عام انتخابات، انتظامات،خدشات ساتھ ساتھ!

عام انتخابات، انتظامات،خدشات ساتھ ساتھ!
عام انتخابات، انتظامات،خدشات ساتھ ساتھ!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وفاق میں عبوری کابینہ کی تشکیل کے علاوہ چاروں صوبوں میں نگراں وزرائے اعلیٰ کا تقرر ہو چکا ہے، سندھ میں تو کابینہ بھی بنا لی گئی، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تھوڑی تاخیر سے نامزدگی ہوئی۔ یوں کابینہ بھی ایک آدھ روز میں بنیں گی۔

اب تک جو ہوا اور الیکشن کمیشن نے جو بھی تیاریاں کیں، نگران حکومتوں نے جس عزم کا اظہار کیا اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں جو طے ہوا، اس کے مطابق سب25جولائی کو پُرامن انتخابات کے لئے پُرعزم ہیں، سیاسی جماعتیں بھی تیاریوں میں مصروف یا تیار ہو چکیں،سب انتخابات وقت پر ہی چاہتے ہیں،ان سب شہادتوں کے باوجود بھی بعض عناصر مایوسی پھیلانے کی کوشش کرتے اور انتخابات میں تاخیر کی بات کرتے ہیں اور تو اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سابق لیڈر آف اپوزیشن سید خورشید شاہ نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابات شاید وقت پر نہ ہوں، ان کے اس شبے کو یوں بھی تقویت ملتی ہے کہ بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ علاؤ الدین مری نے حلف اٹھاتے ہی بلوچستان اسمبلی کی اس قرارداد کی تائید کر دی اور ایک دو ماہ کے لئے انتخابات آگے لے جانے کو کوئی حرج نہیں، کہہ کر چونکا دیا ہے، کہ یہاں حکومت کی تبدیلی کے بارے میں پہلے ہی الزامات کی بھرمار تھی۔ یوں ایک گوشہ یہ بھی ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم اس سلسلے کو امن وا مان کے حوالے سے دیکھ اور سمجھ رہے ہیں۔ ہماری خواہش اور درخواست ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کریں، خصوصاً وہ جماعتیں جو ابھی سے فتح کے نشے سے سرشار ہیں یا پھر دعوے کر رہی ہیں وہ انتظامیہ سے تعاون کریں، اپنے حامیوں اور کارکنوں کو سنبھال کر رکھیں تاکہ ایسا کوئی مسئلہ نہ ہو، اس سلسلے میں الزام تراشی، بے ہودہ گوئی اور گالی گلوچ کی بجائے ہر جماعت کو اپنے پروگرام پر بات کرنا چاہئے اور بلند اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا تاکہ کوئی تنازعہ پیدا نہ ہو، ہمارا خدشہ یہ ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو حالات خراب کئے جا سکتے ہیں جو نگران حکومتوں کی طوالت کا باعث بن جائیں، ابھی دو روز قبل گگو منڈی میں الیکشن کیمپ لگانے پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کے پُرجوش کارناموں کے درمیان تصادم ہو گیا تھا، فریقین نے ایک دوسرے کے کیمپ اکھاڑ دیئے، اسی طرح ایک جھگڑا ایک الیکشن آفس میں ہوا، جہاں بے دریغ گالم گلوچ، گھونسا بازی اور لٹھ برداری بھی ہوئی۔ یوں یہ ایک الارم ہے، اسے آگے نہیں بڑھنا چاہئے، ’’گربہ کشتن روز اول‘‘ کے مصداق ابھی سے اس کو روکنے کے انتظامات کرنا چاہئیں اور یہ خود سیاسی جماعتوں کا بھی فرض ہے اور انتظامیہ کو اسی حوالے سے چوکس ہونا چاہئے۔

ہمارے خیال میں ہماری حساس ایجنسیوں کو پولیس سے تعاون کرنا ہو گا، تاکہ قبل از وقت کسی بھی نوعیت کی سازش کا مکمل بندوبست کیا جا سکے، پھر یاد دِلائیں کہ خود سیاسی جماعتوں کا کردار بہت اہم ہے کہ جھگڑے انہی کے کارکنوں کے درمیان ہوتے اور بڑھتے ہیں کہ تنازعہ ہو جائے تو پارٹی قیادت اپنے اپنے کارکنوں کی حمایت کرتی ہے، اِس لئے ابھی سے سب انتظام ہونا چاہئے،ہمارے خیال میں الیکشن کمیشن پر بہت بھاری بوجھ آ گیا، اسے اپنی ذمہ داری ادا کرنا چاہئے اور عبوری حکومت کے تعاون سے انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کا نمائندہ اجلاس بلا کر امن و امان کے حوالے سے بات کرنا اور ضابطہ اخلاق طے کرنا چاہئے۔

ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ بعض ملک دشمن عناصر بلوچستان اور حال ہی میں خیبرپختونخوا کا حصہ بننے والے قبائلی علاقے میں سرگرم ہیں اور ان سے منسلک پاکستانی نوجوان بھی دانستہ یا نادانستہ ان سازشوں کا حصہ بن گئے ہیں اور بہت سرگرم انتخابی مہم کے دوران دہشت گردی کی وارداتیں ہو سکتی ہیں اور اہم مقامات کو نشانہ بھی بنایا جا سکتا ہے، حساس اداروں ہی کے تعاون سے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ایسے عناصر پر کڑی نگاہ رکھتے ہوئے بروقت ان کی سرگرمیوں پر قابو پا لیا جائے، سیاسی جماعتوں کو بھی احتیاط کرنا ہو گی۔ یہ نہیں کہ محمود اچکزئی کی طرح سوچ سمجھ کر منظور پشتبن کی حمایت کر دی جائے اور لسانی بنیادوں پر حالات خراب کرنے کی کوشش کی جائے،انہوں نے تو دُنیا بھر کے پشتونوں کو آواز دے دی ہے،حالانکہ مسلم لیگ (ن) کے اتحادی ہیں، انتخابات میں بھی حصہ لے رہے ہیں، ان کے بیان پر ان کے ساتھ بات ہونا چاہئے، کم از کم مسلم لیگ(ن) کی قیادت تو ان سے وضاحت طلب کرے۔

اِسی صورتِ حال میں تحریک انصاف نے اپنے قومی اور صوبائی حلقوں کے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ نظریات کا نعرہ لگانے اور تبدیلی لانے والے عمران خان کے ٹکٹ ہولڈروں کی جو تفصیل سامنے آئی ان کی اکثریت ’’الیکٹ ایبل‘‘ فارمولے کے تحت چنی گئی اور یہ سب کے سب پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ(ن) سے ’’بھیجے‘‘ گئے ہیں اور سب کے سب ’’سٹیٹس کو‘‘ کے حامی ہیں، لہٰذا تبدیلی کے اعلان پر تو سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

دوسری طرف پیپلزپارٹی نے سندھ کی حد تک حالات کو کنٹرول کر کے فیصلے کر لئے ہیں اور مخدوم جمیل الزماں پر اب بھی کام جاری ہے، تاہم جنوبی پنجاب میں پارٹی کو دھچکا لگا کہ آصف علی زرداری سب پر بھاری چل کر علامہ حامد سعید کاظمی کے پاس آئے،لیکن ان کو پارٹی ٹکٹ پر پارٹی فیصلے کے مطابق الیکشن لڑنے پر آمادہ نہ کر سکے کہ حامد سعید کاظمی نے مخدوم شاہ محمود قریشی والے حلقے سے انتخاب لڑنے کی بجائے اپنے ارادات مند حلقے سے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا، ان کا شکوہ ہے کہ ان کو اہمیت نہ دی گئی اور جنوبی پنجاب میں غلط لوگ لائے گئے ہیں، مذاکرات کے ’’بادشاہ‘‘ آصف علی زرداری کو ناکامی ہوئی اور وہ مایوس لوٹے، احساس ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی میں سب اچھا نہیں، جو لوگ چھوڑ کر جا چکے وہ تو اپنی جگہ،لیکن اب بھی جو بچے ہیں ان میں اختلاف شدید ہو گیا، بعض اہم رہنماؤں نے چودھری اعتزاز احسن اور نوید چودھری سمیت انتخابات میں حصہ لینے ہی سے معذرت کر لی ہے، اورنگزیب برکی، جاوید احمد اور متعدد دیرینہ رہنما سنٹرل پنجاب کی قیادت سے نالاں ہیں اور انہوں نے بلاول بھٹو سے باقاعدہ اپیل کی کہ خود آ کر حالات کا جائزہ لیں اور ٹکٹوں کی تقسیم میں بدعنوانی کا خاتمہ کریں،ورنہ اس بار بھی پنجاب سے کچھ نہیں ملے گا، کیا پیپلزپارٹی کو ایک حد تک محدود کرنا بھی مہم جوئی کا حصہ ہے؟ یہ اہم سوال ہے۔

مزید : رائے /کالم