آصف علی زرداری، ہلکے یا بھاری؟

آصف علی زرداری، ہلکے یا بھاری؟
آصف علی زرداری، ہلکے یا بھاری؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لگتا ہے یہ کلیہ بھی اب دم توڑ گیا ہے کہ ایک زرداری سب پر بھاری۔ آج کل تو وہ خاصے ہلکے پھلکے نظر آ ہے ہیں، سوائے سندھ کے مُلک بھر میں اُن پر ٹکٹوں کی تقسیم کا کوئی بوجھ نہیں، کہیں یہ بات بھی نہیں ہو رہی کہ مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی سے پیپلز پارٹی کا مقابلہ ہو گا۔ ابھی کل ہی کراچی میں مولا بخش چانڈیو کی موجودگی میں خواتین و حضرات نے احتجاج کیا اور’’گو زرداری گو‘‘ کے ایسے فلک شگاف نعرے لگائے کہ چانڈیو صاحب کو پریس بریفنگ ختم کر کے جانا پڑا۔

اُسے دیکھتے ہوئے تو یہ بھی لگتا ہے کہ کراچی میں بھی پیپلزپارٹی کی درگت بننے جا رہی ہے۔ بھلا ہو سید یوسف رضا گیلانی کا جنہوں نے اپنے تین بیٹوں سمیت چار ٹکٹ لے کر پیپلزپارٹی کی لاج رکھ لی ہے۔

پی ٹی آئی کو ساڑھے چار ہزار درخواستیں ملتی ہیں تو پیپلزپارٹی کو شاید چار سو بھی نہ ملی ہوں۔ ڈسپلن کا یہ حال ہو گیا ہے کہ جو پارٹی آصف علی زرداری کی چشم و ابرو کی محتاج ہوتی تھی،آج سندھ میں بھی ٹکٹوں کے مسئلے پر اُن کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں اور کئی رہنماؤں نے احتجاجاً ٹکٹیں لینے سے انکار کر دیا ہے، حتیٰ کہ قائم علی شاہ جیسے مرنجاں مرنج شخص نے بھی، جو آصف علی زرداری کے سامنے آنکھ نہیں اٹھاتے تھے،اب اپنی بیٹی کو ٹکٹ نہ دینے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اگر کوئی یہ مثال ڈھونڈ رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں زوال کا شکار کیسے ہوتی ہیں تو وہ آج پیپلز پارٹی کو دیکھ لے۔ کہاں وہ دور کہ جب بے نظیر بھٹو کے زمانے میں پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے اور کہاں یہ زمانہ کہ دور دور تک کوئی امیدوار نظر نہیں آتا۔

پنجاب میں پیپلزپارٹی کس بری طرح سے زوال کا شکار ہوئی ہے، اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔

آپ پورے سیاسی منظر نامے پر نگاہ ڈالیں، بڑی مشکل سے کسی حلقے میں آپ کو ایسا کوئی امیدوار نظر آئے گا، جو پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑنا چاہتا ہو اور اُس کے جیتنے کی کوئی امید بھی موجود ہو۔ ہر طرف ایک ہی لہر چلی نظر آتی ہے کہ مقابلہ مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ہو گا۔ گزرے ہوئے مہینوں میں پیپلزپارٹی ضمنی انتخابات کے نتائج دیکھ چکی ہے،جب اس کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوتی رہیں۔ ایسے میں جب آصف علی زرداری یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اس بار وفاق کے ساتھ ساتھ صوبے میں بھی ان کی حکومت بنے گی تو گمان یہی گزرتا تھا کہ وہ الٰہ دین کا چراغ رکھتے ہیں یا پھر ایسے داؤ پیج آزمائیں گے کہ کایا ہی پلٹ جائے گی، مگر آج کا سیاسی منظر نامہ بتاتا ہے کہ وہ ایسا کوئی کرشمہ نہیں دکھا سکے۔اس منظر نامے میں کوئی ایسی لہر موجود نہیں،جو اِس امکان کو جنم دے سکے کہ2018ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی ایک بڑی سیاسی قوت بن کر اُبھرے گی۔

مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ پنجاب میں شاید ہی اِس بار پیپلز پارٹی دو چار نشستیں جیت سکے۔بطور سیاسی جماعت پیپلزپارٹی عوام کی نظر میں کشش کھو چکی ہے، اس کا اندازہ آج کی سیاسی صورتِ حال سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے،اصل میں، جس تیزی سے ہمارا سیاسی منظر نامہ بدلا ہے اور پھر جس طرح سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے عوام کے شعور میں تیزی سے اضافہ کیا ہے،اس کی وجہ سے اب حالات بہت بدل گئے ہیں، لیکن آصف علی زرداری ابھی تک اسی خمار میں مبتلا ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ ایک اشارے پر زیر کو زبر کر دیں گے۔ وہ اپنی سیاسی جادو کی چھڑی پر انحصار کر رہے ہیں، حالانکہ یہ جادو کی چھڑی اب ازکار رفتہ ہو چکی ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ ایک پارٹی ٹکٹ تبدیل کروانے کے لئے وہ خصوصی جہاز سے ملتان آتے ہیں، حامد سعید کاظمی سے ملاقات کرتے ہیں، مگر قائل نہیں کر پاتے۔ ایک زمانہ تھا ان کا فون ہی پانسہ پلٹ دیتا تھا، اب خود چل کر آنا بھی رائیگاں جاتا ہے۔

