کیا جنرل’’قسمت‘‘ نے منہ پھیر لیا ہے؟

کیا جنرل’’قسمت‘‘ نے منہ پھیر لیا ہے؟
کیا جنرل’’قسمت‘‘ نے منہ پھیر لیا ہے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تبدیلی آرہی ہے یا آچکی ہے یا پاکستان تبدیل ہو رہا ہے وغیرہ والے نعرے جس کسی نے بھی دیئے تھے ان کے پورے ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں۔ تبدل و تغیّر ویسے بھی فطرت کا ایک اٹل اور ازلی قانون ہے۔

کوئی چیز اور کوئی صورتِ حال کسی ایک کیفیت میں ہمیشہ برقرار نہیں رہتی۔۔۔۔ دن نے ڈھلنا ہوتا ہے، جوانی نے بڑھاپے کی طرف بڑھنا ہوتا ہے اور بہار کے بعد خزاں نے آنا ہوتا ہے۔۔۔ ہم آئے روز یہ مناظر دیکھتے ہیں۔۔۔۔ کاروبارِ سیاسیات اس سے کیسے مستثنیٰ رہ سکتا ہے؟

پارلیمنٹ کے منتخب سیاستدانوں نے جاتے جاتے اتفاق رائے سے 31مئی سے پہلے آنے والے پانچ سالہ دور کی جو نئی بنیادیں رکھنے کی کوشش کی تھی وہ نقش برآب ثابت ہوئی۔

اسمبلی کی نشستوں کے لئے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جو فارم بقول چیف جسٹس پاکستان ’’چالاکی‘‘ سے تبدیل کردیا گیا تھا اسے لاہورہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ احد نے بڑے دور رس ویژن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسترد کردیا۔ لیکن اگلے روز سپریم کورٹ نے اس خدشے کے پیشِ نظر کہ انتخابات کی مقررہ تاریخ 25جولائی خدانخواستہ آگے پیچھے نہ ہوجائے، ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو معطل کردیا۔

یہ دیکھ کرسیاسی اقتدار کے حریصوں نے دل ہی دل میں بھنگڑے ڈالے۔ اب بظاہر میدان صاف تھا اور کوئی بھی لُنڈی بوچی کسی بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کی امیدوار بن سکتی تھی۔

لیکن وائے افسوس کہ ان کی یہ خوشی چار روز بھی قائم نہ رہ سکی اور جن بندوں نے پلی پلی جوڑ کر کُپاّ بھرنے کی کوشش کی تھی، رام نے ایک ہی وار کیا اور سارا کُپاّ انڈیل کر رکھ دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے اور سپریم کورٹ کا نامزدگی کی درخواست کے ساتھ بیان حلفی داخل کروانے کا جو مدعاتھا وہ پورا ہوگیا۔ لیکن ایسا ہونے یا کرنے میں جن محرکات نے عامل (Catalyst)کا کردار ادا کیا ان میں میڈیا کا رول پیش پیش تھا۔

اس موضوع پر الیکٹرانک اور پریس میڈیا کے شوروغل اور سنجیدہ گفتاری نے شاید فاضل چیف جسٹس کو یہ اچانک اورفیصلہ کن اقدام اٹھانے کی طرف دعوت دے دی۔ یہ بیان حلفی کے اضافی فارم والا دھماکا ایک بڑی تبدیلی کے پلازے کی گویا پہلی اینٹ تھی۔

عوام الناس نے یہ جان کر سکھ کا سانس لیا کہ ان کی تمنائیں اور سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ گویا ندی کے دو کنارے ہیں جو ساتھ ساتھ اور ایک دوسرے کے متوازی چل رہے ہیں۔

لیکن میں پھر بھی یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کا کریڈٹ اگر کسی ایک Catalyst کو جاتا ہے تو وہ ہمارا میڈیا ہے جس کی بلند فریاد و فغاں نے اپنا اثر دکھایا۔۔۔ جناب چیف جسٹس کو داد دینی چاہئے کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کردی کہ امیدوار اپنی نامزدگی کی درخواست کے ساتھ جو فارم بھرے گا اس کے ہمراہ وہ اضافی حلف نامہ بھی شامل کرے گا۔

