مسلم لیگ (ن) کے امیداوار فائنل ، پیپلز پارٹی کا سندھ سے امیدواروں کا اعلان

مسلم لیگ (ن) کے امیداوار فائنل ، پیپلز پارٹی کا سندھ سے امیدواروں کا اعلان

 لاہور (جنرل رپورٹر ،آن لائن) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ ن کے زیادہ تر امیدواروں کی لسٹ فائنل کر لی گئی مسلم لیگ ن کے امیدوارون کا اعلان دو مرحلوں مین کیا جائے گا ۔ شہباز شریف ،حمزہ اور مریم نے پارلیمانی بورڈ کو ٹکٹ کیلئے انٹرویودئیے۔ذرائع کے مطابق این اے 131 سے خواجہ سعد رفیق این اے 125 سے سردار ایاصادق اور پرویز ملک کا نام تجویز کیا گیا ہے این اے 125 سے میاں مرغوب اور وحید عالم کا نام بھی تجویز کیا گیا ہے این اے 126 سے میاں مرغوب،مہر اشتیاق اور رانا مشہود کے نام تجویز کئے گئے ہیں اسی طرح این اے 127 سے مریم نواز مضبوط امیدوار ہونگی این اے 128 سے شیخ روحیل اصغراور سہیل شوکت بٹ کا نام تجویز کیا گیا ہے این اے 129 سے سلمان رفیق ،سردار ایاز صادق ،سہیل شوکت کا نام تجویز کیا گیاہے این اے 130 سے خواجہ احمد حسان ،سردار ایاز صادق کا نام تجویز کیا گیا ہے این اے 130 سے زعیم قادری ،حافظ نعمان کے نام بھی زیر غور ہیں این اے 133 سے ایاز صادق،پرویز ملک اور عمران نذیر کا نام تجویز کیا گیاہے این اے 134 سے شازیہ مبشر،خواجہ عمران نذیر ودیگر کے نام پر غور ،این اے 135 سے سیف الموک کھوکھر الیکشن لڑینگے،این اے 136 سے ملک افضل کھوکھر ،سردار عادل عمر کے نام پر غور کیاگیا،این اے 136 سے چوہدری عبدالغفور کے نام پر غور کیا گیا سابق صوبائی وزیر میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان کو پی پی147،سابق صوبائی وزیرخوراک بلال یاسین کو پی پی150 سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق پی پی 157 سے میدان میں اترنے پر غور کر رہے ہیں جبکہ یاسین سوہل کو پی پی 162 اور میاں نصیر احمد کو پی پی 163 سے ٹکٹ دیا جائے گا پارٹی ذرائع کے مطابق پی پی 144 سے ملک ریاض، غزالی سلیم بٹ، سمیع اللہ، پی پی 145 سے ملک ریاض، غزالی بٹ، عمران گورائیہ اور رانا احسن شرافت کے نام تجویز کئے گئے ہیں پی پی 148 سے چودھری شہباز احمد، غزالی بٹ اور باؤ اختر جبکہ پی پی 149 سے ماجد ظہور، وحید عالم خان، میاں مرغوب احمد، سید محمد عظمت کے نام زیر غور ہیں پی پی 151 سے میاں نعمان، میاں مرغوب احمد، شعیب خان نیازی، بجاش نیازی، چودھری باقر، پی پی 152 سے رانا مشہود ، شعیب خان نیازی، میاں مرغوب احمد، پی پی 153 سے خواجہ عمران نذیر اور باؤاختر علی کے نام پر مشاورت جاری ہے پی پی 154 سے چودھری علی عدنان، باؤ اختر علی، ملک وحید، خرم روحیل، وحید گل اور میاں نوید انجم میں سے کسی ایک کو ٹکٹ دی جائے گی فہرست کے مطابق پی پی 155 کے لئے غلام حبیب اعوان، رانا تجمل حسین، منیب علیم اعوان کے نام کی تجویز کیے گئے ہیں۔ پی پی 156 سے ملک وحید، رانا تجمل حسین، چودھری علی عدنان، پی پی 158 سے خواجہ سلمان رفیق، انجم بٹ، محمد علی میاں، پی پی159سے حافظ میاں نعمان، خواجہ احمد حسان، رانا احسن شرافت، زبیر گل اور محمد علی میاں دوڑ میں شامل ہیں۔پی پی 160 سے سید توصیف شاہ، حافظ نعمان، پی پی 161 سے فیصل سیف کھوکھر کو پارٹی ٹکٹ دئیے جانے کاامکان ہے۔ پی پی 164 سے زین شوکت، ملک غلام حبیب اعوان،سہیل شوکت بٹ، پی پی 166 سے خواجہ عمران نذیر یا رمضان صدیق بھٹی الیکشن لڑیں گے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی 167 سے میاں محمد سلیم، سید زعیم حسین قادری، پی پی168 سے رمضان صدیق بھٹی، خواجہ عمران نذیر، رانا خالد قادری، پی پی 159 سے رانا خالد قادری، اختر بادشاہ، چودھری نواز اور رانامبشر اقبال کے نام زیر غور ہیں پی پی 170سے وحید عالم خان، میاں محمد سلیم، رانا مبشر اقبال اور پی پی 171 سے چودھری گلزار گجر، چودھری عبدالغفور، سردار عادل عمر، مرزا جاوید، پی پی 172 سے سلمان شہباز، چودھری عبدالغفور، مرزا جاوید کے نام تجویز کئے گئے ہیں بورڈ نے گزشتہ روز ان تمام ناموں پر غور کرکے حتمی نام فائنل کر لئے ،دریں اثنا پارلیمانی بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ بہت کم لوگ جو فصلی بٹیرے تھے وہ مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کرگئے ہیں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں لوگ خود دیکھتے ہیں کہ یہاں کام ہوا ہے اور صوبے میں جتنے ترقیاتی کام پچھلے 10 سالوں میں ہوئے ہیں ، اتنے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بہت کم لوگ جو فصلی بٹیرے تھے وہ مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کرگئے ہیں اور کہا جارہا تھا حکومت جائے گی تو جانے والوں کی لائنیں لگ جائیں گی۔مسلم لیگ (ن) کے قائد کا کہنا تھا کہ نگران حکومت آگئی مگر میں نے کسی جگہ لائن نہیں دیکھی، اس طرح کے منفی پراپیگنڈے سیاست میں ہوتے رہتے ہیں اور جب سے سیاست میں ہوں ایسامنفی پراپیگنڈہ دیکھ رہا ہوں۔ان کا کہنا تھا محاذ کا نعرہ لگانے والوں کا تعلق مسلم لیگ ن سے نہیں تھا، دو دن میں ان کا محاذدم توڑ گیا اور محاذ بنانے والے پھر دوسری پارٹی میں چلے گئے لیکن سنا ہے وہاں بھی یہ لوگ غیر مطمن ہیں۔نوازشریف کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے گرمی سردی دیکھے بغیر کام کیا، آپ پر لوگوں نے مختلف الزامات لگائے مگر سب چیزیں جھوٹ ثابت ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد کے سوا پاکستان میں میٹرو بس کہیں نہیں ہے۔دریں اثناء مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے انتخابات 2018ء میں کراچی کے تین حلقوں سے کاغذاتِ نامز د گی حاصل کر لئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کراچی کے تین حلقوں سے الیکشن لڑیں گے۔ کا غذ ا تِ نا مزدگی حاصل کر لئے گئے، آج وہ خود جمع کرانے پہنچیں گے۔شہباز شریف کے کراچی کے تین حلقوں سے الیکشن لڑنے کی منظوری مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے اجلا س میں دی گئی۔ صدر ( ن) لیگ کراچی کے حلقوں این اے 248، 249 اور 250 سے الیکشن لڑیں گے۔ ان کے کاغذاتِ نامزدگی لیگی رہنما سلیم ضیاء نے حا صل کیے۔ شہباز اس کے علاوہ لاہور کے حلقہ این اے 132، 192 ڈی جی خان اور این اے 3 سوات سے بھی قسمت آزمائی کرینگے ۔ اس حوالے سے سینیٹر سلیم ضیاء کا کہنا تھا عوام نے شہباز شریف کے امیدواروں کو ووٹ دیا تو 6 ماہ میں تقدیر بدل دیں گے۔ یہاں میندیٹ لینے والوں نے شہرکیلئے کیا کیا، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے شہر کا امن بحال نہیں کیا جبکہ شہباز شریف ایک ماہ میں چھ بار کراچی آئے ہیں۔قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 248 ماڑی پور، گابوپٹ، ہاکس بے، مشرف کالونی، بدھنی گوٹھ، کسٹم ہاؤس، پی اے ایف بیس مسرور اور مواچھ گوٹھ پر مشتمل ہے، این اے 249 بلدیہ ٹاؤن جبکہ این اے 250 سائٹ سب ڈویژن اور اورنگی ٹاون پر مشتمل ہے۔ یاد رہے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی اس سے قبل کراچی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

