سرگودھا ، ٹکٹوں کی تقسیم پر ہلچل ، کارکنوں کے اپنی ہی پارٹیوں پر الزامات

سرگودھا ، ٹکٹوں کی تقسیم پر ہلچل ، کارکنوں کے اپنی ہی پارٹیوں پر الزامات

 سرگودھا(سجاد اکرم) مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد ضلع سرگودھا میں ایسی سیاسی ہلچل مچی ہے جس کا امیدوار اور ووٹر تصور نہیں کر پا رہے تھے، جس پر نا صرف کئی امیدوار (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کی قیادت پر ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم کا الزام لگا رہے ہیں بلکہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ میرٹ سے ہٹ کر دی جانے والی ٹکٹوں پر نامزد کیے گئے دونوں جماعتوں کے امیدوار کامیاب نہیں ہو پائیں گے، سیاسی ورکر الگ سے اس سلسلہ میں لابنگ میں لگے ہوئے ہیں اور سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے ٹکٹ نہ ملنے والے امیدواروں کے حق میں ہنگامہ برپا ہے۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ نے سرگودھا کے چیمہ خاندان کو 4 ٹکٹ جاری کیے ہیں، جو ملک میں پی ٹی آئی کی طرف سے ایک ہی خاندان کو دیئے جانے والے سب سے زیادہ ٹکٹ ہیں۔ جس پر چیمہ خاندان خوشی سے جھوم رہا ہے۔مسلم لیگ (ن) نے پیر امین الحسنات کی قربانیوں کو نظر انداز کر دیاجبکہ یہ گھرانہ ایک طویل عرصہ سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے، بھیرہ کے پیروں کا شمار آستانہ عالیہ سیال شریف کے مریدین میں ہوتا ہے ختم نبوت ؐتحریک میں پیر امین الحسنات نے پیر آف سیال شریف خواجہ حمید الدین سیالوی کے مسلم لیگ (ن) کے خلاف چلائی گئی تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا، جس پر پیر حمید الدین سیالوی ان سے ناراض ہیں، پیر آف بھیرہ شریف (ن) لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے اپنا سیاسی مستقبل بچانے کیلئے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں،یہ آئندہ 72 گھنٹوں میں واضح ہو جائے گا کہ وہ اپنے (ن) لیگی قائدین کے حکم کی پاسداری کرتے ہیں یا پھر آزاد حیثیت سے میدان میں اترتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 89 میں سابق وفاقی وزیر پارلیمانی امور محسن شاہنواز رانجھا کو (ن) لیگ نے ٹکٹ دیا ہے، جبکہ اس حلقہ میں پی ٹی آئی نے سابق وفاقی وزیر غیاث احمد میلہ مرحوم کے بیٹے اسامہ غیاث میلہ کو میدان میں اتارا ہے، جبکہ سابق ایم پی اے اسلم مڈھیانہ اس حلقہ سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے،اس حلقہ میں دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ میونسپل کمیٹی کوٹ مومن کا چیئرمین پی ٹی آئی سے ہے۔ جبکہ اس حلقہ سے منسلک پی پی 75 سے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ عمر فاروق کلیار کو دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے باقی 5 امیدواروں نے متفقہ طور پر میاں اکرام کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے، جو آزاد حیثیت سے انتخاب لڑیں گے۔ جبکہ (ن) لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے پر نالاں سابق صوبائی وزیر مہر دستگیر خان لک نے مسلم لیگ (ن) کو خیر آباد کہہ کر نا صرف پی پی 73 سے آزادحیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے بلکہ واضح کیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کی نشست پر محسن شاہنواز رانجھا کی بھر پور مخالفت کریں گے اور پی ٹی آئی کے امیدوار اسامہ غیاث میلہ کو سپورٹ کریں گے۔