عراق کے انتخابات۔۔۔ ایران پر اثرات

عراق کے انتخابات۔۔۔ ایران پر اثرات
عراق کے انتخابات۔۔۔ ایران پر اثرات

  

12 مئی کے انتخابات کے نتیجے میں ایران ایک بار پھر اس پوزیشن میں ہے کہ وزیراعظم کے انتخابات اور انتظامیہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن بہت سے سوال بھی ہیں۔امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں کس حد تک ایران کو کمزور کر سکتی ہیں۔

یورپی یونین کی طرف سے یہ عندیہ جانا کہ وہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی منسوخی کے حق میں نہیں کس حد تک ایران کے لئے فائدہ مند ہو گا۔ بھارت کی طرف سے یہ اعلان کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندی تو تسلیم کرے گا،لیکن کسی ایک ملک کا فیصلہ نہیں، چین اور روس ایران کے لئے کس حد تک جا سکتے ہیں۔

ان انتخابات میں تو ظاہر ہو گیا کہ نسلی، فرقہ ورانہ اختلافات ایک حد تک انتخابات پر اثر انداز ہوئے،لیکن ترجیح ایشوز ہی رہے۔ یہ جمہوری رویہ قابل تعریف ہے کہ ایک لمبا عرصہ آمرانہ حکومت اور اس کے بعد وسیع پیمانے پر امریکی مداخلت کے خلاف مسلح جدوجہد، نسلی اور فرقہ ورانہ اختلاف کی بنیاد پر خانہ جنگی کے بعد جس میں سنی، شیعہ، کُرد اور دیگر فرقے اور قبائل ایک دوسرے کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ پندرہ سال کے اندر یہ احساس ہو جانا کہ Enough is Enough عراق کے بہتر مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ انتخابات سے قبل چار مئی کو عراق کے سب سے طاقتور شیعہ رہنما آیت اللہ علی السیستانی کا پیغام بہت اہم تھا کہ سیاسی تبدیلی صرف انتخابات کے ذریعہ ہی آئے گی۔

یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ گروپ نے لبنان میں2009ء اور عراق میں 2010ء میں منتخب حکومتوں کو Force out کیا تھا اب ایسے نہیں ہو گا اور یہ ایران کے لئے سرخ جھنڈی تھی کہ اپنے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے ذریعے کوئی ایسی کوشش نہ کی جائے۔

آیت اللہ سیستانی نے ’’غیر ملکی مداخلت‘‘ کا ذکر بھی کیا تھا اور کچھ تنظیموں کے نام لے کر کہا تھا کہ یہ غیر ملکی فنڈز لے کر انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں یہ بھی ایک واضح نشاندہی تھی اور انگلی ایران کی طرف تھی۔

انہوں نے ووٹ کا استعمال ایک ’’حق‘‘ قرار دیا، نہ کہ یک فرض یہ بھی جواب تھا ایرانی حمایت یافتہ علماء کی اِس بات کا کہ ووٹ کا استعمال ایک مذہبی ذمہ داری ہے۔

امریکہ بھی ان انتخابات کو بغور مانیٹر کر رہا تھا جس میں مقتدیٰ الصدر کی سربراہی میں اتحاد نے اکثریت حاصل کی ہے۔ امریکہ کے نزدیک مقتدیٰ الصدر ایرانی حمایت یافتہ اور 2003ء میں جب امریکہ نے عراق میں مداخلت(چڑھائی) کی تھی، تب سے امریکہ کا بدترین مخالف رہا ہے۔ اس وقت اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے لگائی گئی ذمہ داری ہے جسے ہر قیمت پر نبھانا ہے،لیکن کچھ عرصہ پہلے اس نے اپنا عسکری گروپ توڑ دیا تھا اور اپنی مذہبی تعلیم مکمل کرنے کے لئے گوشۂ نشین رہا، لیکن اس عرصے میں بھی اسے حمایت اور احترام حاصل رہا۔ حکومتوں میں بھی اس کے نامزد کردہ وزراء رہے لیکن ان کے خلاف کرپشن کے الزامات بھی منظر عام پر آتے رہے ہیں۔

اب اس کی سربراہی میں بننے والے اتحاد میں اُس کی اپنی جماعت کے ساتھ کمیونسٹ اور آزاد خیال طبقہ بھی شامل ہے،اِس لئے ان کے آئندہ لائحہ عمل اور حکمتِ عملی کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔

تجزیہ کار نئی جماعت الدعوہ پر بھی نظر رکھے ہیں جس میں قیادت پر اتفاق رائے نہیں ہے، کیونکہ اس میں تین سابق وزرائے اعظم شامل ہیں۔حیدر العابدی، نور المالکی، ابراہیم الجعفری گزشتہ دس سے بارہ سال حکومت ان کے پاس رہی یہ بھی ایران کے حمایت یافتہ سمجھے جاتے ہیں یا کم از کم زیر اثر ضرور رہے ہیں۔

اب بھی اختلافات ہوں گے، مختلف دھڑے بن جائیں گے۔ ایک دوسرے پر لفظوں کو گولہ باری ہو گی،لیکن جھکاؤ سب کا ایران کی طرف رہے گا۔

ایران کی کوشش بھی یہی رہے گی کہ اصل طاقت سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے پاس ہی رہے،کیونکہ ان اداروں میں گزشتہ ایک لمبے عرصے سے ایران کا اثرو رسوخ رہا ہے اس لئے ان سے قریبی رابطہ رکھنا آسان ہو گا۔

یہ سب لکھنے کے بعد خیال غالب یہی ہے کہ امریکہ کی طرف سے عائد پابندیاں، یورپین یونین کا طرزِ عمل، چین اور روس کا ردعمل ایسے عوامل ہیں جو ایران پر اثر انداز ہوں گے،لیکن ردعمل کے طور پر ایران، شام اور عراق میں اپنی سرگرمیوں کو تیز بھی کر سکتا ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے حالیہ دورہ جرمنی کے بعد اعلامیہ میں جرمنی کی طرف سے یہ کہا جانا کہ ایران کا خطے میں کردار قابلِ اعتراض ہے، جس سے خطے میں امن اور استحکام کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔

بین الاقوامی ڈپلومیسی میں بڑھکیں تو ماری جاتی ہیں،لیکن ایران کی طرف سے اہم ممالک سے اعلیٰ سطح پر رابطے کی کوششیں اس بات کا اظہار ہے کہ ایران کو خدشہ ہے کہ شاید امریکہ کے مقابلے میں اس کے آج کے اتحادی کل شاید ساتھ نہ دے سکیں۔

مزید : رائے /کالم