اس حلف نامے کے مندرجات ایک پل صراط سے کم نہ تھے۔ اور سونے پر سہاگہ یہ حکم دے کر پھیراگیا کہ اس کی ایک کاپی رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر میں بھی داخل کروائے جائے گی تاکہ سند ہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔۔۔۔ یہ اسی تبدیلی کی شروعات ہیں جس کا ذکر اوپر کرچکا ہوں۔

متاثرہ فریق کفِ افسوس مل رہے ہیں کہ سوچا تھا کیا، کیا ہوگیا۔۔۔ لیکن سانپ نکل گیا ہے اب لیکر پیٹنے کا کیا فائدہ؟۔۔۔ اب اس کے بعد اور کیا کیا ہونے والا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔۔۔ موسلادھار بارش سے پہلے گرج چمک پتہ دیتی ہے کہ گنگھور گھٹائیں امڈ کر آرہی ہیں اور جل تھل ہونے والے ہیں!

28جولائی 2017ء کے سپریم کورٹ کے لینڈ مارک فیصلے کے بعد تبدیلیوں کا عمل بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔۔۔۔یاد کیجئے کچھ ہفتے پہلے فاضل چیف جسٹس نے لاہور، کراچی اور پشاور کے ہسپتالوں کا دورہ کیا تھا، گندے نالے اور ’’روڑیوں‘‘ کے ڈھیر دیکھے تھے اور اس صورت حال پر اپنی ازبس ناراضگی کا اظہار کیاتھا۔

عوام دم بخود تھی کہ کیا پہلے کبھی ایسا ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس از خود نوٹس لینے کی بجائے بہ نفسِ نفیس از خود موقع پر پہنچ کر شفا خانوں کی حالت زار دیکھے اور ان پر تبصرے کرے اور متعلقہ حکام کو سرزنش بھی کرے؟۔۔۔ غضب خدا کا۔۔۔ پہلے کبھی کا ہے کو ایسا ہوا تھا!۔۔۔

یہ تبدیلی بہت حیران کن تھی۔

آخر فاضل چیف جسٹس کے دل میں یہ اقدام اٹھانے کی ضرورت کیوں اور کیسے پیدا ہوئی؟ اس کا علم خدائے علیم و خبیر کی ذات ہی کو ہوگا کہ جس نے میاں ثاقب نثار کے دل و دماغ میں یہ ہلچل مچائی۔

وگرنہ پاکستان میں تو گزشتہ 71برسوں میں ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، اور عوام کو درپیش مسائل کا یہی رونا مسلسل چل رہا تھا۔ میڈیا بھی رودھوکر چپ ہوگیا تھا۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں قتل و غارتگری کے سانحات کی بھرپور اور تفصیلی عکاسی کے بعد بھی کسی کو نہ گرفتار کیا گیا اور نہ بدنصیب لواحقین کی داد رسی کی طرف کوئی توجہ دی گئی۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر میڈیا ایسی دراز دستیوں کا ذکر بار بار ٹی وی سکرینوں پر نہ دکھاتا تو یہ معاملہ شاید ہمیشہ کے لئے دفن ہوجاتا۔ لیکن اب توگویا دیر ہے، اندھیر نہیں والا معاملہ لگتا ہے۔ ہمارا میڈیا تو آج بھی اس سانحے کی گاہے ماہے نمائش کرتا اور عوام کی بیکسی اور مجبوری کا نقشہ کھینچتا رہتا ہے۔