این اے 90 سے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری چوہدری حامد حمید کو اوکے ہو گیا ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی قیادت اس حلقہ میں ابھی تک ٹکٹ جاری کرنے میں تذبذب کا شکار ہے اور ٹکٹ کے لئے (ن) لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہونے والی ڈاکٹر نادیہ عزیز اور سابق امیدوار پی ٹی آئی ممتاز اختر کاہلوں کے مابین کھینچا تانی جاری ہے۔ اس حلقہ میں پیپلز پارٹی نے سابق وفاقی وزیر مملکت تسنیم احمد قریشی جبکہ ایم ایم اے کے ڈاکٹر ارشدشاہد کو میدان میں اتارا ہے۔ خواجہ سراء نینا لعل بھی جیت کی امید کے ساتھ اس حلقہ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ ضلع سرگودھا کا یہ واحد حلقہ ہے جس میں پی ٹی آئی کے دو دھڑوں سابق ایم پی اے ڈاکٹر نادیہ عزیز اور ممتاز اختر کاہلوں کے ورکروں کے مابین سوشل میڈیا پر جنگ چھڑی ہوئی ہے اور شہر میں ڈاکٹر نادیہ عزیز کے خلاف بینر بھی لگوائے گئے جن پر انہیں لوٹا قرار دیا گیا۔ نادیہ عزیز کے حامی ممتاز اختر کاہلوں پر پارٹیاں بدلنے کا الزام لگا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ حلقہ میں ابھی تک امیدوار فائنل نہیں کیا گیا۔ این اے 91 میں مسلم لیگ (ن) نے سابق ایم این اے ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کو ٹکٹ دیا، جن کا مقابلہ چیمہ خاندان کے سابق صوبائی وزیر عامر سلطان چیمہ جو کہ (ق) لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں سے ہو گا۔ اس حلقہ سے پی پی پی کے طارق گجر اور جماعت اسلامی کے فرحان گجر امیدوار ہیں۔ این اے 91 سے منسلک پی پی 76 سے ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی اپنے بیٹے نجف علی بھٹی کو (ن) لیگ کا امیدوار متعارف کرا رہے ہیں۔ جبکہ پی پی 76 سے سابق ایم پی اے کامل شمعیل گجر، حال ہی مسلم لیگ (ن ) میں شامل ہونے والے محمد علی گجر بھی (ن) لیگ کے ٹکٹ کے امیدوار ہیں۔ یہاں صورتحال ٹکٹ کا اعلان ہونے پر صورتحال واضح ہو گی اگر ڈاکٹر نجف علی بھٹی کو ٹکٹ دیا گیا تو پھر کامل شمعیل گجر اور سابق امیدوار قومی اسمبلی محمد علی گجر جنہیں مسلم لیگ (ن) نے ٹکٹ دینے کا آسرا کرا رکھا ہے، اپنی آئندہ حکمت عملی ترتیب دیں گے؟ این اے 92 میں مسلم لیگ (ن) نے سابق ایم این اے شفقت خان بلوچ کو ٹکٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے اس حلقہ سے ریٹائرڈ ڈی آئی جی ظفر احمد قریشی کو میدان میں اتارا ہے، سابق ایم این اے جاوید حسنین شاہ آزاد حیثیت سے اس حلقہ سے الیکشن لڑینگے،2013 کے انتخاب میں سابقہ ایم اے 68، موجودہ این اے 92 سے اس وقت کے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے الیکشن لڑا تھا، اور ایک لاکھ ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے اس وقت میاں نواز شریف کے مد مقابل پی ٹی آئی کو امیدوار نہیں مل رہا تھا تو میاں نواز شریف کے خلاف الیکشن لڑنے کی قربانی نور حیات کلیار نے دی تھی اور 60 ہزار کے لگ بھگ ووٹ حاصل کیے تھے، پی ٹی آئی نے نور حیات کلیار کو درگزر کر کے ٹکٹ (ر) ڈی آئی جی ظفر احمد قریشی جنہوں نے اپنا سیاسی سفر پی ٹی آئی سے شروع کیا ہے کو دیا ہے۔ جس پر پی ٹی آئی کے نور حیات کلیار نالاں نالاں نظر آ رہے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ آزاد حیثیت سے میدان میں اتریں گے۔ جبکہ اس حلقہ سے پیر آف سیال شریف حمید الدین سیالوی کے حکم پر سابق ایم پی اے نظام الدین سیالوی نے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے جس کی وجہ ختم نبوت تحریک کے علاوہ سابق ایم این اے شفقت خان بلوچ اور سیالوی خاندان میں اختلافات ہیں۔اس صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شفقت خان بلوچ کو پیر آف سیال شریف کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ اس حلقہ میں پیر آف سیال شریف کا مریدین اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد ووٹر ہے۔ پی پی 80 سے پی ٹی آئی نے علی اصغر لاہڑی کو امیدوار نامزد کیا ہے، مسلم لیگ (ن) اس حلقہ میں انتشار کا شکار ہے سابق ایم پی اے نظام الدین سیالوی نے الیکشن لڑنے سے معذرت کر لی ہے، یہ فیصلہ نظام الدین سیالوی نے پیر حمید الدین سیالوی کے حکم پر کیا ہے۔ جنہوں نے ختم نبوت کے مسئلہ پر مسلم لیگ (ن) کو ووٹ نہ دینے کا فتویٰ دے رکھا ہے۔ این اے 92 سے (ن) لیگی امیدوار شفقت خان بلوچ ایم پی اے کے امیدوار کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ منیر احمد قریشی کو اس حلقہ سے (ن) لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لئے آمادہ کر لیا جائے۔ تا ہم اس حلقہ میں آزاد حیثیت سے سابق ایم این اے جاوید حسنین شاہ ایم پی اے کے امیدوار بھی ہیں۔ پی پی 81 میں مسلم لیگ (ن) نے سابق ایم پی اے بہادر عباس میکن کو ٹکٹ جاری کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے سابق تحصیل ناظم شاہپور افتخار گوندل کو میدان میں اتارا ہے، پی ٹی آئی نے اس حلقہ میں سردار آصف میکن اور سردار شہزاد میکن جو کہ پی ٹی آئی کے دیرینہ ورکر ہیں کو نظر انداز کیا ہے، تا ہم افتخار گوندل اچھی شہرت کے مالک ہیں، اگر پی ٹی آئی کے نظر انداز کیے گئے امیدواروں میں سے کوئی آزاد کھڑا نہ ہوا تو اس حلقہ میں (ن) لیگ اور پی ٹی آئی میں گھمسان کا مقابلہ ہو گا۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی طرف سے ٹکٹوں کے اعلان کے بعد ضلع میں دونوں جماعتوں کے ٹکٹ نہ ملنے والے امیدوار نئی سیاسی صف بندیوں میں مصروف ہیں،لک برادری اپنا امیدوار میدان میں اتارنے کے لئے کوشاں ہے تو این اے 88 سے پیر امین الحسنات اور پیر فاروق بہاؤالحق آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کے لئے صلاح و مشورے کر رہے ہیں۔ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کا مرحلہ آج 11 جون کو مکمل ہو جائے گا۔ اور مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے ٹکٹوں سے محروم رہنے والے امیدواروں کی اکثریت آزاد حیثیت سے پینل بنا کر میدان میں ہو گی۔ اس سلسلہ میں سیاسی پنڈت متحرک ہو چکے ہیں اور الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی آپس میں دوریاں ختم کرانے کیلئے تگ و دو شروع کر دی گئی ہے۔ آئندہ چند روز میں ضلع کے سیاسی میدان میں نئی ہلچل دیکھنے میں آئے گی، جو ضلع کی سیاست کو ایک نیا رخ دے دی گی، اور تذبذب کا شکار ووٹروں کی روح کو بھی سکون آ جائے گا اور وہ طے کر پائیں گے کہ ووٹ کسے دینا ہے؟۔

سرگودھا کی سیاستر

مزید : صفحہ اول