’’ ہارڈ ٹاک‘‘

’’ ہارڈ ٹاک‘‘
’’ ہارڈ ٹاک‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بی بی سی ورلڈ نیوز اور بی بی سی نیوز چینل پر پچیس منٹ کے ون آن ون انٹرویو میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان کے انٹرویو پر سوشل میڈیا میں ہماری صحافت ، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا پر ٹاک شوز کی جرنلزم، کے معیار بارے بہت سارے سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ میں بطور صحافی ، کالم نویس اور اینکر ہمیشہ سے قائل ہوں کہ اینکر اور صحافی کی طرف سے ہارڈ ٹاک کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتاکہ اس کے ماتھے پر تیوریاں ہیں، اس کا لہجہ آگ اگل رہا ہے، اس کی باڈی لینگوئج جارحانہ ہے کہ ایک صحافی اور ایک جنگجو میں بہرحال فرق ہونا چاہیے، ہاں ، مگر اسے اپنے سوالوں کے بارے میں واضح ہونا چاہئے کہ وہ کیا پوچھ رہا ہے ، اسے اپنے سوال پر آئیں بائیں شائیں کی بجائے دوٹوک جواب پر اصرار کرنا چاہئے اور اگر جواب نہ مل رہا ہو تو اسے اپنے سوال کو دہرانا چاہئے، جس کے نتیجے میں دیکھنے اور سننے والوں کو سب پتا چل جائے گا، ایک صحافی اور اینکر کا کام یہ کہنا ہرگز نہیں کہ آپ جھوٹے ، کرپٹ اور نوسر باز ہیں۔

مجھے کہنے دیجئے کہ ہارڈ ٹاک کی اینکر زینب بداوی نے کوئی نئے سوال نہیں پوچھے، سوالوں کو انوکھے زاوئیے نہیں دئیے مگر اس نے نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا میں فیورٹ سمجھے جانے والے جناب عمران خان کو گندم کے سوال پر چنوں کی فضیلت بیان نہیں کرنے دی۔ ہمارے اینکروں اور صحافیوں کا المیہ ہے کہ وہ اپنے سوال کے جواب میں لیلیٰ مجنوں کی کسی بھی کہانی پر خاموش ہوجاتے ہیں۔

یہ ایک راز کی بات ہے مگر اس دور میں اب کوئی پروفیشنل سیکرٹ بھی سیکرٹ نہیں رہا توبتانے میں کوئی حرج نہیں کہ جہاں ہمارے صحافی اور اینکرز ایک عشرے سے زائد کی الیکٹرانک میڈیا جرنلزم کے بعدتیز و طرار ہو گئے ہیں وہاں ہمارے ان پیشہ ور سیاستدانوں کو بھی اینکروں اور صحافیوں کے سوالوں کے ساتھ کھیلنے کا ہنر آ گیا ہے۔

ہمارے صحافیوں کا المیہ ہے کہ جہاں وہ خود نرمی کا مظاہرہ کر جاتے ہیں وہاں انہیں ڈرایا اور دھمکایا بھی جا سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ فردوس عاشق اعوان میرے ایک پروگرام میں مدعو تھیں، وہ مخالفین پر کرپشن کے الزام لگا رہی تھیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ دوسروں کا جواب تو میں ان سے ا ن کے انٹرویوز میں لے لوں گا مگر آپ کے سیکرٹر ی نے آپ پر بطور وزیر انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے جوالزامات عائد کئے تھے، ان کی حقیقت کیا ہے۔

وہ اس موقعے کا فائدہ اٹھا کے ان الزامات کی وضاحت دے سکتی تھیں ( اگر کوئی وضاحت ان کے پا س موجود ہوتی) مگر انہوں نے ون آن ون اس پروگرا م میں بریک آنے پر مجھے پنجابی زبان میں دھمکانے کو ترجیح دی تھی۔ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ وہ اس ٹی وی چینل کے مالک کی بہن بنی ہوئی ہیں اور پہلے بریک کے بعد وہ خود مجھ سے آن ائیر نمٹیں گی اور پھرانتظامیہ مجھ سے نمٹے گی۔

مجھے یقین تھا کہ ٹی وی چینل کے مالک مجھ سے کسی بھی جینوئن سوال کے پوچھے جانے پر پوچھ گچھ نہیں کریں گے مگر سوال فوری نوعیت کا تھا، میں نے محترمہ پر واضح کیا کہ جب ہم بریک سے واپس آئیں گے تو جیسا ان کا رویہ ہو گا بالکل ویسا ہی جواب میں میرا رویہ ہو گا، اب یہ ان پر منحصر ہے کہ آخری دس ، بارہ منٹ کا پارٹ کس طرح کرتی ہیں۔میرے سوال ان سے پرسنل نہیں ہیں، یہ وہ سوال ہیں جو مجھے ایک صحافی کے طور پر پوچھنے چاہئیں ، نہ پوچھنا اپنے فرض سے کوتاہی ہو گی۔