ایک اور بات پر بھی غور کیجئے کہ اگر جنرل مشرف میڈیا کو آزاد نہ کرتے تو صرف PTV پر ماڈل ٹاؤن اور اس دوسرے بے شمار سانحات کی جو Footages دکھائی جاتی ہیں کیا وہ دکھائی جاسکتی تھیں؟۔۔۔ کہتے ہیں کہ مطلق العنان آمر جہاں بہت سی قبیح حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں وہاں کئی محمود حرکات بھی کرجاتے ہیں جو ناقابل فہم اور غیرمتوقع توہوتی ہیں لیکن امر ہو جاتی ہیں! کیا کسی ملٹری آمر سے یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنی اور اپنی کابینہ کی کرتوتوں کو عوام کے سامنے یوں کھول کھول کر دکھانے کے پٹ کھول دے گا؟۔۔۔ جنرل مشرف کو داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے پرائیویٹ میڈیا چینلوں کو نمائش کی اجازت دے کر پاکستان پر ایک احسانِ عظیم کیا۔۔۔۔ وہ 2008ء میں مستعفی ہوگئے تھے لیکن اس آزاد میڈیا نے زندگی کے بے شمار اور اَن گنت پہلو دکھانے اور ان پر مختلف نقطہ ہائے نظر وا کرنے کے فلڈ گیٹ کھول دیئے ۔

ہم نے دیکھا کہ اگر سپریم کورٹ کا کوئی چیف جسٹس پہلی بار عوامی بہبود کے مسائل کو پورے پاکستان (بلکہ ساری دنیا) کے سامنے کھول کر رکھ رہا تھا تو ان کے ساتھ میڈیا کی بہت سی ٹیمیں بھی ہمراہ ہوتی تھیں۔

اپنے روز مرہ معمولات سے ہٹ کر، اور اپنے قیمتی وقت سے بہت سا وقت نکال کر اگر فاضل چیف جسٹس وہ کام کررہا تھا جو عدلیہ کی بجائے انتظامیہ کے کرنے کے تھے تو اتنی بڑی تبدیلی کا یہ معجزہ کیا ہمارے احاطۂ خیال میں آسکتا تھا؟۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ اِدھر اُدھر سے دبی دبی آوازیں ابھریں کہ بہبودِ عامہ کے اداروں کی دیکھ بھال عدلیہ کا نہیں بلکہ انتظامیہ کا دردِ سر ہے۔ لیکن چیف جسٹس نے فرمایا کہ اگر میرے یہ افعال و اعمال جرم ہیں تو میں اس جرم کا ارتکاب کرتارہوں گا!

لیکن آپ یہ بھی تو سوچیں کہ نوبت یہاں تک کیوں اور کیسے پہنچی؟۔۔۔ صاف ستھرے اور معطر کورٹ روم سے باہر نکل کر متعفن تالابوں اور بدبو دار میڈیکل وارڈوں کا نوٹس آخر پاکستان کے چیفب جسٹس کو کیوں لینا پڑا؟۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ سفیدی اگر حد سے بڑھ جائے تو سیاہی بن جاتی ہے، ظلم اگر حد سے بڑھ جائے تو ظالم خود اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے اور بے قاعدگی کی انتہائیں ہونے لگیں تو مروجہ قواعد و ضوابط اور روایات و اقدار اپنی موت آپ مرنے لگتے اور ایک نیا نظام خودبخود تخلیق ہوجاتا ہے! پاکستانیوں نے یہ سارے مناظر اگر دیکھے اور باربار دیکھے اور برداشت بھی کئے تو سوچئے کہ ان کی محرومیوں، مجبوریوں اور معذوریوں کا عمق کیا ہوگا؟

میری طرح آپ بھی یہ ضرب المثل ہمیشہ سے سنتے آئے ہوں گے کہ جج نہیں، ان کے فیصلے بولتے ہیں۔۔۔۔ لیکن پاکستان میںآخر حالات اس نہج پر پہنچ ہی گئے ناں کہ اپنے فیصلوں کے ساتھ خود ججوں کو بھی بولنا پڑا! سپریم کورٹ کے کورٹ روم میں دورانِ سماعت ملزم اور جج کے درمیان جو مکالمے ہوتے رہے ان کو حرف بحرف میڈیا پر رپورٹ کیا جاتا رہا۔ کیا ایساکبھی PTV یا کسی دوسرے سرکاری چینل پر ممکن تھا؟آزاد میڈیا پر یہ سب کچھ سننے والوں کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا کہ کیا اس قسم کی انہونیاں بھی ہوسکتی ہیں؟