آصف علی زرداری سندھ کی صورتِ حال سے خود کو علیحدہ نہیں کر سکتے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ پنجاب میں حکومت کرنے کا دعویٰ کریں اور لوگ ان کی سندھ میں کارکردگی کو نہ دیکھیں۔ پچھلے دس برسوں میں سندھ کو جس حال تک پہنچا دیا گیا ہے وہ آج مُلک کے بچے بچے کو معلوم ہے، کیونکہ روزانہ ٹی وی چینلز کے خبرناموں میں اس کی صورتِ حال سامنے آتی رہتی ہے۔ جس پارٹی کو کراچی میں لوگ کوس رہے ہوں،وہ پنجاب میں کیسے قدم جما سکتی ہے،جہاں مسلم لیگ (ن) کے دور میں کم از کم سندھ سے بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔

کراچی کے لوگوں کو لوڈشیڈنگ اور پانی کا عذاب بھگتتے دیکھ کر پنجاب کے عوام کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں،پھر کرپشن کی کہانیاں اس پر مستزاد ہیں۔ ایک ٹینکر مافیا کو ہی سندھ حکومت پانچ برسوں میں کنٹرول نہیں کر سکی، کیونکہ اس کے پیچھے سندھ کے با اثر لوگ موجود ہیں۔اب یہ باتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بھٹو کے نام پر ووٹ مانگنے والوں کو سندھ کے عوام بھی اب ایک بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔ ایک لحاظ سے سندھ کارڈ بھی پیپلزپارٹی کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ اندرون سندھ ایک بڑا اتحاد معرض وجود میں آ چکا ہے، جس کی سربراہی پیر پگاڑو کر رہے ہیں۔ اس میں حال ہی میں فہمیدہ مرزا اور ذوالفقار مرزا کی شمولیت نے پیپلزپارٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

صرف بلاول بھٹو زرداری کے ذریعے اب کچھ نہیں ہونے والا۔ بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی قد کاٹھ میں جان ہوتی تو اسے لاہور سے میدان میں اتارا جاتا، مگر سب جانتے ہیں کہ موجودہ صورتِ حال میں تو بلاول کی ضمانت ضبط ہونے کے امکانات بھی روشن ہیں۔

آصف علی زرداری جب تک سب پر بھاری تھے،وہ بے نظیر بھٹو کے چھوڑے ہوئے ترکے کا زمانہ تھا۔ وہ 2008ء کے انتخابات میں اسی کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔

ایک دوسری تبدیلی یہ آئی کہ پی ٹی آئی بڑی تیزی سے بڑی جماعت بن کر اُبھری۔ 2008ء میں جس کا سیاست میں معمولی کردار تھا، وہ 2013ء کے انتخابات میں پنجاب کی دوسری بڑی سیاسی جماعت بن گئی اور اس نے پیپلز پارٹی کو مائنس کر دیا۔

یہ وہ موقع تھا جب آصف علی زرداری کو پیپلزپارٹی کے لئے بہت کچھ کرنا چاہئے تھا، مثلاً وہ سندھ حکومت کی کارکردگی بہتر بناتے، کراچی کے مسائل کم کرتے، مگر اس کی بجائے کرپشن کی نت نئی کہانیاں منظر عام پر آتی رہیں اور سندھ کے شہر کھنڈر بنتے چلے گئے۔

آصف علی زرداری نے سمجھا کہ لاہور میں ایک بڑا سا بلاول ہاؤس اور ملتان میں قدرے نمایاں بلاول ہاؤس بنا کر وہ لوگوں کو متاثر کر لیں گے۔ وہ بھول گئے کہ سنگ و خشت سے نئے جہاں پیدا نہیں ہوتے۔ سینیٹ کے انتخابات میں انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ آج بھی وہ سب پر بھاری ہیں۔ وہ یہ کریڈٹ بھی لے گئے کہ بلوچستان میں جو حکومتی تبدیلی آئی تھی وہ اُن کے داؤ پیچ کا نتیجہ تھی،مگر ان سب باتوں سے پیپلزپارٹی کے تنِ مردہ میں جان نہیں پڑ سکی۔

پنجاب میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ق) کی سطح پر آ کھڑی ہوئی ہے، قومی یا صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنا کوئی معمولی بات نہیں، کم از کم ڈیڑھ دو کروڑ روپے تو لازمی خرچ ہو جاتے ہیں، ایسے میں وہ کون ہے جو یقینی ہار کے لئے دو کروڑ روپے ضائع کرے۔

اب یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ آصف علی زرداری نواز شریف سے مل کر عمران خان کا راستہ روکنا چاہتے ہیں اور اِس مقصد کے لئے بیک ڈور رابطے بھی جاری ہیں۔ میرے نزدیک یہ کار بیکار ہو گا۔

اس سے پیپلزپارٹی کو تو شاید کچھ فائدہ پہنچے، تاہم مسلم لیگ(ن) کے لئے یہ خسارے کا سودا ہو گا،کیونکہ اُس کی ساری مہم ہی آصف علی زرداری کے خلاف رہی ہے۔ دونوں کے ملنے سے فائدہ عمران خان کو ملے گا، وہ پہلے ہی یہ کہتے رہے ہیں کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری اندر سے ایک ہیں۔

پیپلزپارٹی کے کچھ رجائیت پسند دوست ابھی بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کوئی کرشمہ ضرور ہو گا، آصف علی زرداری کوئی داؤ پیچ ضرور استعمال کریں گے، جو ساری بساط ہی الٹ دے گا۔

پیپلز پارٹی جوڑ توڑ کے بعد تختِ لاہور پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اب ایسے لوگوں کو بندہ کیا سمجھائے۔ وہ آصف علی زرداری کے فنِ سیاست پر ایمان لائے ہوئے ہیں،یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ آصف علی زرداری مات بھی کھا سکتے ہیں، حالانکہ مات تو سامنے نظر آ رہی ہے اور آصف علی زرداری سیاسی منظر نامے میں سب سے ہلکے ہو چکے ہیں۔

مزید : رائے /کالم