحب ہر سال رمضان میں نہ صرف خودروزے رکھتے ہیں، بلکہ ان کے ہندو کارکنان مقامی مسلمان آبادی کے لئے افطاری کا بندوبست کرتے ہیں۔

موہن نو سال کی عمر سے روزے رکھ رہے ہیں۔ رمضان میں یہاں کے لوگ کسی مذہبی رُو رعایت کے بغیر اپنی طرف سے افطاری کے لئے اشیاء بھیجتے ہیں۔

رپورٹر مزید لکھتا ہے کہ اس شہر میں درگاہ قاسم شاہ کے علاوہ لگ بھگ ایک درجن دیگر درگاہیں ہیں جو مسلمانوں کی ہیں، لیکن ان سب کے منتظمین ہندو ہیں۔ ان درگاہوں میں ہر سال بکرے ذبح کر کے زائرین کو کھلائے جاتے ہیں۔ گائے کی قربانی یا گوشت مٹھی میں نہیں ہوتے۔

پنجاب میں کئی مقامات ایسے ہیں جہاں مساجد میں شیعہ سُنی اکٹھے نماز ادا کرتے ہیں۔

ان کے عقائد ان کی عبادت میں کوئی رخنہ اندازی نہیں کرتے۔ ایک دفعہ مَیں نے کسی محفل میں اپنے ساتھ بیٹھے اپنے ساتھی جناب شیرنوروزصاحب سے ، جو چترال کے رہنے والے ہیں، سوال کیا کہ وہاں مذہبی رواداری کی صورتِ حال کیا ہے۔

انہوں نے تعجب کا اظہار کیا اور بتایا کہ یہ اصطلاحات ادھر کے بڑے شہروں میں پائی جاتی ہیں۔ اُن کے علاقے میں بس رواداری ہے جسے کسی سابقے لاحقے میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ میری تسلی نہ ہوئی،چونکہ ہم ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں اِس لئے مَیں نے اپنی طرف سے ذرا چبھتا ہوا سوال کیا: ’’لیکن جناب مَیں نے سنا ہے وہاں آغا خانی بہت ہیں، جو اخباری اطلاعات کے مطابق مقامی آبادی سے ذرا الگ تھلگ ہیں‘‘۔ ان کے جواب نے مجھے متحیر کر کے رکھ دیا: ’’ڈاکٹر صاحب میری والدہ بھی اسمٰعیلی، یعنی آغا خانی ہیں۔

میرے کتنے ہی عزیز یہی شناخت رکھتے ہیں، لیکن مذہبی اعتبار سے، جو رسوم میں یہاں ادا کرتا ہوں وہاں کے سب لوگ اسی طرح ادا کرتے ہیں۔ اتنا کہہ کر وہ قدرے افسردہ ہو گئے۔

میں منتظر رہا کہ خود ہی سلسلہ کلام جاری کریں گے۔ ذرا توقف کے بعد بولے: ’’لیکن افسوس یہ ہے کہ اب ادھر سے وہاں جانے والے کچھ لوگ اس قسم کے خیالات سے لیس ہیں اور اب وہاں مقامی آبادی میں تفریق دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اللہ خیر کرے ‘‘۔

مَیں خود اپنے شہر سے نکل کر قرب و جوار کے کسی گاؤں میں جب کہیں نماز جنازہ پڑھنے جاتا ہوں تو اس میں کبھی شیعہ سنی کی تفریق نہیں دیکھی، حالانکہ شہری حلقوں میں اہلِ تشیع میں کسی کی نماز جنازہ مشترکہ طور پر ادا کرنے کے بعد دیکھا گیا ہے کہ اہلِ تشیع الگ سے بھی نماز ادا کرتے پائے گئے، لیکن دین فطرت ۔۔۔اسلام۔۔۔ کے مقاصد کی نگہبانی ہر جگہ یا بندہ صحرائی کرتا پایا جائے گا یا ان کی حفاظت مرد کوہستانی کرتے ہیں: بلاتفریق مذہب و مسلک!

مَیں ہر ہفتے جی روڈ پر اسلام آباد سے آگے لاہور کی طرف کوئی سوا دو سو کلومیٹر سفر کرتا ہوں۔ کوئی ڈیڑھ دو سال قبل میرے مشاہدے میں آیا کہ اس دو رویہ سڑک کے درمیان خلا میں ہر چار چھ کلو میٹر بعد لبیک یا رسول کے بورڈ لگنا شروع ہو گئے۔

یہ مشق گو جرخان سے شروع ہو کر وزیرآباد تک تو نظر آتی ہے آگے کا زیادہ پتہ نہیں۔ کان تو کھڑے ہوئے، لیکن کیا کِیا جا سکتا ہے۔ تاوقتیکہ اکتوبر 2017ء میں فیض آباد راولپنڈی میں دھرنا دے کر دونوں شہروں کو تین چار ہفتوں تک مفلوج رکھا گیا۔

اور یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لبیک کہہ کر کیا گیا۔ کروڑوں کی املاک تباہ ہوئیں، اربوں کی معیشت برباد ہوئی، کچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے (ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ القرآن) اور یہ کام میرے علم کی حد تک کچھ نامعلوم افراد کی دو اڑھائی سال کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔

بی بی سی کی مذکورہ بالا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مٹھی شہر میں ہندومسلم اتحاد اور یگانگت کو مقامی آبادی کے بقول برباد کرنے کے لئے مذہبی و جہادی تنظیمیں میدان میں آئیں (یا لائی گئیں) جنہوں نے یہ نقطۂ نظر اپنایا کہ اس شہر میں بقر عید پر گائے کی قربانی کیوں نہیں کی جاتی اور شہر میں گائے کا گوشت کیوں فروخت نہیں ہوتا۔