ہمارے ایک سابق وزیر اعظم نے اپنے خلاف فیصلے/فیصلوں پر باہر سڑکوں پر آکر جو رد عمل ظاہر کیا، وہ دیدنی اور شنیدنی تو تھا ہی، ساتھ ہی افسوسناک بھی تھا۔ میرا خیال ہے اگر وہ اس Explosiveردعمل کا اظہار نہ کرتے تو معاملات اس حد تک نہ بگڑنے اور اتنی تیزی سے نہ بگڑتے جتنے کہ اب بگڑنے کا خدشہ پیدا ہو چلا ہے۔

مزید برآں نہ صرف خود شاہ نے بلکہ شاہ کے غلاموں نے شاہ سے بڑھ کر اپنی حسِ اطاعت کا جو مظاہرہ کیا اس نے اس معاملے کو اس مقام تک پہنچا دیا جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ ہو۔ان درباری خدام کی طرف سے یہ مزاحمانہ اور جارحانہ بلکہ احمقانہ رویہ ابھی تک جاری ہے۔

کوئی خدا کا بندہ ان کو یہ نہیں سمجھاتا کہ اگر آپ حالتِ جنگ میں ہیں تو جنگ میں جب ایک اٹیک پلان فیل ہو جائے تو متبادل پلان کو آزمایا جاتا ہے۔ اور اگر وہ بھی ناکام ہو جائے تو اس حد تک لچک کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ بادی النظر میں وہ رویہ ایک پسپائی معلوم ہونے لگتا ہے۔

لیکن تاریخ جنگ، ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب ایک فریق نے ایک پلان کی ناکامی کے بعد دوسرا اور دوسرے کی ناکامی کے بعد تیسرا پلان اپنایا اور بالآخر شکست کو فتح میں تبدیل کر دیا!۔۔۔ یہ لچک صرف فوجی کمانڈروں کے پیشے ہی سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ کارزارِ حیات اور میدانِ سیاست کے معرکے بھی ایک حوالے سے حربی معرکے ہیں۔

ان معرکوں کے اصول و ضوابط وہی ہونے چاہئیں جو حالتِ جنگ میں ہوتے ہیں۔ لیکن اگر سابق وزیراعظم نے خود یا ان کے رفقائے کار نے حدیثِ دفاع کا کوئی مطالعہ کیا ہوتا، جنگ و جدال کی کوئی تاریخ پڑھی ہوتی، حکمرانوں کے عروج و زوال کے اسباب جانے ہوتے اور شکست و فتح کی وجوہات ان کی نظر میں ہوتیں تو شائد بہتری کی کوئی صورت نکل آتی!

کوئی حکمران، کوئی بادشاہ، کوئی وزیر امیر اور کوئی آمر ہمیشہ کامیاب رہنے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ دنیا بھر کے ممالک کی تواریخ ہمارے سامنے ہیں۔بادشاہت یا خلافت کے ادوار ہوں یا جمہوریت کے، وقت ایک سا نہیں رہتا۔۔۔ جو ملک چار بار مارشل لاؤں کا تجربہ کرچکا ہو اس کو جہاں پانچویں مارشل لاء کو روکنے کے لئے چند انقلابی اقدامات کرنے چاہئیں بلکہ اس قبیل کے دوسرے نسخہ ہائے حکمرانی کا ادراک بھی کرنا چاہیے۔

جب جوڈیشل مارشل لاء کی اصطلاح بھی کسی کے منہ سے نکل کر سامنے آ گئی تھی تو اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔ یکے بعد دیگرے اگر کسی معرکے میں شکستیں شروع ہو جائیں تو دیکھنا چاہیے کہ وجہ کیا ہے۔۔۔ کیا مروجہ ہتھیاروں میں تبدیلی آئی ہے یا موسم اور آب و ہوا تبدیل ہوئی ہے، یاپرانے جنگی حربے (Tactics) ناکام ہوئے ہیں اور نئے حربوں کی ضرورت ہے یا کیا ’’جنرل قسمت‘‘ نامہربان ہو گیا ہے؟افسوس کہ حکومتی پارٹی کی بساط کا کوئی بھی مہرہ ناک کے آگے نہیں دیکھتا ۔

مجھے لگتا ہے ’’جنرل قسمت‘‘ نے نون لیگ کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے!

مزید : رائے /کالم