اوکاڑہ : ’’نون‘‘ اور ’’جنون‘‘ میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ،4حلقوں سے درجنوں امیدوار

اوکاڑہ : ’’نون‘‘ اور ’’جنون‘‘ میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ،4حلقوں سے ...

 اوکاڑہ(بیورورپورٹ+ڈسٹرکٹ رپورٹر) اوکاڑہ انتخابی سرگرمیاں شروع"نون"اور "جنون"میں کانٹے دار مقابلوں کی توقع ہے ضلع اوکاڑہ کے چار قومی اسمبلی کے حلقوں میں درجنوں اُمیدواروں نے انتخابات 2018 ؁ء میں حصہ لینے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے،مسلم لیگ(ن) نے چاروں قومی اسمبلی کی سیٹوں پر اپنے اُمیدوار کھڑے کئے ہیں،جبکہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں اپنے اُمیدوار کھڑے کر نے کا اعلان کیا ہے،ضلع اوکاڑہ کا حلقہ این اے144جوکہ میاں منظور احمد خاں وٹو کا آبائی حلقہ ہے،جبکہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کا حلقہ این اے143کے اُمیدوار کا فیصلہ پینڈنگ رکھا جارہاہے، حلقہ این اے143اور حلقہ این اے144سے میاں منظوراحمد خاں وٹو تحریک انصاف کی طرف سے الیکشن لڑنے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے، باوثوق ذرائع کے مطابق اوکاڑہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظوراحمد خاں وٹو نے دو قومی اور ایک صوبائی اسمبلی سے سیٹ کے لئے آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں، میاں منظوراحمد خاں وٹو قو می اسمبلی کے د وحلقے این اے 143 اور این اے 144جبکہ صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 186سے آزاد حیثیت سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں،جبکہ ان صاحبزادے سابق ممبر صوبائی اسمبلی خرم جہانگیر وٹو نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے143اور حلقہ این اے144سے آزاد حیثیت سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں اور میاں منظوراحمد خاں وٹو کی صاحبزادی روبینہ شاہین و ٹو نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ185کے لئے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں،جبکہ انکی دوسری صاحبزادی جہاں آراء وٹو نے بھی پی پی184سے کاغذات نامزدگی برائے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے کرائے ہیں، منظوراحمد خاں وٹو مضبوط عزم کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں گے،دیکھنا یہ ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب اپنے بیٹے اور صاحبزادیوں کے ہمراہ آزاد حیثیت سے انتخابات 2018میں حصہ لیتے ہیں یاکسی سیاسی جماعت کو جوائن کر تے ہیں،حلقوں کی عوام کو فیصلے کا بڑی نے چینی سے انتظار ہے۔تاہم مو جودہ سیاسی تناظر میں ضلع اوکاڑہ کے4قومی اسمبلی کے حلقوں سے حلقہ این اے141اوکاڑہ (ون) سے تحریک انصاف کے اُمیدوار پیر صمصام علی شاہ بخاری کا مقابلہ مسلم لیگ(ن) کے اُمیدوار چوہدری ندیم عباس ربیرہ سے ہونے کی توقع ہے،حلقہ این اے142اوکاڑہ(ٹو)سے تحریک انصاف کے اُمیدوار راؤ حسن سکندر کا مقابلہ مسلم لیگ(ن) کے اُمیدوار چوہدری ریاض الحق جج سے ہو نے کی توقع ہے،حلقہ این اے143اوکاڑہ (تھری) سید گلزار سبطین پی ٹی آئی،راؤ محمد اجمل مسلم لیگ(ن)،میاں منظور احمد خاں وٹو آزاد اُمیدوار وں میں مقابلہ کی توقع ہے ،تاہم اس حلقہ سے اگر پی ٹی آئی میاں منظور احمد خاں وٹو کو ٹکٹ دیتی ہے تو سید گلزار سبطین اس حلقہ کے انتخابی معرکے سے باہر ہو جائیں گے ۔جبکہ حلقہ این اے144جوکہ میاں منظوراحمد خاں وٹو کا ،پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر یا آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے مسلم لیگ(ن) کے اُمیدوار میاں معین احمد خاں وٹو سے مقابلہ کی توقع ہے تاہم ضلع اوکاڑہ میں آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتیں کیا فیصلہ کرتی ہیں واضح ہو جائے گا،جبکہ پیپلزپارٹی کی طرف حلقہ این اے 141سے رائے غلام مجتبیٰ کھرل نے اپنے کاغذات نامزدگی بھی جمع کر ائے ہیں،تاہم ضلع اوکاڑہ میں "نون"اور" جنون"کے مابین ہی سخت مقابلے ہونے کی توقع ہے، جبکہ حلقہ این اے141سے چوہدری خلیل الرحمن کے علاوہ درجنوں اُمیدواروں نے آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں کا غذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ گذرنے کے بعد اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے اپنے اپنے اُمیدواروں کی نامزدگی کر نے کے بعدانتخابی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی اور 25جولائی تک اس میں روزبزوز اضافہ ہو تا جائے گا، جس سے حقیقی پر سیاسی رنگ بکھریں گے۔

مزید : صفحہ اول