جہادی نتظیموں نے اپنے جہاد کا آغاز ہی گائے کی قربانی سے کرنے کی کوشش کر کے کیا، لیکن تمام مقامی آبادی نے مل کر اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ معلوم نہیں مٹھی شہر میں جہاد کا یہ کون سا موقع تھا۔ میں جہاد کے بارے میں یہاں تک عرض کروں گا کہ ذاتی طور پر میں عام لوگوں سے کہیں بڑھ کر جہادی ہوں۔ اسلام کے حِسی وجود میں عروق کے اندر اگر کوئی چیز رواں ہے تو وہ جہاد ہی ہے۔

اسے نکال دیں تو لاغر و مفلوج بدن اپنے پورے اعضا کے ساتھ نظر تو آتا رہے گا لیکن ایک حیوانی وجود ہی کہلا سکے گا۔ اب ذرا غور کریں کہ جو لوگ سنِ شعور سے روزے رکھ رہے ہیں یا روزہ داروں کی خدمت کر رہے ہیں وہ بیس فی صد تو مسلمان ہو چکے ہیں۔

کیا ایسا ممکن نہیں ہے کہ قرآنی حکم(اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور دلنشیں بات کے ذریعے لوگوں کو بلاؤ۔ القرآن) پر عمل کرتے ہوئے ایک آدھ نسل تک ان پر محنت کر کے انہیں پچاس ساٹھ فیصد تک مزید مسلمان بنا لیا جائے۔ یقین کریں اس کے بعد وہ اتنے ہی مسلمان ہوں گے جتنے دیگر میرے، آپ جیسے پیدائشی مسلمان ہیں۔ کیا یہ کام دعوت و تبلیغ کے ساتھ نہیں ہو سکتا؟ اب ذرا گائے کی قربانی طرف آئیں۔ انیس نے کہا تھا:

خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہر دَم

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

پھل خریدیں، کھائیں لیکن چھلکے گھر کے باہر نہ رکھیں کہ پڑوسی بچوں کے والد ممکن ہے پھل خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں (فرمان نبوی): انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو۔ اپنے بچوں کو پیار کون سا باپ نہیں کرتا۔

بتائیے ہے کوئی مذہب، کوئی نظام، کوئی تہذیب، کوئی ازم جو باپ کو روکے کہ اپنے بچوں کو پیار نہ کرو؟ جی ہاں! اللہ کے نبی ؐ نے منع فرمایا ہے! فرمایا یتیم بچے کے سامنے اپنے بچوں کو بھی پیار نہ کرو: انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو۔ اللہ کے اسی نبی نے فرمایا: کھانا کھاتے وقت کھانا پسند نہ آئے تو ہاتھ کھینچ لو۔ کھانے پر تبصرہ نہ کرو: انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو۔

ارے صاحب گائے کی قربانی کرنا ہے تو اس کے لئے مٹھی شہر کے ان نازک آبگینوں ہی کو ٹھیس لگانا ہے؟ چلئے یہ بھی کر گزریے۔ میرے پاس قلم کے سوا کون سی طاقت ہے کہ اسے استعمال کرتے ہوئے آپ کو باز رکھ سکوں، لیکن میدان محشر میں کیا آپ کا جہادی جو اب خالق کائنات کو مطمئن کرے گا۔

ذرا سوچ لیں شاید آپ کا نقطۂ نظر بدل جائے اور ہاں آگے حوضِ کوثر پر کھڑے محرم راز خالق کائنات کو مطمئن کرنا ناممکن ہو گا صاحب جس کے مذکورہ بالا تینوں احکام کی تعبیر و تشریح میرانیس نے اپنے ایک مصرعے کی شکل میں کر دی ہے: انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو!

مَیں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ملک کے اس متوازن نظام اس ایکو سسٹم کو برباد کرنے والے اس کے عوام نہیں ہیں نہ سیاسی جماعتیں بلکہ غیرملکی عرب و عجم کا سرمایہ اور کچھ نامعلوم لوگ ہیں۔

اس سرمایے کو لینے کے لئے مخصوص لوگوں کی زبانیں منہ سے باہر نکل آتی ہیں۔وہ لپک کر اسے حاصل کرتے ہیں اور اپنے غیرملکی آقاؤں اور نامعلوم ملکی افراد کا حقِ نمک ادا کرتے ہیں۔عرب عجم کے اس غیرملکی سرمایے سے صرف سے مخصوص لوگوں کو کھانے کو نہیں مل رہا۔ خنزیرخوروں کے دسترخوان کی تلچھٹ، چھچوڑی ہڈیاں اور صیدزغن سمیٹنے والے بدون لحیہ و حجاب و حیا خواتین و حضرات بھی دیگر لوگوں سے آگے آگے ہیں،بلکہ یہ تو سب سے آگے ہیں۔

سیاسی جماعتوں سے گزارش ہے کہ غیر ملکی سرمائے اور نامعلوم ملکی افراد کی ان غیرنصابی سرگرمیوں کو اپنے منشور کا حصہ بنائیں تاکہ اس ملک میں مٹھی کا ساچین اور ملک کے دیگر متوازن اور فطرت پر قائم علاقوں کا سا امن لوٹ آئے۔ ملکی ایکوسسٹم بحال ہو اورملکی آسمان پر اوزون کی ادھڑی ہوئی پٹی کی مرمت ہو جائے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین۔

مزید : رائے /کالم