ن لیگ

کراچی (سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ) پیپلز پارٹی نے عام انتخابات کیلئے امیدواروں کا اعلان کر دیا۔ قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے 160 ٹکٹ جاری، این اے 246 لیاری سے بلاول بھٹو زرداری امیدوار ہونگے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے عام انتخابات کے لیے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری این اے 213 بے نظیر آباد سے امیدوار ہونگے۔ چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو قومی اسمبلی کے حلقے این اے 200 اور 246 سے الیکشن لڑیں گے۔ سابق قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ این اے 206 سکھر سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ فریال تالپر پی ایس 10 لاڑکانہ سے پیپلز پارٹی کی امیدوار ہونگی۔ شرجیل انعام میمن پی ایس 63 حیدر آباد سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ سابق وفاقی وزیر نوید قمر این اے 228 ٹنڈو محمد خان سے الیکشن لڑیں گے جبکہ سابق وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پی ایس 80 سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔این اے 236 سے جام عبدالکریم جوکھیو، این اے 237 سے عبدالحکیم بلوچ، این اے 238 سے آغا رفیع اللہ، این اے 239 سے سید عمران حیدر عابدی، این اے 240 سے شیخ محمد فیروز، این اے 241 سے معظم علی قریشی، این اے 242 سے اقبال ساند، این اے 244 سے کرنل اسد عالم نیازی اور این اے 243 سے شہلا رضا عمران خان کے مدمقابل امیدوار ہونگی۔اعلامیہ کے مطابق این اے 245 سے فرخ نیاز تنولی، این اے 247 سے عبدالعزیز میمن، این اے 248 سے عبدالقادر پٹیل، این اے 249 سے قادر خان مندوخیل، این اے 250 سے علی احمد، این اے 251 سے حاجی محمد جمیل ضیاء4 ، این اے 253 سے امجد اللہ خان، این اے 254 سے دانش ترابی، این اے 255 سے ظفر صدیقی اور این اے 256 سے اداکار ساجد حسن بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہونگے۔ادھر پیپلز پارٹی نے این اے 35 اور پی کے 88 کے لیے یاسمین صفدر کو ٹکٹ جاری کر دیے ہیں۔ یاسمین صفدر این اے 35 سے عمران خان اور اکرم درانی کے مدمقابل انتخاب میں حصہ لیں گی۔

پیپلز پارٹی

مزید : صفحہ اول