سستی ذرعی و صنعتی پیداوار کیلئے نئے ڈیموں کی تعمیر ضروری ہے ،اکانومی واچ

سستی ذرعی و صنعتی پیداوار کیلئے نئے ڈیموں کی تعمیر ضروری ہے ،اکانومی واچ

 لاہور(کامرس ڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے نئے ڈیم بنائے بغیر پاکستان اور اسکی معیشت کا کوئی مستقبل نہیں۔صنعتی شعبہ کی بھاری اکثریت کا سب سے بڑا خرچہ توانائی کا بل ہوتا ہے جس میں کمی نہ ہو تو پیداوار مہنگی اوربرامدات مشکل ہو جاتی ہیں۔برامدات بڑھانے کیلئے حکومت کو بار بار مداخلت کرنا پڑتی ہے تاہم اسکے اعلان کردہ پیکجوں کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ملکی ترقی کیلئے سستی توانائی کا حصول ضروری ہے جو ڈیموں کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ جس ملک میں پیداواری لاگت زیادہ ہو وہاں کی برامدی صنعت لازماًمشکلات کا شکار ہوگی۔ایسے ملک میں ملکی و غیر ملکی بزنس مین سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں جس سے روزگار کے مواقع اور محاصل کی صورتحال پر منفی اثر پڑتا ہے۔محاصل نہ بڑھیں تو تجارتی خسارے اور قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پرانے قرضے اتارنے کیلئے نئے قرضے لینا پڑتے ہیں۔دنیا کی دس بڑی کمپنیوں کو دیکھا جائے تو ان میں سے کوئی بھی ٹیکسٹائل کی نہیں بلکہ اکثریت ٹیکنالوجی کی کمپنیاں ہیں مگر اس میدان میں بھی پاکستان بہت پیچھے ہے کیونکہ سرکاری سطح پر ریسرچ ایند ڈویلپمنٹ کو توجہ نہیں دی جاتی جبکہ نجی شعبہ ترقی یافتہ ممالک کی مصنوعات کی نقل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

مزید : علاقائی