بی بی سی کے اینکرز کو خواہش نہیں ہو گی کہ عمران خان کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے ان کی تصویر بنے جسے وہ اپنے سوشل میڈیا پر شئیر کر سکیں۔ ہمارے ہاں یہ خواہش بھی صحافتی اقدار کی ایسی تیسی کرنے میں ا ہم کردارادا کرتی ہے۔ میں نے صحافیوں کو مختلف شخصیات کے ساتھ جھک کے ملتے ہوئے دیکھا ہے، نجانے وہ ملتے ہوئے جھکتے کیوں ہیں۔

مجھے ہارڈ ٹاک کے مواد پر جانے سے پہلے صرف اتنا کہنا ہے کہ جب ہم صحافی ہیں تو ہمیں سوال ضرور کرنے ہیں، ہاں ، یہ ضرور ہے کہ سوال کا انداز اور الفاظ دونوں ہی جارحانہ نہیں ہونے چاہئیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف، جن سے ایک طویل عرصے تک اچھا پروفیشنل تعلق رہا، کا میں نے آخری انٹرویو کیا تو انہوں نے انٹرویو ختم ہوتے ہی یہ شکوہ کیا کہ انٹرویو بہت سخت تھاحالانکہ وہ پورا انٹرویو کسی جارحیت کے بغیر میرے اپنے روایتی انداز میں تھا مگرا سکے بعد دوبارہ کبھی انٹرویو کا موقع نہیں ملا۔

ہمارے لوکل اینکر لوگ اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ کسی بھی ایک بڑی شخصیت کو اپنے سوالوں پر اصرار سے بے نقاب کر دیا توپھر ہمیں دوبارہ یہ موقع فراہم نہیں کیا جائے گا، ہمارے نام کے آگے سرخ دائرہ لگا دیا جائے گا۔

زینب بداوی نے کچھ مختلف صحافت نہیں کی صرف اپنے سوالوں کے دوٹوک اور واضح جواب پر اصرار کیا۔ جب وہ عمران خان سے پوچھ رہی تھیں کہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ وفا ق میں آ کے ایک کروڑ نوکریاں فراہم کریں گے تو خورشید شاہ کہتے ہیں کہ آپ نے خیبرپختونخوا میں پانچ برسوں میں پانچ ہزارنوکریاں بھی فراہم نہیں کیں۔ آپ کی ماضی کی کارکردگی آپ کے وعدوں اور دعووں کو مشکوک کرتی ہے۔

اس کے جواب میں خان صاحب کہہ رہے تھے کہ تمام سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا ووٹ بنک دوگنا ہو گیا ہے جو کارکردگی ہی کی وجہ سے ہے۔ اینکر نے اس پر گیلپ کا حوالہ دیا جس میں مسلم لیگ نون کی مقبولیت چھتیس فیصد اور پی ٹی آئی کی چوبیس فیصد ہے اور سوال کیا کہ انہوں نے خیبرپختونخوا میں کتنی یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنائے۔

یہ سوال انتہائی متعلقہ تھے اور دوٹوک جواب کے متقاضی تھے جیسے لاہور میں مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس دور میں انیس یونیورسٹیاں اور دو سوکالجز بنائے ہیں اور جب مسلم لیگی حلقوں سے ثبوت مانگا گیا تو انہوں نے تمام یونیورسٹیوں کے ناموں کی فہرست شئیر کر دی۔

زینب بداوی نے صرف ایک کام کیا کہ انہوں نے بغیر کسی بدتمیزی کے اپنے سوال کے حقیقی جواب پر اصرار کیا جس نے خان صاحب کے موقف کے بودے پن اور آئیں بائیں شائیں کو سب کے سامنے کھول کے رکھ دیا، اسے ایک سیاستدان عمران خان کا انٹرویو کرتے ہوئے ان کے پچیس چھبیس برس پہلے ورلڈ کپ جیتنے، کسی شوکت خانم نامی ہسپتال کی تعمیر یا ان کے مخالف نواز شریف کے ذکر میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آ رہی تھی۔میں یہاں پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سوال ا ور اس کے غیر متعلقہ جواب کو بوجوہ ڈسکس نہیں کرنا چاہتا۔

اس انٹرویو نے پاکستانی صحافت کی کمزوریوں اور خامیوں کو ظاہر کیا ہے جو ہمہ جہت ہیں۔ اب پاکستان میں صحافت بھی کارپوریٹ کلچر کی حامل ایک انڈسٹری ہے جس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں مگر مجھے حیرت ہوئی جب پاکستان میں ایک بڑے چینل پر بڑا پروگرام کرنے والے اینکر نے اس پر برافروختہ ہوتے ہوئے ٹوئیٹ کیا کہ عمران خان نے بی بی سی کو انٹرویو دیا، اس پر تنقید کرنے والے نواز شریف سے بھی کہیں کہ وہ بھی اسی صحافی کو انٹرویو کا ٹائم دے دیں، وہ انٹرویو کا ٹائم مانگ رہی ہے ، ہمیں اسی ہارڈ ٹاک میں نوا ز شریف کے انٹرویو کا انتظار رہے گا۔ میں نے فوری طور پر ٹوئیٹر کے اکاونٹ کو چیک کیا کہ میں اسی بڑے ، معروف اور تجربہ کاراینکر کے ٹوئیٹ کو پڑھ رہا ہوں یا میں نے غلطی سے فواد چودھری کو فالو کر لیا ہے۔

مزید : رائے /کالم