پاکستان میں پانی کا بحران تشویشناک حد تک بڑھ گیا ‘ سمال چیمبر

پاکستان میں پانی کا بحران تشویشناک حد تک بڑھ گیا ‘ سمال چیمبر

اسلام آباد(نیٹ نیوز)اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے جو ملکی معیشت کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔دریا اور ڈیم خشک ہو گئے ہیں جبکہ موجودہ پانی بمشکل انسانی ضروریات کیلئے کافی ہے جبکہ فصلوں، باغات اور مویشیوں کیلئے پانی نہیں ہے۔ گنے، کپاس اور چاول کی فصلیں اور کروڑوں مویشیوں کی زندگی خطرات سے دوچار ہیں۔پاکستان کوایسی خشک سالی سے کبھی پالا نہیں پڑا اور اب حکومت کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ملکی آبادی کی بھاری اکثریت کا دارومدار زراعت پر ہے جبکہ خریف کی فصل جو برامدات میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے جو شدید خطرات سے دوچار ہے۔ تربیلا اور منگلا ڈیم خشک ہو چکے ہیں جبکہ دریاؤں میں پانی ساٹھ فیصد کم ہو گیا ہے۔برفباری اور بارش کی کمی کی وجہ سے پانی کی کمی کے آثار کئی مہینے پہلے سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے مگر حکومت یا اپوزیشن نے صورتحال کو بہترکوئی دلچسپی نہیں کی بلکہ سیاست میں مصروف رہیں جبکہ اس دوران ساڑھے دس ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع کر دیا گیا۔

جس کا ایک تہائی بھی بچا لیا جاتا تو ملک میں پانی کی کوئی کمی نہ ہوتی۔اب پانی کی کمی اور موسم گرما کی شدت مل کر ملکی زراعت کو تباہ کر رہی ہیں۔ گزشتہ سال کپاس کی پیداوار میں 11.85 فیصد اضافہ ہوا چاول کی پیداوار میں 8.65 فیصد کا اضافہ ہواجبکہ گنے کی پیداوار میں 7.45 فیصد کا اضافہ ہوا مگر اب ان تینوں فصلوں کا مستقبل انتہائی مخدوش نظر آ رہا ہے۔

جس کا اثر زراعت سے وابستہ کروڑوں عوام، شہری آبادی اور صنعتی شعبہ پر بھی پڑے گا۔ شاہد رشید بٹ نے کہا کہ اس سنگین صورتحال کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہم خود ہیں۔الیکشن میں عوام صرف انھیں ووٹ دیں جو پڑوسی ملک کی سازشوں کا توڑ اور پاکستان کو صحرا بنانے کے عمل کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ورنہ پانی کی کمی کا نتیجہ صوبوں کے مابین کشمکش اور خانہ جنگی کی صورت میں نکلے گا اور ملک کا کوئی مستقبل نہیں رہے گا۔

مزید : علاقائی